ڈینگو کے علاج میں معاون ہونے کی اطلاعات
مدھیہ پردیش میں 300 روپئے فی لیتر فروخت ہورہا ہے بکری کا دودھ
بھوپال: 23۔اکتوبر(سحرنیوزڈاٹ کام؍ایجنسیز)
ریاست مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال سے 331 کلومیٹر کے فاصلہ پر موجود چھتر پورضلع میں ان دنوں بکری کے دودھ کی قیمت میں دس گنا اضافہ ہوگیا اور اس کی قلت بھی پیدا ہوگئی ہے۔
جہاں پہلے بکری کا دودھ 30 روپئے فی لیتر فروخت ہوا کرتا تھا اب وہیں یہی بکری کا دودھ 200 روپئے تا 300 روپئے فی لیتر فروخت ہورہا ہے اور بکری مالکین کو زبردست آمدنی ہورہی ہے وہیں ضلع میں بکری کے دودھ کی قلت بھی پیدا ہوگئی ہے۔
دراصل ضلع چھترپور ان دنوں ڈینگو Dengue کی لپیٹ میں ہے۔چھترپور کے عوام کا ایقان ہے کہ بکری کے دودھ سے ڈینگو کے مریض کے خون میں کم ہونے والے پلیٹ لیٹس ” Platelets ” میں اضافہ ہوتا ہے اس لیے عوام بکری کے دودھ کو زیادہ اہمیت دینے لگے ہیں۔کیونکہ ڈینگو کے مریض کے خون میں موجود پلیٹ لیٹس میں تشویشناک حد تک کمی واقع ہوتی ہے۔

عام طورپر ڈینگو کے مریض ان پلیٹ لیٹس میں اضافہ اور توازن قائم ہونے کے بعد ہی بہتر ہوتے ہیں۔
چھترپور سرکاری ہسپتال کے ایک ڈاکٹر کے مطابق چھترپور میں ڈینگو کے مریضوں کے پلیٹ لیٹس بڑھانے کی غرض سے متاثرہ مریضوں کے رشتہ دار انہیں بکری کا دودھ پلارہے ہیں۔جبکہ عوام کی بڑی تعداد ڈینگو سے محفوظ رہنے کی غرض سے بھی احتیاطی اقدامات کے طور پر بکری دودھ پی رہی ہے۔
میڈیا اطلاعات کے مطابق چھترپور کے ساکن دنیش یادو نے بتایا کہ ان کے بھائی ڈینگو سے متاثر ہوکر 6 دن دن قبل ہسپتال میں شریک کروائے گئے تھے جن کے خون میں پلیٹ لیٹس کی مقدار کم ہونے لگی تھی تو کسی نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ اپنے ڈینگو سے متاثر بھائی کو بکری کا دودھ پلائیں اس سے ان کے پلیٹ لیٹس میں اضافہ ہوگا اور وہ جلد صحت یاب ہوجائیں گے۔
دنیش یادو نے بتایا کہ اس کے بعد انہوں نے قریبی موضع سے بکری کا دودھ 200 روپئے فی لیتر حاصل کیا۔انہوں نے کہا کہ ان کا ایقان ہے کہ بکری کے دودھ میں گائے یا بھینس کے دودھ کی بہ نسبت فولاد اور کیلشیم کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اور یہ دیگر دودھ سے زیادہ غذائیت سے بھرپور ہوتا ہے۔
وہیں سرکاری ہسپتال چھترپور کے ڈاکٹر ابھئے سنگھ کا کہنا ہے کہ بکری کا دودھ فائدہ مند ضرور ہوسکتا ہے لیکن صرف اسی دودھ کو ڈینگو کا مکمل علاج ماننا بالکل غلط ہے۔

انہوں نے کہا کہ مقامی لوگوں میں یہ ایقان ہے کہ ڈینگو کے مریضوں کے لیے بکری کا دودھ ایک کرشمہ کی کی طرح کارآمد ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ چھترپور ضلع ہسپتال میں 20سے زائد ڈینگو متاثرین شریک کروائے گئے ہیں جبکہ مختلف خانگی ہسپتالوں سے بھی بڑی تعداد میں ڈینگو کے مریض رجوع کیے جارہے ہیں۔اطلاعات کے مطابق مدھیہ پردیش کے کئی شہری اور دیہی علاقے ڈینگو کی وبا سے متاثر ہیں اور اموات بھی ریکارڈ کی گئی ہیں!! ایسے میں عوام کا رحجان بکری کے دودھ کے استعمال کی جانب زیادہ ہوگیا ہے۔
