نظام میر عثمان علی خان کو ووٹوں کے لیے انتخابی مہم میں ویلن کے طور پر پیش نہ کیا جائے
وزیراعظم،الیکشن کمیشن،مرکزی وزیر داخلہ کو ان کے پڑپوتے میر حمایت علی مرزا کے مکتوب
توہین آمیز اور ناشائستہ الفاظ کا استعمال ناقابل برداشت،عدالت سے رجوع ہونے کا اعلان
حیدرآباد:01۔اکتوبر (سحرنیوزڈاٹ کام)
گزشتہ چند سال سے گنگا جمنی تہذیب کی حامل ریاست تلنگانہ میں بھی ایک مخصوص سیاسی جماعت کی جانب سے ایک مخصوص طبقہ کے خلاف زہریلا ماحول پیدا کرتے ہوئے اس سے حقیر سیاسی مفادات حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
اب جبکہ ریاست کے حضورآباد اسمبلی حلقہ کے ضمنی انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن نے اعلامیہ جاری کردیا ہے لیکن اس کے لیے انتخابی مہم اس وقت سے ہی شروع ہوگئی تھی جب اس حلقہ سے نمائندگی کرنے والے ایٹالہ راجندر سے وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھرراؤ نے وزیرصحت کا قلمدان واپس لے لیا تھا۔
جس کے بعد وہ اپنی اسمبلی اور پارٹی کی رکنیت سے مستعفی ہوگئے اور بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی۔
ضمنی انتخابات کے اعلان کے بعد حضورآباد میں انتخابی مہم اور سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔
اس انتخابی مہم کے دؤران اور وقت بہ وقت ساتویں نظام حیدرآباد میر عثمان علی خان کے خلاف انتہائی گھٹیا انداز میں توہین آمیز مہم چلائی جارہی ہے اور ان کے خلاف استعمال کی جانے والی ناشائستہ زبان اور ان کی کردار کشی کی نواب میرعثمان علی خان کے پڑپوتے میر حمایت علی مرزا نے سخت مذمت کی ہے۔

میر حمایت علی مرزا نے وزیراعظم نریندر مودی، مرکزی اور ریاستی لیکشن کمیشن،مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ،صدر قومی بی جے پی جے پی نڈا کو مکتوبات روانہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ انتخابی مہم میں نواب میر عثمان علی خان کے نام کو نہ گھسیٹا جائے اور اس کے لیے سیاسی قائدین کو پابندبنایا جائے۔
میر حمایت علی مرزا نے انتباہ دیا ہے کہ نظام کے خلاف مذموم اور ناشائستہ مہم کو اب مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ حلقہ اسمبلی حضور آباد کے ضمنی انتخابات میں نظام اور نظام دؤر حکومت کے خلاف اہانت آمیز الفاظ استعمال کیے جارہے ہیں۔اور اپنے سیاسی مخالفین کی توہین کی غرض سے نواب میر عثمان علی خان کو ایک ویلن کی طرح پیش کیا جارہا ہے۔
میر حمایت علی مرزا نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس سلسلہ میں ریاستی ہائی کورٹ سے بھی رجوع ہوں گے۔
ساتویں نظام ریاست حیدرآباد میر عثمان علی خان کے پڑپوتے میر حمایت علی مرزا نے اس سارے معاملہ میں تاسف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پڑدادا مرحوم ہیں اور ان کا کسی بھی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ انتخابات کے مواقع پر عوامی مسائل پر بات کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی جائے انہوں نے استفسار کیا کہ جس شخص کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں رہا تو انہیں کیوں سیاست میں گھسیٹا جارہا ہے؟ اور کیوں ان کے خلاف ناشائستہ الفاظ استعمال کیے جارہے ہیں؟؟

میر حمایت علی مرزا نے کہا کہ جب ریاست حیدرآباد کا حکومت ہند میں انضمام عمل میں لایا گیا تھا تو اس وقت حکومت ہند نے ان کے دادا میر عثمان علی خان کو ریاست حیدرآباد کا راج پرمکھ بنایا تھا اور انہوں نے ہندوستان کے دستوری عہدہ پر بھی اپنی ذمہ داری بخوبی نبھائی تھی۔
انہوں نے زور دیکر کہا کہ ان کے دادا میر عثمان علی خان کی پوری زندگی ایک رؤشن کھلی کتاب ہے ان کےخلاف ایک بھی کریمنل کیس درج نہیں تھا۔
انہوں نے سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دادا کی خدمات،ان کی جانب سے حیدرآباد اور ریاست کی ترقی کے بے مثال کارناموں کی رؤشن مثالیں موجود ہیں۔ان خدمات کو یکسر بھلا کر محض ووٹوں کی خاطر انہیں ایک ویلن کے طورپر پیش کیا جارہا ہے جسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔
میر حمایت علی مرزا نے بتایا کہ انتخابات کے دؤران ان کے پڑدادا ساتویں نظام میر عثمان علی خان کے خلاف عائد کیے جانے والے الزامات اور ناشائستہ زبان کے استعمال کو روکنے اور ایسے افرا د کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں پابند بنانے کی انہوں نے وزیراعظم نریندرمودی،مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ،مرکزی اور ریاستی الیکشن کمیشن سے درخواست کی ہے۔

