ٹریفک سگنل پر کیاب ڈرائیور کی بے تحاشہ پٹائی کرنے والی لڑکی کے خلاف کیس درج ،ویڈیوس ہوئے وائرل

ٹریفک سگنل پر کیاب ڈرائیور کی بے تحاشہ پٹائی کرنے والی لڑکی کے خلاف کیس درج

پٹائی اور اصل واقعہ کے دو ویڈیوس ہوئے وائرل،لڑکی کے خلاف سخت کارروائی کا سوشل میڈیا پر مطالبہ

لکھنو: 03۔اگست(سحرنیوزڈاٹ کام)

Photo Courtesy : Twitter

ریاست اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ میں اودھ کراسنگ پر 30 جولائی کا ایک ٹریفک سگنل پر نوجوان کیاب ڈرائیور کی بے تحاشہ پٹائی اور تھپڑوں کی بارش کرتی ہوئی ایک لڑکی کا ویڈیو حال ہی میں سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمس پر وائرل ہوا تھا۔

اس دوران بیچ بچاؤ کرنے والے ایک نوجوان کو بھی اس لڑکی نے تھپڑ مارے تھے۔

جبکہ ٹوئٹر پر تو باقاعدہ اس لڑکی کے خلاف Arrest Lucknow Girl کے ہیاش ٹاگ کے ذریعہ ٹرینڈ بھی چلایا گیا جس میں لاکھوں ٹوئٹر صارفین نے  ٹوئٹ کرتے ہوئے اس لڑکی کی سخت مذمت کی. اتر پردیش پولیس سے مطالبہ بھی کیا کہ اس لڑکی کو فوری گرفتار کیا جائے۔

سوشل میڈیا پر یہ سوال اٹھایا گیا کہ اس لڑکی کو کس نے ان دونوں نوجوانوں کو سڑک پر اس طرح  پیٹنے کا حق دیا ہے؟ اگر واقعی کیاب ڈرائیور نے کوئی غلطی کی ہے تو سزاء دینے کا حق صرف پولیس یا عدالت کو ہے۔

اس سارے واقعہ کی خاص بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر زیادہ تر اور میڈیا پر خاص کر اس نوجوان کیاب ڈرائیور کے نام کو مخفی رکھا گیا ہے جب کہ اس کیاب ڈرائیور کا نام شہادت علی 35 سالہ اور اس نوجوان کو بھرے بازار میں بے عزت کرتے ہوئے اس کو پیٹنے والی لڑکی کا نام پریہ درشنی یادو بتایا جارہا ہے!!

Photo Courtesy : Twitter

کیاب ڈرائیور شہادت علی کا مطالبہ ہے کہ غیر ضروری طور پر اور بناء کسی غلطی پٹائی کرتے ہوئے اس کی عزت نفس سے کھیلا گیا ہے اس کی پہلے بھر پائی کی جائے۔

بعض ٹوئٹر صارفین نے اس وائرل ویڈیو کو دیکھتے ہوئے لکھا تھا کہ اس لڑکی نے اس نوجوان و معصوم کیاب ڈرائیور کو 22 تھپڑ مارے ہیں۔

اس واقعہ کی سب سے خاص بات یہ رہی ہے کہ اتنے تھپڑ کھانے کے باوجود کیاب ڈرائیور نوجوان اور بیچ بچاؤ کرنے والے نوجوان نے پلٹ کر ایک بھی تھپڑ اس لڑکی کو نہیں مارا اور نہ ہی وہاں سے فرار ہونے کی کوشش ہی کی۔ اسی سبب سوشل میڈیا پر ساری ہمدردی کیاب ڈرائیور کو حاصل ہوئی۔

