ضلع جج نے ضعیف شخص کے بینک قرض کی رقم اپنی جیب سے ادا کی

ضلع جج نے ضعیف شخص کے بینک قرض کی رقم اپنی جیب سے ادا کی
بیٹی کی شادی کے لیے 18 سال قبل لیا گیا تھا قرض

پٹنہ: 17۔نومبر(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

اونچےعہدوں پر فائز ججوں،آئی اے ایس،آئی پی ایس یا پھر آئی ایف ایس عہدیداروں کی شبیہ انتہائی سخت گیرمانی جاتی ہے۔اور ان عہدیداروں کے لیے لازمی بھی ہوتا ہے کہ وہ امن و امان کی برقراری اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے اپنے عہدہ کی اہمیت کے ساتھ ذمہ داری پوری کریں کیونکہ عام لوگوں کو سب سے زیادہ بھروسہ انہی عہدیداروں پر ہوتا ہے کہ جہاں رشوت نہیں دینی پڑتی۔!!

ایسے میں بہار سے ایک ایسے ضلع جج کا واقعہ منظر عام پر آیا ہے جنہوں نے انسانیت،انصاف اور ہمدردی کا سر مزید اونچا کر دیا ہے۔

جہان آباد میں پیش آئے اس واقعہ کی تفصیلات کے مطابق راجندر چوہان نامی ایک شخص نے اپنی بیٹی کی شادی کے لیے 18 سال قبل ایک بینک سے قرض حاصل کیا تھا۔اس قرض کی رقم کا کچھ حصہ وہ غربت کے باعث ادا نہیں کرپائے۔جنہیں بینک کی جانب سے نوٹسیں روانہ کی جاتی رہیں۔اور یہ قرض کی رقم سود در سود ہزاروں روپیوں تک پہنچ گئی۔

بالآخرسنٹرل بہارکے جہان آباد میں لوک عدالت منعقد ہوئی جہاں اس ضعیف شخص راجندرچوہان اور بینک کاکیس بھی پیش ہوا۔لوک عدالت جن کے ذریعہ جائے وقوع پر ہی ججوں کی جانب سے دونوں فریقین کا موقف سننے کےبعد فیصلےصادر کردئیے جاتےہیں اور ان فیصلوں سےدونوں فریق مطمئین بھی ہوجایا کرتے ہیں۔

جہان آباد میں منعقدہ لوک عدالت میں ضلع  جج راکیش کمارسنگھ مقدمات کی سماعت اور فیصلے صادر کررہے تھے۔ان کے سامنے اس ضعیف شخص راجندر چوہان اور بینک کے قرض کا کیس پیش ہوا۔راجندرچوہان اپنے ساتھ پانچ ہزار روپئے لے کر اس لوک عدالت میں  پہنچے تھے۔بینک اور راجندر چوہان کے موقف کی سماعت کے بعد معزز ضلع  جج راکیش کمار سنگھ نے فیصلہ صادر کیا کہ راجندر چوہان بینک کو یکمشت 18,000 ہزار روپئے ادا کردیں اور بینک انتظامیہ یہ رقم حاصل کرتے ہوئے اس قرض کی فائل ہمیشہ کے لیے بند کردے۔

لیکن اس وقت راجندر چوہان کی جیب میں صرف 5,000 روپئے ہی موجود تھے،جبکہ ان کے ساتھ لوک عدالت آنے والے ان کے ایک رشتہ دار کی جیب میں 3,000 روپئے تھے۔اس طرح 8,000 روپئے کا بندوبست ہوگیا تھا۔لیکن مزید 10,000روپئے کم پڑ رہے تھے اور ضعیف شخص راجندر چوہان کے لیے اتنی بڑی رقم کسی سے حاصل کرنا ناممکن تھا۔

اس بات کی اطلاع جب معزز ضلع جج جہان آباد راکیش کمارسنگھ تک پہنچی تو انہوں نے فوری اپنی جیب سے 10,000 روپئے نکال کر اس ضعیف شخص راجندر چوہان کو دئیے کہ وہ بینک عہدیداروں کو جملہ 18،000 روپئے ادا کرتے ہوئے رسید حاصل کرلیں۔

ضلع جج راکیش کمارسنگھ کے اس انسانیت نواز اقدام کو دیکھ کر راجندر چوہان سمیت وہاں موجود پولیس عہدیدار اور دیگر شدید متاثر ہوئے۔

وہیں دوسری جانب سوشل میڈیا پر سوال اٹھائے جارہے ہیں کہ لاکھوں کروڑ روپیوں پرمشتمل قرض لےکر چند ناموربھگوڑے ملک سےفرار ہوکر دیگرممالک میں عیش کی زندگی بسر کررہے ہیں۔اورساتھ ہی کئی بڑے گھرانوں کی کمپنیوں کی جانب سے لیے گئے کروڑوں روپیوں کے قرضہ جات کو ناقابل وصول یا دیوالیہ قرار دیتے ہوئے معاف کیےجاسکتے ہیں تو پھر غریبوں اور کسانوں کی معاشی حالت کو دیکھتےہوئےان کے معمولی قرض کیوں معاف نہیں کیے جاسکتے؟ اور کیوں انہیں بینکوں کی جانب سے ہراساں کیا جاتا ہے۔؟