وقارآباد ضلع میں کمسن عاشق جوڑے نے ٹرین کے ذریعہ خودکشی کرلی
وقارآباد: 23۔جون(سحرنیوزڈاٹ کام)
عشق،عاشقی اور محبت کے نام پر ان دنوں کمسن اور ناسمجھ لڑکے اورلڑکیاں طالب علمی کے دؤر میں ہی آسانی کے ساتھ موت کوگلے لگانے کے افسوسناک اقدامات میں مصروف ہیں۔جبکہ ان کے والدین لاکھ مصیبتوں کےبعدبھی تعلیمیافتہ بناتے ہوئے سماج میں کھڑا ہونے اور ان کے بہترین مستقبل اور اچھی زندگی کے خواب سجاتے ہوئے خود کی خواہشات کا گلا گھونٹ کر اپنے بچوں کی خواہشات اور ضروریات کو پورا کرتے ہیں۔
لیکن اس سائنسی ترقی کے دؤر میں بھی خودکشیوں کےذریعہ ایسے ناسمجھ اورکمسن بچےجہاں عشق و عاشقی کے چکر میں پڑکر اپنی جانیں گنوا دیتے ہیں۔وہیں اپنے ماں باپ کے سارے خواب اور امیدوں کا بھی خون کرتے ہوئے انہیں زندگی بھرتڑپنے کاسامان پیداکرتے ہیں۔ماہرین نفسیات کے مطابق ایک فرد کی جانب سے خود کشی کرنے پر اس کے رشتہ داروں،قریبی دوستوں سمیت 35 افراد کی زندگیوں پراس کےاثرات مرتب ہوتے ہیں۔

تلنگانہ کے ضلع وقارآباد میں ایسے ہی ایک کمسن عاشق جوڑے کی جانب سے ٹرین کے ذریعہ خودکشی کرلینے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے۔
اس واقعہ کی تفصیلات ہیڈ کانسٹیبل نرسنگ راؤ گورنمنٹ ریلوے پولیس وقارآباد کے مطابق نواب پیٹ منڈل کے موضع کڑی چیرلہ کے ساکن پلے پون کمار(18 سالہ) جو کہ انٹرمیڈیٹ میں زیرتعلیم تھا اور ابھینیا (16 سالہ) جو کہ کوم پلی کے گروکل پاٹھاشالہ میں انٹرمیڈیٹ سال اول کی طالبہ تھی کے درمیان معاشقہ چل رہا تھا۔
ان دونوں نے اول تا چھٹی جماعت ایک ساتھ تعلیم حاصل کی تھی۔اور دونوں شادی کرنا چاہتے تھے لیکن ان کے والدین نے انہیں سمجھایا تھا کہ وہ ابھی نابالغ ہیں ان کی شادی نہیں ہوسکتی تعلیم کی تکمیل کے بعد ہی شادی کے متعلق سوچاجائے گا۔
ہیڈ کانسٹیبل نرسنگ راؤ گورنمنٹ ریلوے پولیس وقارآباد نے بتایا کہ انہیں کسی نے اطلاع دی کہ موضع کڑی چیرلہ کے قریب ریلوے پٹریوں پر ایک نعش پڑی ہے تو وہ دیگر عہدیداران کےساتھ جائے مقام پر پہنچ گئے جہاں لڑکا اور لڑکی دونوں کی نعشیں تھیں جنہوں نے گزشتہ رات حیدرآباد۔اؤرنگ آباد ایکسپریس ٹرین کے ذریعہ خودکشی کرلی۔
ان دونوں کمسن بچوں کے اس انتہائی اقدام کی اطلاع کے بعد ان کے والدین اور موضع میں شدیدغم اور افسوس کی لہر دؤڑ گئی ہے۔وقارآباد ریلوے پولیس نے بعد پنچنامہ دونوں نعشوں کو بغرض پوسٹ مارٹم وقارآباد کے ایریا ہسپتال منتقل کردیا۔اس سلسلہ میں ایک کیس درج رجسٹر کرتے ہوئے مزید تحقیقات کی جارہی ہیں۔