میر حمایت علی مرزا ساتویں نظام میر عثمان علی خان کے دوسرے فرزند جناب معظم جاہ بہادر کے پوتے ہیں۔
یہاں یہ تذکرہ ضروری ہے کہ ہر معاملہ میں ریاست حیدرآباد کے سابق فرماں روا نظام میر عثمان علی خان کے خلاف ناشائستہ الفاظ کا استعمال،ان کی شبیہ ایک ظالم بادشاہ کے طور پر پیش کرنا،انہیں ہندو مخالف بتاکر معصوم ہندوؤں کے جذبات کو بھڑکا کر ووٹ حاصل کرنا ایک عام بات بن کر رہ گئی ہے۔
جب کبھی تلنگانہ میں انتخابات ہوتے ہیں تب سیاسی تقاریر کے ذریعہ اورسوشل میڈیا پر نظام دؤر حکومت کے خلاف انتہائی گھٹیا پروپگنڈہ کیا جاتا ہے۔
جبکہ نظام دؤرحکومت کے کارناموں سے اپنے اسلاف کے ذریعہ واقف ہونے والے چند بزرگوں کا کہنا ہے کہ نظام دؤر کے کارنامےسورج کی طرح رؤشن ہیں،بلا لحاظ مذہب و ملت عوام کے لیے کی گئیں ان کی خدمات سے آج بھی عوام مستفید ہورہے ہیں۔
زیادہ تر حساس شہریوں کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ افسوس تو تب ہوتا ہے جب اپنی سیاسی تقاریر میں ریاست حیدرآباد کے مسلم حکمراں کو ظالم و جابر کے طور پر اہانت آمیز انداز میں پیش کرنے والوں میں زیادہ تر وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی پیدائش نظام دؤر حکومت میں تعمیر کردہ زچگی خانوں میں اور جن کی تعلیم نظام دؤر حکومت میں تعمیر کردہ اسکولوں اور کالجس کی عمارتوں میں ہوئی ہے۔
ان کا فضائی،ٹرین اور بس سفر نظام دؤر حکومت میں قائم ایرپورٹ،ریل اور بس سرویس سے ہوتا ہے،اور یہ قانونی انصاف کے لیے جس ریاستی ہائی کورٹ سے رجوع ہوتے ہیں وہ بلند وبالا اور شاہکار عمارت بھی انہی نواب میر عثمان علی خان نے تعمیر کروائی ہے۔ملک کی مشہور عثمانیہ یونیورسٹی،بیگم پیٹ ایرپورٹ،اسٹیٹ بینک آف حیدرآباد سمیت کئی تاریخی عمارتیں اور ادارے انہی کے دؤر حکومت کی مرہون منت ہے۔

اور یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو نظام دؤر حکومت میں تعمیر کردہ عثمان ساگر اور حمایت ساگر کا پانی پی پی کر نظام کو کوستے ہیں اور اپنے حقیرسیاسی مفاد کے لیے ان کی بے عزتی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہی لوگ جب یہ بیمار ہوتے ہیں تو علاج کے لیے ان کی پہلی ترجیح نظام دؤر حکومت میں تعمیر کردہ عالیشان نظام انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسس(نمس) ہوتاہے!!
لنچ اور ڈنر یہ اسی نظام کے تعمیرکردہ فلک نما پیلس میں کرنے کو اپنی شان سمجھتے ہیں!!
ان کی اور ان کے افراد خاندان کی تفریح بھی نظام دؤر حکومت میں قائم زو پارک،حسین ساگر،سالار جنگ میوزیم میں ہوتی ہے!!
سوشل میڈیا پر اکثر بحث کے دؤران چند صارفین اس بات کا برمحل اظہار کرتے ہیں کہ ” قابل غور بات یہ ہے کہ اپنی زہریلی تقاریر کے ذریعہ انتخابی مہم کے دؤران نظام اور ان کے دؤر حکومت پر زہر اگلنے والے اور دروغ گوئی سے کام لینے والے نظام دؤر حکومت میں ہی تعمیر کردہ ریاستی اسمبلی کی عمارت میں داخل ہوتے ہیں یا داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں!! "

مورخین نے نظام دؤر حکومت کے کارناموں کوتاریخ میں سنہری لفظوں میں لکھا ہے جو کہ ہندو اور مسلمان کو اپنی دو آنکھیں کہا کرتے تھے۔
ریاست حیدرآبادکے ساتویں اورآخری فرماں روا نواب میر عثمان علی خاں جنہوں نے 1911ء سے 1948ء ریاست حیدرآباد پر حکومت کی تھی کے کارناموں سے تاریخ کے صفحات بھرے پڑے ہیں۔
ایسا نہیں ہے کہ ان کے خلاف جو لوگ زہر اگلتے ہیں وہ ان تمام حقائق سے واقف نہیں ہیں مکمل طور پر واقف ہوتے ہیں!! لیکن برا ہو سیاست اور ووٹ حاصل کرنے کے طریقہ کا کہ اس کے لیے یہ کچھ بھی کر گزرنے کے لیے تیار رہتے ہیں موجودہ حالات میں "مسلم حکمراں اور مسلمان” ان کے لیے ووٹ حاصل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں!!
اور ان کے خلاف نفرت انگیز مہم کے ذریعہ برادران وطن کے ذہنوں میں نفرت پیدا کرنے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے۔لیکن سابق ریاست حیدرآباد اور موجودہ ریاست تلنگانہ کی گنگا جمنی تہذیب اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی اس ملک کے لیے ایک مثال تھی اور اب بھی ہے۔

