وقارآبادضلع: بشیرآباد کے اردو میڈیم اسکول میں ٹیچرس کا تقرر کیا جائے یا پھر اسکول بند کردیا جائے: ڈی ای او سے طلبہ کے والدین کا مطالبہ

وقارآبادضلع : بشیرآباد کے اردو میڈیم اسکول میں ٹیچرس کا تقرر کیا جائے
یا پھر اسکول مکمل طور پر بند کردیا جائے، ڈی ای او سے طلبہ کے والدین کا مطالبہ

وقارآباد:23۔اکتوبر (سحرنیوزڈاٹ کام)

قارئین سحرنیوز ڈاٹ کام کو یاد ہوگا کہ ہم نے یکم اکتوبر کو” ائے اردو تیری حالت پہ رونا آیا! وقارآباد ضلع کا ایک ایسا سرکاری اردو میڈیم اسکول،جہاں کے ٹیچرس اردو سے تو طلبہ تلگو زبان سے ناواقف ہیں” کی سرخی اور تصاویر کے ساتھ ایک خبر منظر عام پر لائی تھی کہ حلقہ اسمبلی تانڈور میں موجود بشیر آباد منڈل مستقر کے ایک قدیم اردو میڈیم اسکول میں چھٹی تا دسویں جماعت جملہ 43 طلبا اور طالبات زیر تعلیم ہیں۔ایسا نہیں ہے کہ یہ طلبہ تلگو سے واقف نہیں ہیں لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ اردو میڈیم اسکول کے طلبہ کو وہ ٹیچرس تعلیم دے رہے ہیں جو کہ اردو زبان سے یکسر ناواقف ہیں!

بشیر آباد منڈل مستقر میں موجود اس ضلع پریشد ہائی اسکول (اردو میڈیم) کے لیے جملہ 8 ٹیچرس کی جائدادیں منظورہ ہیں لیکن صرف ان دونوں ٹیچرس سے ہی کام چلایا جارہا ہے۔

ان میں بھی ایک اس اسکول کے ہیڈماسٹر ہیں جئے سنگھ جو کہ طلبہ کو بائیو سائنس اورتلگو پڑھاتے ہیں جبکہ دوسرے ٹیچر ہیں بال چند جو کہ طلبہ کو تلگو پڑھاتے ہیں۔

اردو زبان سے ناواقف ہیڈ ماسٹر جئے سنگھ اردو میڈیم کے ان طلبہ کوتعلیم دینے سے قاصر ہیں جبکہ بال چند اپنا مضمون تلگو پڑھا رہے ہیں۔

اس طرح ضلع وقارآباد کے بشیر آباد منڈل مستقر میں موجود ضلع پریشد ہائی اسکول (اردو میڈیم) میں انگریزی،حساب،فزیکل سائنس، بائیو سائنس اور سماجی علم کا اردو نصاب پڑھانے والے 6 ٹیچرس کی جائدادیں مخلوعہ ہیں۔

اس سلسلہ میں جب کل جمعہ کے دن ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر وقارآبادضلع رینوکا دیوی اس اسکول کا مشاہدہ کرنے بشیرآباد پہنچیں تو اس اسکول کے طلبہ و طالبات کے والدین بھی اسکول پہنچ گئے۔

جنہوں نے اس اردو میڈیم اسکول کی حالت زار پر ان سے شدید احتجاج کیا کہ کیوں اردو میڈیم اسکول کے ساتھ سوتیلانہ برتاؤ کرتے ہوئے طلبہ کےمستقبل کے ساتھ کھلواڑ کی جارہی ہے؟حد تو یہ ہے کہ اس اسکول میں ودیا والینٹرس کا بھی تقرر نہیں کیا جارہا۔ طلبا و طالبات کے سرپرستوں نے ڈی ای او رینوکا دیوی کو بتا کہ اسکول میں ٹیچرس نہ ہونے کے باعث ان کے بچے دن بھر اسکول میں بیٹھ کر خالی ہاتھ واپس ہورہے ہیں!

اس موقع پر طلبہ کے والدین نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر وقارآبادضلع رینوکا دیوی سے دوٹوک لہجہ میں کہا کہ اس اسکول میں ٹیچرس کا تقررعمل میں لایا جائے یا پھر اس قدیم اسکول کو مکمل طور پر بند کردیا جائے تاکہ وہ اپنے بچوں کو دیگر اسکولس میں داخلہ دلواسکیں۔اس سلسلہ میں طلبہ کے سرپرستوں نے ایک یادداشت بھی ڈی ای او کے حوالے کی۔

اس موقع پر ان طلبہ کے والدین نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر وقارآبادضلع رینوکا دیوی سے شکایت کی کہ ایسے حالات میں بھی اس اسکول کے ہیڈ ماسٹر جئے سنگھ طلبہ پر توجہ نہیں دے رہے ہیں نہ انہیں انگریزی کی تعلیم دی جارہی ہے اور نہ ہی حساب کی تعلیم ہی دی جارہی ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس اسکول کے ہیڈ ماسٹر جئے سنگھ صرف رجسٹر پر دستخط کرنے کی غرض سے اسکول آتے ہیں اور دستخط کرنے کے بعد اسکول سے روانہ ہوجاتے ہیں۔

طلبہ کے ساتھ ساتھ ان کے والدین نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر وقارآبادضلع رینوکا دیوی سے مطالبہ کیا کہ ہیڈ ماسٹر جئے سنگھ کی اس اسکول میں ضرورت نہیں ہے اور فوری طور پر ان کا تبادلہ عمل میں لایا جائے۔

اس مسئلہ پر ڈی ای او رینوکا دیوی کی موجودگی میں بحث و تکرار کا آغاز ہوا جس پر ڈی ای او نے مداخلت کرتے ہوئے اس مسئلہ کو سرد کیا۔بعد ازاں ڈی ای او رینوکا دیوی نے ان طلبہ کے والدین کو تیقن دیا کہ وہ جلد ہی کسی قریبی اردو میڈیم سرکاری اسکول سے ایک خاتون ٹیچر اور تانڈور کے کسی اسکول سے ایک مرد ٹیچر کا بشیرآباد کے اس اردو میڈیم ہائی اسکول میں تقرر کیا جائے گا۔

اس موقع پر ڈی ای او رینوکا دیوی سے اس بات کی بھی شکایت کی گئی کہ بشیرآباد منڈل کے سرکاری اسکولوں میں چند ٹیچرس اپنی خدمات کی ادائیگی میں تساہلی برت رہے ہیں!اور اپنی من مانی میں مصروف ہیں ڈی ای او کو واقف کروایا گیا کہ چند ٹیچرس صبح کے اؤقات تاخیر سے اسکول پہنچ رہے ہیں اور ساڑھے تین بجے ٹرین کے ذریعہ اپنے اپنے مقامات کو روانہ ہورہے ہیں جس سے طلبہ کی تعلیم متاثر ہورہی ہے۔

…………………………….

بشیرآباد منڈل کے اس اسکول کے متعلق یکم اکتوبر کی سحرنیوز ڈاٹ کام کی تفصیلی رپورٹ اس لنک کو کلک کرکے پڑھی جاسکتی ہے :-

ائے اردوتیری حالت پہ رونا آیا!وقارآباد ضلع کا ایک ایسا سرکاری اردو میڈیم اسکول جہاں کے ٹیچرس اردو سے ناواقف اور طلبہ تلگوسے