وقارآباد ضلع میں ایک ہی دن میں 867 ملی میٹر بارش ریکارڈ ، تمام ذخائرآب لبریز، کوٹ پلی، لکھنا پوراور جنٹ پلی پراجکٹ سے زائد پانی کا اخراج

وقارآباد ضلع میں ایک ہی دن میں 867 ملی میٹر بارش ریکارڈ
تانڈور کی کاگنا ندی کا قدیم بریج ٹوٹ گیا، تمام ذخائرآب لبریز
کوٹ پلی، لکھنا پور اور جنٹ پلی پراجکٹ سے زائد پانی کا اخراج

وقارآباد/تانڈور: 25۔جولائی
(سحر نیوز ڈاٹ کام/نمائندہ)

ریاست تلنگانہ گذشتہ ایک ہفتہ سےشدید ترین بارش کی لپیٹ میں ہے۔جس سےعام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے۔وہیں محکمہ موسمیات کی جانب سے جن اضلاع میں شدید ترین بارش کی پیش قیاسی کی گئی ہے ان میں وقارآباد ضلع بھی شامل ہے جہاں گذشتہ ایک ہفتہ سے وقفہ وقفہ سے دھواں دار، ہلکی اور موسلادھار بارش کاسلسلہ جاری ہے۔جس کے باعث ضلع کےمختلف مقامات پر کپاس،مکئی،ہلدی کےعلاوہ مختلف ترکاریوں اور سبزیوں کی فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

وہیں ضلع کے کئی مقامات پر اس بارش کے باعث پہلے ہی سے خراب سڑکوں کی حالت مزید بدتر ہوگئی ہے۔اسی کے ساتھ وقارآباد ضلع میں زائد از چار ہزار ایکڑ اراضی پر موجود سیاحتی مقام اننت گیری ہلز کے جنگلات مزید ہرے بھرے ہوگئے ہیں جس کا نظارہ لائق دید ہے۔جہاں کی چٹانوں سے کئی آبشار بھی جاری ہوگئے ہیں، جنہیں دیکھنے کے لیے مختلف مقامات سے بڑی تعداد میں سیاح اننت گیری ہلز پہنچ رہے ہیں۔

دوسری جانب گذشتہ ایک ہفتہ سےجاری شدید بارش کےدوران گذشتہ رات 7 بجے سے بشمول وقارآباد ٹاؤن ضلع کےکئی مقامات پر دھواں دھار بارش ہوئی۔کل صبح 30-8 بجے سے آج 25 جولائی کی صبح 30-8 بجے تک ضلع وقارآباد میں جملہ 867.6 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔

ضلع میں سب سے زیادہ بارش کوٹ پلی منڈل میں 91.1 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔جبکہ بنٹارم میں 75 ملی میٹر،مومن پیٹ میں 66 ملی میٹر، وقارآباد میں 63.6 ملی میٹر، پوڈور میں 55 ملی میٹر، دھارور میں 52.2 ملی میٹر، مرپلی میں 48.4 ملی میٹر، نواب پیٹ میں 48.2 ملی میٹر، پرگی میں 43 ملی میٹر، پدیمول میں 42.6 ملی میٹر، تانڈور میں 38.8 ملی میٹر، بشیر آباد میں 39.9 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔

اس بارش کے باعث متحدہ ضلع رنگاریڈی (اضلاع وقارآباد، رنگاریڈی اور میڑچل، ملکاجگیری) کا سب سے بڑے آبپاشی کے کوٹ پلی پراجکٹ کی جملہ 24 فیٹ سطح مکمل ہوگئی ہے۔جس کے بعد اس پراجکٹ کے پشتہ سے بڑی مقدار میں زائد پانی کے اخراج کا سلسلہ جاری ہوگیا ہے۔وہیں کوٹ پلی پراجکٹ سے زائد پانی کے اخراج کے بعد ناگ سمندر موضع کےقریب موجود بریج کی سطح پر سےسیلابی پانی کے گرزنےکےباعث سڑک رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔

کوٹ پلی پراجکٹ سے خارج ہوکر سیلابی پانی براہ ناگ سمندر، دھارور کوکٹ، تانڈور کی کاگنا ندی میں پہنچ رہا ہے جس کی وجہ سے کاگنا ندی میں بھی سیلا بی پانی ٹھاٹھیں مار رہا ہے۔اس سیلابی پانی سے کاگنا ندی میں موجود نظام دور حکومت میں تعمیر کردہ قدیم بریج کا ایک حصہ ٹوٹ کر بہہ گیا ہے۔گذشتہ سال 27 جولائی کو بھی اس قدیم بریج کا یہی حصہ ٹوٹ کر بہہ گیا تھا۔

کاگنا ندی میں سیلابی پانی کے آمد میں اضافہ کے باعث بعدازاں یہ قدیم بریج سیلابی پانی میں مکمل طور پر غرق ہوگیاہے۔یاد رہےکہ سال 2016ء سے اس کاگنا ندی کے قدیم بریج کا یہی حصہ آج تک پانچویں مرتبہ ٹوٹ کر بہہ چکا ہے۔!!جس کی عارضی طور پر مرمت کردی جاتی ہے۔

جبکہ تانڈور۔محبوب نگر اہم شاہراہ پر تانڈور سے چار کلومیٹر کے فاصلہ پر موجود کاگنا ندی میں 14 کروڑ روپئے کےصرفہ سےقدیم بریج سے کچھ فاصلہ پر جدید بریج تعمیر کیا گیاہے۔جس کے تعمیری کام تین سال قبل ہی مکمل ہوئے اور اس بریج کا باقاعدہ استعمال بھی کیا جارہا ہے۔لیکن اس کا سرکاری طور پر افتتاح آج تک عمل میں نہیں لایا گیاہے۔اس جدید بریج کی تعمیر سے ہر سال بارش میں قدیم بریج کےباعث عوام کوہونے والی مشکلات سے چھٹکارا حاصل ہوا ہے۔

گذشتہ رات اوپری علاقوں مرپلی،مومن پیٹ،کوٹ پلی، بنٹارم اور پدیمول میں ہونےوالی شدید بارش کےباعث سیاحتی مقام کےحامل کوٹ پلی پراجکٹ جس میں کشتی رانی کی سہولت بھی فراہم ہے مکمل طور پر لبریز ہوگیا ہے۔اسی طرح تانڈور کاجنٹ پلی پراجکٹ اور پرگی میں موجودلکھنا پور پراجکٹ بھی لبریز ہوچکا ہے۔ان تمام پراجکٹوں کے پشتوں سے بھی خارج ہونے والے پانی کی چادریں خوبصورت نظارہ پیش کر رہی ہیں۔جسے دیکھنے کے لیے بڑی تعداد میں لوگ ان پراجکٹوں پر پہنچ رہے ہیں۔