کیا آپ جانتے ہیں کہ دلیپ کمار آزادی سے قبل جیل بھی گئے تھے،جنہیں انگریز جیلر نے گاندھی والا کہا تھا!!

کیا آپ جانتے ہیں کہ دلیپ کمار آزادی سے قبل جیل بھی گئے تھے!

جنہیں انگریز جیلر نے گاندھی والا کہا تھا!!

دلیپ کمار غیرمنقسم ملک کے ممتاز مجاہد آزادی خان عبدالغفار خان (بادشاہ خان) سے ملاقات کرتے ہوئے۔(فائل فوٹو)

ممبئی:07۔جولائی (سحرنیوز ڈاٹ کام)

افسانوی اداکاروشہنشاہ جذبات دلیپ کمار(یوسف خان) اپنی منفرد اور لاثانی اداکاری کے ذریعہ خود میں ایک انڈسٹری کہے جاتے تھے۔اپنی منفرد اداکاری کے ذریعہ دلیپ کمارفلمی شائقین اور اپنے مداحوں کے دلوں پر انمٹ نقش چھوڑگئے۔

بہت کم لوگ اس بات سے ناواقف ہیں کہ فلم گنگا جمنا میں دلیپ کمار نے ایک گنوار دیہاتی کا رول اتنی خوبی کے ساتھ نبھایا تھا کہ اس وقت کے ان کے ساتھی اداکار راج کپور نے انہیں فون کرکے کہاتھا کہ ” لاڈے،تم آج تک کے سب سے عظیم فنکار ہو۔

بالی ووڈ کے دو عظیم اداکار دلیپ کمار اور راج کپور۔

کیا آپ اس بات سے واقف ہیں کہ ملک کی آزادی سے قبل دلیپ کمار جیل بھی جاچکے ہیں! دراصل دلیپ کمار کی بائیوگرافی”دلیپ کمار،دی سبسٹینس اینڈ شاڈو ” The Substance And The Shadow میں خود دلیپ کمار اس کا انکشاف کرچکے ہیں۔

دلیپ کمار بننے سے قبل یوسف خان کی پونہ کے ایئر فورس کینٹن میں پھلوں کی دُکان تھی ۔ اپنی بائیو گرافی میں دلیپ کمار لکھتے ہیں کہ ایک دن میں نے ایک تقریر میں ہندوستانی عوام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کے عوام عدم تشدد کے پیروکار اور انتہائی محنتی ہیں۔


میری یہ باتیں سن کر وہاں موجود دیگر ہندوستانیوں نے تالیاں بجانا شروع کردیں، اور میں اس پر بہت خوش ہورہا تھا کہ اچانک چند برطانوی فوجی ہتھکڑیاں لےکر آگئے اور مجھے ہتھکڑی پہنادی کیونکہ میرے خیالات انہیں مخالف انگریز محسوس ہوئے تھے۔

دلیپ کمار کے مطابق انہیں پونے کی یروواذا جیل منتقل کیا گیا جہاں انہیں دیکھ کر جیلر نے پوچھا کہ ایک اور گاندھی والا؟
مجھے اس وقت سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیوں ایسا کہہ رہا ہے!

لیکن جب میں اس جیل کے سیل میں پہنچا تو مجھے معلوم ہوا کہ اس سیل میں اور بھی لوگ موجود تھے جو برطانوی حکمرانی کے خلاف تھے جن کو جیلر گاندھی جی کے پیروکار کہتے تھے، اسی لیے سب کا نام گاندھی والا رکھا گیا۔

اپنی بائیو گرافی میں دلیپ کمار نے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ جیل میں مجھے گندی پلیٹ میں کھانا دیا گیا تو میں نے کھانے سے بھی انکار کردیا اور سب کے ساتھ بھوک ہڑتال میں شامل ہوگیا۔ بھوک کی شدت کی وجہ میں رات بھر سو نہیں سکا تھا اور رات بھر جاگتا رہا۔ دوسرے دن صبح مجھے جیل سے رہا کردیا گیا۔

دلیپ کمار کی یہی خوبی تھی کہ انہوں نے دوسروں کی طرح اپنی زندگی کے عظیم کارناموں کی کبھی تشہیر نہیں کی اور نہ ہی اس کے ذریعہ اپنا قد مزید بلند کرنے کی کوشش کی۔ یہی خوبی انسان کےعظیم ہونے کی ایک دلیل ہے! دلیپ کمار اب اس دنیا میں نہیں رہے لیکن اپنے کروڑں مداحوں کے دلوں میں ایک اہم مقام بناکر چلے گئے۔