حیدرآباد میں نوجوان کی جلتی ہوئی نعش سے سنسنی
کالا جادو کے لیے بلی چڑھائے جانے کا شبہ!
حیدرآباد:24۔اکتوبر(سحرنیوزڈاٹ کام)
حیدرآباد کے کوکٹ پلی کی کے پی ایچ بی کالونی KPHB#کےحدود میں کالےجادو اور نوجوان کی بلی چڑھائے جانے کے شبہ سےسنسنی اور خوف کا ماحول پیداہوگیا ہے۔نامعلوم افراد نے ایک نوجوان کا قتل کرنے کے بعد اس کی نعش کو جلادیا۔جس سے مقامی عوام میں خوف و دہشت پیدا ہوگئی ہے۔
تفصیلات کےمطابق حیدرنگر کےعلی اتالاب علاقہ میں موجود شمشان گھاٹ میں ایک نامعلوم لاش کو جلتے ہوئے دیکھ کر مقامی افراد پریشان ہوگئے ۔اور انہوں نے محسوس کیا کہ شمشان گھاٹ میں جلتی ہوئی لاش کے قریب کوئی بھی موجود نہیں ہے تو یہ قتل کرنے کے بعد لاش کو جلانے کا معاملہ ہے۔مقامی عوام نے فوری مقامی اس واقعہ کی پولیس کو اطلاع دی۔
مقامی لوگوں کوشبہ ہےکہ کل منگل کوسورج گہن اور اماؤس ہونے کے باعث نامعلوم افراد کالا جادو کرنے کی غرض سے اس نوجوان کی بلی چڑھا دینے کے بعد اس کی لاش کو نذرآتش کرکے فرار ہوگئے ہوں گے۔!!
مقامی عوام نے پولیس کو بتایاکہ قریبی مقام پر کالے جادو کیے جانے کے نشانات پائے گئے ہیں۔جس کے بعد پولیس نے جائے مقام کا معائنہ کیا اور پولیس کو بھی شبہ ہے کہ کالا جادو کرنے کے لیے اس نوجوان کی بلی چڑھائی گئی ہے؟
مقتول اور نذرآتش کیے گئے نوجوان کی شناخت معلوم نہیں ہوپائی ہے۔پولیس نے لاش کو تحویل میں لے لیا اور ایک کیس درج رجسٹر کرتے ہوئے اس سلسلہ میں مختلف زاویوں سےتحقیقات میں مصروف ہے۔جائے مقام پر اسنیفر ڈاگ اور پولیس کلوزٹیم طلب کرلی گئی ہے۔اس واقعہ کے بعد اس علاقہ میں خوف و دہشت پیدا وگئی ہے۔اس معاملہ میں مزید تفصیلات موصول نہیں ہوئی ہیں۔
یاد رہے کہ ریاست کیرالہ میں اسی ماہ ایک جوڑےنے جلد امیر بننے کی خواہش رکھنے والی دو خواتین کو مذہبی رسومات (کالا جادو)کرتے ہوئے بے دردی سے قتل کرکے ان کے جسم کے 56 ٹکڑے کر دئیے تھے۔پولیس کا کہنا تھا کہ اس کیس میں مرکزی ملزم محمد شفیع ہے۔پولیس نے بتایا تھا کہ محمد شفیع نے ہی ان دونوں خواتین کو اس جوڑے کے پاس بھیجا تھا اور ان سے کہا تھا کہ دونوں خواتین کی معاشی مشکلات ختم کر دیں اور انہیں جادو کےذریعہ امیر بننے میں مدد کریں۔محمدشفیع کو ذہنی بیمار بتایا جارہا ہے۔سائنسی دؤر میں بھی توہم پرستی قابل افسوس ہے۔

