ہم ہار ماننے والے نہیں ہیں،لڑائی چاہے اسمبلی کے فلور پر ہو یا سڑکوں پر
ہم ہی جیتیں گے،مرکزی وزیر پر شردپوار کو دھمکانے کا الزام : سنجے راؤت
ممبئی: 24۔جون(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز )
مہاراشٹرا میں جاری سیاسی بحران کے دؤران شیوسینا کے رکن راجیہ سبھا و قومی ترجمان سنجے راؤت نے آج زور دے کر کہا ہے کہ ہم ہار ماننے والے نہیں ہیں۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ اسمبلی فلور پر جیتیں گے اگر لڑائی سڑک پر ہوگئی تو وہاں بھی جیتیں گے۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے پُراعتماد نظر آنے والے شیوسینا کے شعلہ بیان لیڈر و رکن راجیہ سبھا سنجے راؤت نے کہا کہ ان کو (باغی ایکناتھ شنڈے)ممبئی میں آکر ہماراسامنا کرناہے اور انہوں نے بہت غلط قدم اٹھایا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے انہیں واپس آنے کا موقع بھی دیا اب مجھے لگتا ہے کہ وقت گزر چکا ہے۔انہوں نےکہاکہ اب پوری تیاری ہوچکی ہےاب آپ آئیے،اب ہمارا چیلنج ہے۔سنجے راوت نے دعویٰ کیا کہ مہا وکاس اگھاڑی مضبوط ہے۔
کل سنجے راؤت نے ٹوئٹ کیا تھا کہ شیوسینا کے منحرف 20 ارکان اسمبلی ان سے رابطہ میں ہیں۔انہوں نے کہا تھا کہ جب تمام ارکان اسمبلی ممبئی واپس ہوں گے تب پتہ چلے گا۔ساتھ ہی سنجے راؤت نے اپنے اس ٹوئٹ میں لکھا تھا کہ”ای ڈی کے دباؤ میں پارٹی چھوڑنے والا بالا صاحب کا عقیدت مند نہیں ہو سکتا”
انہوں نے نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی ) سربراہ شردپوارکو ملک کے مضبوط اور سینئر سیاسی رہنما قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے اور چیف منسٹر ادھو ٹھاکرے کے درمیان ربط و ضبط قائم ہے اور اس مسئلہ پر ان دونوں کے درمیان مسلسل بات چیت ہورہی ہے۔
شیوسینا کے رکن راجیہ سبھا سنجے راوت نے کہا کہ این سی پی،کانگریس اور شیوسینا کے تمام بڑے قائدین ایک ہیں۔شیو سینا کے ٹربل شوٹر مانے جانے والے سنجے راوت نے کل جمعہ کو بھارتیہ جنتا پارٹی پرحملہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھاکہ وہ کانگریس اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی میں ان کے اتحادیوں نے ایکناتھ شنڈے کی بغاوت کو انجینئرنگ کررہے ہیں۔
ساتھ ہی سنجےراؤت نے الزام عائد کیاتھاکہ ایک مرکزی وزیر نے این سی پی سربراہ شرد پوار کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ”اگر مہاوکاس اگھاڑی کی کوشش کی گئی تو شردپوار گھرنہیں جائیں گے۔ سنجےراؤت نے کل وزیراعظم کے دفتر کو ٹیاگ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ مہا وکاس اگھاڑی زندہ رہے یا نہ رہے،شرد پوار کے لیے ایسی زبان کا استعمال قابل قبول نہیں ہے۔انہوں نے وزیراعظم نریندرمودی اورمرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ سے سوال کیا کہ کیا یہ طریقہ درست ہے ؟
جاریہ سیاسی بحران کے دؤران چیف منسٹر مہاراشٹرا ادھو ٹھاکرےنے چہارشنبہ کوفیس بک لائیوکے ذریعہ ایکناتھ شنڈے کی بغاوت کے درمیان اپنے عہدہ سے دستبردار ہونے کی پیشکش کی تھی۔بعدازاں انہوں نے سرکاری رہائش گاہ ورشاخالی کرتےہوئے باندرہ میں موجوداپنے خاندانی مکان ماتو شری منتقل ہوگئے تھے۔جس کے بعد عوام میں ادھو ٹھاکرےکے تئیں ہمدردی کی لہر میں اضافہ ہوگیا ہے اور لوگ ادھو ٹھاکرے کی تائید میں سڑکوں پر اتر آئے ہیں۔
مہاراشٹراکے عوام میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ گزشتہ ڈھائی سال کے دؤران ادھو ٹھاکرے نے بالخصوص کوویڈ وبا کے دؤران حالات کو بہترین طریقہ سے سنبھالا تھا۔اور مہاراشٹرا کو فرقہ وارانہ کشیدگی اور فرقہ پرستی سے دور رکھا تھا۔
شیوسینا کی جانب سے اپنے 12 ارکان اسمبلی کو نااہل قرار دینے کی ڈپٹی اسپیکر سے سفارش کی جاچکی ہے۔بتایا جارہا ہے کہ آج شیوسینا اپنے مزید چار ارکان اسمبلی خلاف ڈپٹی اسپیکر سے رجوع ہونے جارہی ہے۔

دوسری جانب شیوسینا کے باغی لیڈر ایکناتھ شنڈے سیلاب زدہ ریاست آسام کے دارالحکومت گوہاٹی میں کل شیوسینا کے 42 اور 7 آزاد ارکان اسمبلی کے ساتھ فوٹو اور ویڈیو جاری کرکے طاقت کا مظاہرہ کیاتھا۔آج انہوں نے دعویٰ کیاکہ ان کے ساتھ 50 ارکان اسمبلی ہیں۔ایکناتھ شنڈے باغی ارکان اسمبلی کے ساتھ اب بھی گوہاٹی میں ڈیرا ڈالے ہوئے ہیں۔دیگر اطلاعات میں بتایا جارہا ہے کہ شیوسینا کے 38 ارکان اسمبلی ایکناتھ شنڈے کے ساتھ ہیں۔آج دوپہر ایسی اطلاع آئی تھی کہ ایکناتھ شنڈے ممبئی کے لیے روانہ ہوگئے ہیں لیکن بعد ازاں اس اطلاع کی تردید کی گئی۔
وہیں شدید سیلاب کی لپیٹ میں موجود آسام میں مہاراشٹراکے ارکان اسمبلی موجودگی کو سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور بی جے پی برسر اقتدار حکومت پر الزام عائد کیا جارہا ہے کہ جس ریاست میں عوام سیلاب سے پریشان ہیں اور جہاں 100 سے زائد اموات ہوئی ہیں اور لاکھوں افراد بے گھرہوئے ہیں اس ریاست میں کسی اور ریاست کی حکومت گرانے اور بنانے کاکھیل کھیلاجارہا ہے۔!!یاد رہے کہ شیوسینا کے باغی رکن ایکناتھ شنڈے کا الزام ہے کہ شیوسینا "ہندوتوا” کے راستے سے بھٹک گئی ہے۔

