گاندھی ہسپتال میں دو بہنوں کو یرغمال بنا کر چار دنوں تک اجتماعی عصمت ریزی کا شرمناک واقعہ!؟

گاندھی ہسپتال میں دو بہنوں کو یرغمال بنا کر اجتماعی عصمت ریزی کا الزام !؟
متاثرہ خاتون کی شکایت پر پولیس میں کیس درج
لیاب ٹیکنیشن اوما مہیشور پولیس تحویل میں،مزید تین ملزموں کی تلاش

حیدرآباد:16۔اگست(سحرنیوزڈاٹ کام)

 ریاست تلنگانہ کے بشمول پڑوسی ریاستوں آندھراپردیش، کرناٹک ، مہاراشٹرا اور اڑیسہ و چھتیس گڑھ کے مختلف مقامات سے بڑی تعداد میں مریضوں کو بہتر علاج کی غرض سے حیدرآباد/سکندرآباد کے سب سے بڑے اور سب سے مشہور گاندھی ہسپتال سے رجو ع کیا جاتا ہے۔

کوروناوباء کی دونوں لہروں کے دؤران گاندھی ہسپتال صرف کوویڈ مریضوں کے علاج کی غرض سے مختص کیا گیا تھا جہاں تلنگانہ کے تمام اضلاع کے علاوہ مذکورہ بالا ریاستوں سے بڑی تعداد میں کورونا وائرس متاثرین کو گاندھی ہسپتال منتقل کرتے ہوئے ان کا بہترین علاج کیا گیا تھا۔

تاہم آج اسی گاندھی ہسپتال سے ایک رونگھٹے کھڑے کردینے اور شعبہ طب جیسے مقدس پیشہ کو بدنام کرنے والا ایک شرمناک واقعہ تاخیر سے منظر عام پر آیا ہے۔ جہاں ایک خاتون نے لیاب ٹیکنیشن پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ دو بہنوں کو ایک کمرہ میں چار دنوں تک مقفل کرکے اپنے تین ساتھیوں کے ہمراہ اجتماعی عصمت ریزی جیسا گھناؤنا کھیل کھیلتا رہا!

دونوں متاثرین میں سے ایک متاثرہ خاتون چلکل گوڑہ پولیس اسٹیشن سے رجوع ہوکر اس واقعہ کی شکایت درج کروائی ہے جب کہ اس کی متاثرہ بہن لاپتہ ہے۔

اس گھناؤنے واقعہ کی تفصیلات کے مطابق محبوب نگر کی ساکن ایک خاتون اپنی ایک بہن کے ساتھ اپنے شوہر کے علاج کی غرض سے 4 اگست کو گاندھی ہسپتال سے رجوع ہوئی۔مریض کوہسپتال میں شریک کرلیا گیا تھا تاہم اس شخص کی بیوی اور اس کی بہن کو اطلاع کے بناء مریض کو نامعلوم وارڈ میں منتقل کردیا گیا۔

وارڈ کی تفصیلات نہ ملنے کی وجہہ سے دونوں بہنیں ہسپتال کے مختلف وارڈس میں مریض کوتلاش کرنے لگیں لیکن کوئی پتہ نہیں چل پایا۔

پولیس میں درج کروائی گئی شکایت میں اس خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ گاندھی ہسپتال کے لیاب ٹیکنیشن اوما مہیشور سے یہ دونوں بہنیں مریض سے متعلق تفصیلات حاصل کرنے کی غرض سے رجوع ہوئیں تو اس نے ان خواتین کو وارڈ کی تفصیلات بتانے کا یقین دلاتے ہوئے ہسپتال کے ایک کمرے میں قید کردیا اوراس درندہ صفت اوما مہیشور نے اپنے تین ساتھیوں کے ساتھ مل کر ان دونوں بہنوں کو نشہ آور ادویہ کھلا کر چار دنوں تک ان کے ساتھ اجتماعی عصمت ریزی کی گئی۔

تاہم چھوٹی بہن کسی طرح اس قید سے آزاد ہوتے ہوئے چلکل گوڑہ پولیس اسٹیشن پہنچ گئی اور پولیس میں درج کروائی گئی اپنی شکایت میں اس تمام واقعہ کا ذکر کیا۔

وہیں اس لڑکی کی بڑی بہن کا کوئی پتہ نہیں ہے۔اطلاع ہے کہ ان دونوں بہنوں کو ہسپتال کے کمرہ میں حبس بیجا میں رکھ کر اور انہیں نشہ آورادویہ کھلاتے ہوئے اجتماعی عصمت ریزی میں لیاب ٹیکنیشن اومامہیشور اور تین سیکورٹی گارڈس ملوث ہیں!

چلکل گوڑہ پولیس نے متاثرہ چھوٹی بہن کی شکایت اور درج کروائے گئے بیان پر ایک کیس درج رجسٹر کرلیا ہے اورتحقیقات میں مصروف ہے۔

اس سلسلہ میں پولیس لیاب ٹیکنیشن اوما مہیشور کو پولیس اپنی تحویل میں لیکر تفتیش میں مصروف ہے اور اس گھناؤنے واقعہ میں ملوث دیگر تین افراد کا پتہ لگارہی ہے جو کہ مفرور بتائے جاتے ہیں۔

گاندھی ہسپتال میں اس شرمناک واقعہ کے پیش آنے کی اطلاع کے بعد وہاں شریک دیگر مریضوں، ہسپتال انتظامیہ اور عوامی حلقوں میں تشویش کی لہر دؤڑ گئی ہے اور مطالبہ کیا جارہا ہے کہ اس گھناؤنے واقعہ کے تمام ملزمین کے خلاف بعد تحقیقات سخت قانونی کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔وزیرداخلہ محمدمحمود علی نے بھی اس معاملہ کے سامنے آنے کے بعد اعلیٰ پولیس عہدیداروں کا ایک اجلاس طلب کرتے ہوئے اس سارے معاملہ کی مکمل تحقیقات کی ہدایت دی تھی۔

بعدازاں پولیس تحقیقات کے بعد یہ سارا معاملہ جھوٹ پر مبنی اور بناوٹی پایا گیا تھا۔