ائے اردوتیری حالت پہ رونا آیا!وقارآباد ضلع کا ایک ایسا سرکاری اردو میڈیم اسکول جہاں کے ٹیچرس اردو سے ناواقف اور طلبہ تلگوسے

ائے اردو تیری حالت پہ رونا آیا!
وقارآباد ضلع کا ایک ایسا سرکاری اردو میڈیم اسکول
جہاں کے ٹیچرس اردو سے تو طلبہ تلگو زبان سے ناواقف ہیں

وقارآباد/تانڈور: 01۔اکتوبر (سحرنیوز ڈاٹ کام)

ریاست تلنگانہ میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے۔لیکن افسوس کہ زمینی سطح  پر اردو زبان کے ساتھ سرکاری سطح پر اور خود اردو والوں کا وہی سوتیلانہ سلوک جاری ہے جو کہ متحدہ ریاست آندھرا پردیش میں ہوا کرتا تھا!

ریاست میں اردو زبان دوسری سرکاری زبان کا درجہ ضرور رکھتی ہے لیکن زیادہ تر سرکاری اردو میڈیم اسکولوں میں کئی اساتذہ کی جائدادیں ہنوز مخلوعہ ہیں،اسکولی عمارتوں کی حالت قابل رحم ہے،سرکاری عمارتوں اور آرٹی سی بسوں کے سائن بورڈ س پر اردو نداردہے،سرکاری دفاتر میں اردو کا چلن نہ کہ برابرہے۔

حکومت تلنگانہ کے پرنسپل سیکریٹری مسٹر وکاس راج کی جانب سے تمام سرکاری محکمہ جات کے متعلقہ عہدیداروں کے لیے باقاعدہ 7 نومبر 2020ء کو ایک میمو Memo No.9335/OL/2016 کا حوالہ دیتے ہوئے مکتوب جاری کیا گیا تھا کہ تمام سرکاری محکمہ جات میں اردو کے چلن کو رائج کیا جائے۔تمام سرکاری تقاریب کے مواقع پر تلگو زبان کے ساتھ ساتھ اردو کا استعمال بھی کیا جائے۔سائن بورڈس، عہدیداروں کے ناموں کی تختیوں اور جہاں لازمی ہو وہاں اردو زبان بھی استعمال کی جائے،تاہم اس پرعمل آوری نہ کہ برابر ہی نظر آتی ہے!

دوسری جانب حکومت تلنگانہ نے دو سال قبل ریاستی وزرا،ضلع کلکٹران کے دفاتر میں 66 اردو آفیسرس کا تقرر عمل میں لایا تھا کہ تلگو اور انگریزی زبان میں آنے والی درخواستوں،اردو اخبارات میں شائع ہونے والی شکایات اور عوامی مسائل کا ترجمہ کرکے اعلیٰ عہدیداروں تک پہنچائے جائیں تاکہ یہ مسائل ہوں۔

اور ساتھ ہی ان اردو آفیسرس کو یہ ذمہ داری بھی تفویض کی گئی تھی کہ وہ اضلاع کے دفاتر کلکٹریٹ سے جاری ہونے والے پریس نوٹ اور سرکاری تقاریب کی رپورٹ اردو صحافیوں کو اردو زبان میں فراہم کریں۔شروع شروع میں یہ اردو آفیسر متحرک رہے لیکن اب زیادہ تر اضلاع میں اس کام کو بھی روک دیا گیا ہے!

بتایا جاتا ہے کہ ان اردو آفیسرس کی خدمات سے اضلاع میں موجود محکمہ اقلیتی بہبود کے دفاتر میں استفادہ کیا جارہا ہے جومسلم طلبہ کے اسکالرشپس کی آن لائن درخواستوں کی جانچ ان کی منظوری اور دیگر دفتری کاموں میں مصروف کردئیے گئے ہیں جس کے باعث زیادہ تر اضلاع کے اردو صحافیوں کو پہلے کی طرح پریس نوٹس تلگو میں ہی جاری کیے جارہے ہیں!