جبکہ خبررساں ادارہ یو این آئی کی 11 اپریل 2018ء کی رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ بکری کا دودھ ڈینگو اور چكن گنيا کے علاج میں تیر بہدف ثابت ہو سکتا ہے۔
سینٹرل گوٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ مخدوم، متھرا میں ڈینگو اور چكن گنيا کے امراض کے علاج میں بکری کے دودھ کے فوائد پر تحقیق شروع کی گئی ہے۔اس کے پہلے مرحلہ میں ایسے اشارے ملے ہیں کہ ان دونوں بیماریوں میں مبتلا افراد کو چار پانچ دنوں تک صبح اور شام دو ، دو سو ملی لیٹر بکری کا دودھ پلایا جائے تو وہ فوری طور صحت مند ہوتے جاتے ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ایم ایس چوہان نے یو این آئی کو بتایا تھا کہ دودھ میں متعدد قسم کے پروٹین پائے جاتے ہیں لیکن بکری کے دودھ میں ایک خاص قسم کی پروٹین ” بائیو پیپٹیز ” ہوتی ہے جو گائے یا بھینس کے دودھ میں نہیں ملتی۔
یہ پروٹین ڈینگو اور چكن گنيا کی روک تھام میں موثر کردار ادا کرتا ہے۔ان دونوں بیماریوں سے متاثر افراد کے خون میں پلیٹ لیٹس گھٹنے لگتی ہے جس سے کئی بار ان کی موت تک ہو جاتی ہے۔سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ ” بائيوپیپٹیز ” سے پلیٹ لیٹس بڑھتی ہے اور بیماری کی روک تھام میں مدد ملتی ہے۔
ڈاکٹر ایم ایس چوہان کے مطابق گائے، بھینس اور بکری کا دودھ ایک جیسا نہیں ہوتا۔اس کی اہم وجہ ان جانوروں کے خوردونوش کی عادت ہے۔
گائے یا بھینس کے مقابلہ میں بکری الگ قسم کا چارہ کھاتی ہے وہ خود کوصحت مند رکھنے کے لئے نیم، پیپل، پاكڑ اور بیری بھی کھاتی ہے جنہیں عام طور پر دوسرے جانور پسند نہیں کرتے۔ گائے یا بھینس چارہ کو ایک ساتھ کھاتے ہیں جبکہ بکری چن چن کر بین بین کرکھاتی ہے۔ وہ کئی ایسے پودے بھی کھاتی ہے جن میں طبی ادویات کی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔
دوسری جانب حکیم محمد طارق محمود مجذوبی کے عبقری رسالہ کے مطابق بکری کا دودھ اصلاح خون کے لیے تمام جانوروں کے دودھ میں اول نمبر پر ہے۔
اس دودھ میں فولاد کی اچھی خاصی مقدار ہوتی ہے اور یہ دمہ کے مرض میں بالخصوص فائدہ دیتا ہے، پیٹ کی جملہ خرابیوں کو دورکرتا ہے،اسہال کو روکتا ہے،گلے کی خرابی یا حلق میں ورم ہو تو دودھ کو تھوڑی دیر گلے میں روک کر پینا بے حد مفید ہے،گرم گرم تازہ دودھ پیشاب کی رکاوٹ کو درست کرتا ہے،خون کی الٹیاں آنے کی صورت میں بکری کے دودھ کیساتھ صندل سرخ اور ملٹھی ملا کر پلانا مفید ہوتا ہے۔

