وقارآبادضلع کے پرگی میں دسہرہ جلوس کے دؤران مسجد کے سامنے شورشرابہ
دو گروہوں میں جھڑپ،متعدد زخمی،ضلع ایس پی کا دؤرہ،حالات قابو میں
حیدرآباد/وقارآباد: 16۔اکتوبر(سحرنیوزڈاٹ کام)
ریاست تلنگانہ کے پُرامن ماحول،برسوں قدیم گنگاجمنی تہذیب اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو چند شرپسند طاقتیں سبوتاج کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ضرورت شدید ہے کہ حکومت ایسے شرپسندوں کے خلاف سخت کارروائی کو یقینی بنائے اور ان معاملات میں پولیس کو پابند بنایا جائے کہ غیر جانبدارانہ تحقیقات کے بعد شرپسندوں کے خلاف کارروائی کی جائے چاہیں وہ کسی بھی فرقہ سے تعلق رکھتے ہوں۔
وقارآباد ضلع جو کہ پرامن اور گنگاجمنی تہذیب کا گہوارہ مانا جاتا ہے میں بھی چند شرپسند طاقتیں امن و امان کو وقفہ وقفہ سے مکدر کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں!!
گزشتہ رات وقارآباد ضلع کے پرگی اسمبلی حلقہ کے بلدی حلقہ نمبر ایک "ملے مونی گوڑہ ” میں موجود مسجد بلال کے قریب دسہرہ جلوس کے دؤران شرپسندی کا مظاہرہ کیا گیا جہاں عین عشا کی اذاں کے وقت جلوس کو روک کر جم کر شورشرابہ کرتے ہوئے نعرے بازی کرتے ہوئے پرگی کے پُرامن ماحول کو مکدر کرنے کی کوشش کی گئی۔

مقامی افراد نے بتایا کہ اس حرکت پر ایک طبقہ کی جانب سے اعتراض کیا گیا کہ اذاں اور نماز کے موقع پر اس حرکت کو بند کیا جائے جس کے بعد مسجد پر پتھراؤ کیا گیا!! مقامی افراد نے بتایا کہ دو شرپسند مسجد میں بھی داخل ہوگئے تھے جس کے بعد دو گروہوں میں جھڑپ ہوگئی جس میں دونوں جانب کے چند نوجوان زخمی بھی ہوئے۔

ڈی ایس پی پرگی سرینواس اور سرکل انسپکٹرلکشمی ریڈی،سب انسپکٹر پولیس دوما رمیش نے پولیس فورس کے ساتھ حالات پر قابو پالیا۔
مقامی افراد کے مطابق ان پر لاٹھیوں اور پتھروں سے حملہ کیا گیا جس میں محمد ریاض 22 سالہ،محمد سمیر 23سالہ،محمد سہیل 15 سالہ،احمد 20سالہ اور عقیل 28 سالہ زخمی ہوگئے جن کے سروں،آنکھ اور ہاتھوں پر شدید زخم آئے ان تمام کو پرگی کے سرکاری ہسپتال منتقل کیا گیا ان میں سے چار نوجوانوں محمد ریاض،محمد سمیر،محمد سہیل اور احمد کے زخموں پر ٹانکے لگائے گئے۔

"ضلع وقارآباد کے پرگی میں مسجد بلال کے سامنے عشا کی اذاں کے وقت کا منظر اور جھڑپ میں زخمی ہونے والے نوجوان” (ویڈیو)
اس سلسلہ میں آج ایک طبقہ کی جانب سے بڑی تعداد میں رکن اسمبلی پرگی مہیش ریڈی کی رہائش گاہ پر دھرنا منظم کیا گیا۔سڑک پر بیٹھ کر راستہ روکو احتجاج کرتے ہوئے اس علاقہ کے رکن بلدیہ کے شوہر کی گرفتاری کامطالبہ کیا گیا جن کا تعلق ٹی آر ایس پارٹی سے ہے۔

ان احتجاجیوں کا الزام ہے کہ اس واقعہ میں متعلقہ رکن بلدیہ کے شوہر ملوث ہیں جبکہ رکن بلدیہ کے شوہر کا استدلال ہے کہ اس واقعہ سے ان کو کوئی تعلق نہیں ہے اور اس واقعہ کے وقت وہ موجو ہی نہیں تھے۔ واقعہ کی اطلاع کے فوری بعد رکن اسمبلی پرگی مہیش ریڈی کی فون پر ہدایت کے بعد ہی وہ جائے مقام پر پہنچے تھے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ جان بوجھ کر انہیں اس واقعہ میں ملوث کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔متعلقہ رکن بلدیہ کے شوہر کے مکان پر پولیس پکٹ بٹھادی گئی ہے۔
اس واقعہ کی اطلاع کے بعد آج ایس پی ضلع وقارآباد مسٹر ایم۔نارائنا پرگی پہنچ گئے ہیں اور وہیں کیمپ کرتے ہوئے حالات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

دونوں جانب کے زخمی نوجوانوں کی جانب سے پولیس میں شکایت درج کروانے کی اطلاعات ہیں۔بتایا گیا ہے کہ اس جھڑپ میں سی۔آنند،الاڈی ملیش، گنیش اور دیگر بھی زخمی ہوئے ہیں۔
پرگی میں حالات کو دیکھتے ہوئے زائد پولیس فورس کو تعینات کردیا گیا اور حالات قابو میں ہیں۔
حکومت اور پولیس سے مطالبہ کیا جارہا ہے اس علاقہ کے سی سی کیمرہ فوٹیج اور دستیاب ویڈیوس کا مشاہدہ کرتے ہوئے اس شرانگیزی میں ملوث شرپسندوں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔

اس واقعہ کے بعد میڈیا کے ایک مخصوص گوشہ کی جانب سے باور کروایا جارہا ہے کہ جلوس کے موقع پر اس علاقہ کی برقی سربراہی بند کرکے جلوسیوں پر لاٹھیوں اور پتھروں سے حملہ کرتے ہوئے چند نوجوانوں کو شدید زخمی کیا گیا ہے!
جبکہ سحرنیوزڈاٹ کام کے پاس موجود اس ویڈیو میں مسجد،مسجد سے اذاں کے صدا اور اسی دؤران مسجد کے سامنے شور شرابہ اور نعروں کی گونج باآسانی سنی جاسکتی ہے۔اور اس علاقہ کی اسٹریٹ لائٹس کو روشن دیکھا جاسکتا ہے۔