اردو کے ساتھ جاری سوتیلانہ سلوک کی مثال حلقہ اسمبلی تانڈور کے بشیر آباد منڈل مستقر میں موجود ضلع پریشد ہائی اسکول (اردو میڈیم) ایک زندہ مثال ہے!! جہاں کے طلبہ کو پڑھانے کے لیے تلگو میڈیم ٹیچرس کی خدمات سے استفادہ کیا جارہا ہے۔

اس اردو میڈیم اسکول میں چھٹی تا دسویں جماعت جملہ 43 طلبا اور طالبات زیر تعلیم ہیں ایسا نہیں ہے کہ یہ طلبہ تلگو سے واقف نہیں ہیں لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ اردو میڈیم اسکول کے طلبہ کو وہ ٹیچرس تعلیم دے رہے ہیں جو کہ اردو زبان سے یکسر ناواقف ہیں!

اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ طلبہ کی تعلیم کا کیا حال ہوگا! بشیر آباد منڈل مستقر میں موجود اس ضلع پریشد ہائی اسکول (اردو میڈیم) کے لیے جملہ 8 ٹیچرس کی جائدادیں منظورہ ہیں لیکن صرف ان دونوں ٹیچرس سے ہی کام چلایا جارہا ہے۔

ان میں بھی ایک اس اسکول کے ہیڈماسٹر ہیں جئے سنگھ جو کہ طلبہ کو بائیو سائنس اورتلگو پڑھاتے ہیں جبکہ دوسرے ٹیچر ہیں بال چند جو کہ طلبہ کو تلگو پڑھاتے ہیں۔

اردو زبان سے ناواقف ہیڈ ماسٹر جئے سنگھ اردو میڈیم کے ان طلبہ کوتعلیم دینے سے قاصر ہیں جبکہ بال چند اپنا مضمون تلگو پڑھا رہے ہیں۔

اس طرح بشیر آباد منڈل مستقر میں موجود ضلع پریشد ہائی اسکول (اردو میڈیم) میں انگریزی، حساب، فزیکل سائنس، بائیو سائنس اور سماجی علم کا اردو نصاب پڑھانے والے 6 ٹیچرس کی جائدادیں مخلوعہ ہیں۔

اس اسکول میں زیرتعلیم طلبا اور طالبات کے والدین ہر دوسرے دن اسکول پہنچ کر استفسار کرتے ہیں کہ ان کے بچوں کو کیا تعلیم دی جارہی ہے؟ جبکہ اردو زبان کے ٹیچرس ہی موجود نہیں ہیں؟

ان والدین کا مطالبہ ہے کہ اس اسکول میں ٹیچرس کا تقرر عمل میں لایا جائے یا پھر ان کے بچوں کی ٹی سی جاری کی جائے وہ کسی اور اسکول میں ان بچوں کا داخلہ کروائیں گے۔اطلاع ہے کہ اب تک نصف درجن سے زائد طلبہ اس اسکول سے ٹی سی لے کر دوسرے اسکولوں میں داخلہ لےچکے ہیں۔

بشیر آباد منڈل مستقر میں موجود اس ضلع پریشد ہائی اسکول (اردو میڈیم) کی اس حالت زار پر منڈل ایجوکیشن آفیسر سدھاکر ریڈی نے مانا کہ اسکول کو اردو اساتذہ کی قلت کا سامنا ہے اور اس کے لیے وہ ودیا والنٹیرس کے تقررات کے لیے ڈی ای او وقارآباد کو منصوبہ روانہ کرچکے ہیں اور انہیں اسکول میں زیرتعلیم طلبہ کی مشکلات سے بھی واقف کروایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ طلبہ کے والدین کے ساتھ ایک جلاس منعقد کرتے ہوئے اس مسئلہ کا حل نکالا جائے گا۔طلبہ اور ان کے والدین کا ریاستی وزیرتعلیم پی۔سبیتا اندرا ریڈی،صدرنشین ضلع پریشد وقارآباد پی۔سنیتا مہندر ریڈی،رکن اسمبلی تانڈور پائلٹ روہت ریڈی اور ڈی ای او وقارآباد ضلع رینوکادیوی سے مطالبہ ہے کہ اس اسکول میں اردو ٹیچرس کا فوری تقرر عمل میں لایا جائے کیونکہ کوویڈ وباء کے باعث پہلے ہی دیڑھ سال تک تعلیمی نظام متاثر ہوچکا ہے اور کوویڈ وبا کے بعد اسکولوں کے دوبارہ آغاز کو ایک مہینہ مکمل ہوگیاہے۔

ضرورت شدید ہے کہ اس سلسلہ میں ضلع انتظامیہ ضروری اقدامات کو یقینی بنائے اور اس اسکول میں زیرتعلیم طلبہ کی مشکلات کو ختم کیا جائے۔