افغانستان میں زلزلہ: مہلوکین کی تعداد 1,500 تک پہنچ گئی، خاندان میں تنہا بچ جانے والی تین سالہ لڑکی کی وائرل تصویر سےسوشل میڈیا صارفین دہل گئے

افغانستان میں زلزلہ: مہلوکین کی تعداد 1,500 تک پہنچ گئی
ایک خاندان میں تنہا بچ جانے والی تین سالہ لڑکی کی
وائرل تصویر سےسوشل میڈیا صارفین دہل گئے

کابل: 23۔جون
(سحر نیوز ڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)

کل 22 جون کو صبح کی اولین ساعتوں میں مشرقی افغانستان میں آئےایک تباہ کن زلزلہ میں مہلوکین کی تعداد 1,500 تک پہنچ گئی ہے۔اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔اس زلزلہ سے تباہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔متاثرہ علاقوں کےرہائشیوں کی حالت زار کوظاہر کرنے والی تصاویر اور ویڈیوز نے سوشل میڈیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

ایسے میں اس آفت سماوی میں بچ جانے والی ایک چھوٹی سی معصوم لڑکی کی تصویر نے سوشل میڈیا صارفین کو دہلاکر رکھ دیا ہے۔

افغانستان کے ایک مقامی صحافی”سید زیار مل ہاشمی Syed Ziarmal Hashemi@"نے ٹوئٹر پر کل شام 7 بجے اس لڑکی کی تصویر ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ”یہ چھوٹی بچی شاید اپنے خاندان کی واحد زندہ رکن ہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہےکہ انہیں اس کےخاندان کا کوئی بھی فرد زندہ نہیں مل سکا۔یہ 3 سال کی عمر کی بچی لگتی ہے”۔

اپنوں سے ہمیشہ کے لیے جدا ہوجانے سے بے خبر اس معصوم لڑکی کی تصویر نے سوشل میڈیا پر صارفین کی توجہ حاصل کرلی۔24 گھنٹوں میں ٹوئٹر پراس تصویر کو 3,86,700 ٹوئٹر صارفین نے لائیک کیاہے جبکہ اس تصویر کو 62,900 صارفین ری۔ٹوئٹ کیا ہے اور 4,217 ٹوئٹرصارفین نے شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مختلف کمنٹس کیے ہیں اور اس لڑکی سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

 

اس لڑکی کی تصویر والے ٹوئٹ پر مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے ہزاروں صارفین نےکمنٹس کیے کہ”وہ اس لڑکی کی حفاظت کےمتعلق فکر مند ہیں اور اس لڑکی کی کیسے مدد کرسکتے ہیں؟”۔

وہیں بہت سے ٹوئٹر صارفین نے اپنےکمنٹس میں لکھا کہ”والدین اور تمام افراد خاندان کو اس زلزلہ میں کھودینے اور اپنےمستقبل کے بارے میں فکرمند ہونے کے جذبات کو الفاظ میں بیان کرنا ناممکن ہے”۔

مختلف ممالک بشمول ہندوستان سےتعلق رکھنے والے مرد اور خاتون ٹوئٹرصارفین نے اپنے کمنٹس میں یہاں تک پوچھا کہ کیا اس لڑکی کو اپنانے (گود لینے) کا کوئی طریقہ ہے؟

گزشتہ نصف شب کے بعد افغان صحافی سید زیارمل ہاشمی نے اپنے اسی ٹوئٹ کو ری۔ٹوئٹ کرتے ہوئےلکھا کہ”بہت سے لوگوں نے عطیات اور مدد کی درخواست کی۔ہم اس کی اور بہت سے دوسرے متاثرین کی مدد کے لیے راستہ تلاش کرنے اور بنانے کے منتظر ہیں”۔بعدازاں اسی صحافی نے اپنے ایک اور ٹوئٹ میں لکھا کہ”فی الوقت ہم نے متاثرین کو عطیہ فراہم کرنے کا ایک طریقہ بنایا ہے۔ہم بعد میں اس لڑکی کو ڈھونڈنے اور مدد کرنے پر توجہ مرکوز کریں گے۔

 

افغانستان میں آئے اس تباہ کن زلزلہ کے بعدسوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز اور تصاویر میں دیکھا گیاہے کہ افغانستان کے دور دراز کے سرحدی قصبوں کے مکین خوف اور تکلیف میں ہیں،حفاظت کا راستہ تلاش کرنے کے لیے بھاگ رہے ہیں۔

پاکستان کےمحکمہ موسمیات کے مطابق،مشرقی پاکستان کے خوست شہر سے 41 کلومیٹرجنوب مغرب میں،صوبہ پکتیکا میں آئے 6.1 شدت کے اس زلزلے نے لوگوں کی زندگیوں کو بے سر وسامان اور گھروں کو تباہ کرکے رکھ دیاہے۔

اسوسی ایٹیڈ پریس(اے پی) کی اطلاع کےمطابق،افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے نائب خصوصی نمائندے رمیز الکباروف نے کہا کہ”زلزلہ کے باعث اس خطہ میں کم ازکم 2,000 گھر تباہ ہوگئے ہیں۔جہاں اوسطاً ہر گھر میں سات یا آٹھ افراد رہتے ہیں”۔اور پہاڑی علاقوں میں پھنسے دیہاتوں میں تباہی کی مکمل تفصیلات کے حصول میں وقت لگے گا۔سڑکیں جو ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور ایسے حالات میں سفر کرنامشکل ہے۔اور حالیہ بارشوں سے مٹی کے تودے سرکنے سے بھی تباہ شدہ مقامات تک پہنچنا مشکل ہوگیاہے۔

امدادی کارکن ہیلی کاپٹرزکے ذریعہ پہنچ گئے ہیں۔لیکن گزشتہ سال اگست میں افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد سے کئی بین الاقوامی امدادی اداروں کے انخلاء کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے۔وہیں زیادہ تر ممالک کی حکومتیں طالبان کے ساتھ براہ راست نمٹنے کے معاملہ میں محتاط ہیں۔