لڑکی کی جانب سے کیاب ڈرائیور کی پٹائی کا منظر۔ (ویڈیو ایک منٹ)

https://twitter.com/SwatiJaiHind/status/1422125265421963266

اس واقعہ کا ویڈیو دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ اس دؤران کیاب ڈرائیور کہہ رہا ہے کہ میڈم میرا 25 ہزار کا موبائل بھی ٹوٹ گیا ہے جو میرے مالک کا ہے، جسے اس لڑکی نے سڑک پر پٹک دیا تھا. جب بھی یہ نوجوان کچھ کہنے کی کوشش کرتا لڑکی اس کے شرٹ کا کالر پکڑ کھینچتی اور تھپڑ مار دیتی۔

پہلے وائرل ہونے والے اس ویڈیو میں یہ لڑکی کہہ رہی تھی کہ اس کیاب ڈرائیور اور گاڑی میں بیٹھے دیگر دو نوجوانوں نے اس کے ساتھ بدتمیزی کی ہے۔ کبھی کہتی کہ اس کی گاڑی کو ٹکر دی ہے۔اس سارے واقعہ کی ویڈیو میں ایک ٹریفک جوان بھی وہاں خموش تماشائی کا رول ادا کرتے ہوئے قید ہوا ہے۔

اس واقعہ کا ایک سی سی ٹی فوٹیج بھی بالخصوص ٹوئٹر پر وائرل ہوگیا۔ جس کے بعد اصل واقعہ کا انکشاف ہوا کہ یہ لڑکی سگنل کے باوجود گزرنے والی تیز رفتار گاڑیوں کے سامنے سے اپنے کانوں میں ہیڈ فونس لگائے تیزی کے ساتھ چل رہی ایک بس اور کئی گاڑیوں کی ٹکر سے بچتے بچتے وہ اس کیاب کے سامنے آگئی، کیاب ڈرائیور نے چوکسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی کیاب کو فوری بریک لگادئیے ورنہ حادثہ ہونا طئے تھا۔”

” ٹریفک سگنل پر اصل واقعہ ( دو منٹ کا ویڈیو ) "

کیاب ڈرائیور نے جیسے ہی اپنی گاڑی روکی اس لڑکی نے اس کو ٹریفک سگنل پر ہی گاڑی سے کھینچ کر باہر نکالا اور تھپڑ مارنے شروع کردئیے۔

اس واقعہ کے بعد کیاب ڈرائیور کو پولیس نے اپنی تحویل میں لے کر پولیس اسٹیشن منتقل کیا۔

سی سی ٹی فوٹیج دیکھنے کے بعد لکھنؤ پولیس نے کہا کہ اس سارے واقعہ میں کیاب ڈرائیور بے قصور ہے اور اس کی کوئی غلطی نہیں ہے،ٹریفک سگنل پر اس کیاب ڈرائیور نے جب فوری اپنی گاڑی کو بریک لگائے یہ لڑکی پہلے تو کیاب کے سامنے سے گزر گئی اور پھر واپس آکر یہ سارا ڈرامہ کیا!

اس سارے معاملہ میں پولیس نے لڑکی کو قصوروار مانتے ہوئے کیاب ڈرائیور نوجوان کی شکایت پر اس لڑکی کے خلاف پینل کوڈ کی مختلف دفعات کے تحت باقاعدہ ایک ایف آئی آر درج کرلیا ہے۔

ایڈیشنل ڈی سی پی سنٹرل چرنجیوی ناتھ سنہا کے بموجب اس لڑکی کی شناخت کرلی گئی ہے جس کا نام پریہ درشنی یادو ہے۔

Photo Courtesy : Twitter

اس سلسلہ میں سواتی مالیوال،صدر نشین دہلی ویمن کمیشن نے بھی کیاب ڈرائیور کو لڑکی کی جانب سے پیٹے جانے والا ویڈیو شیئر کرتے ہوئے ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ ” سی سی ٹی وی سے لگتا ہے کہ یہ لڑکی اس غریب ٹیکسی ڈرائیور کو بری طرح پیٹ رہی ہے کیونکہ اس نے گاڑی نہیں روکی،یہ بہت شرمناک ہے۔اس لڑکی کو مارنے کا حق کس نے دیا؟اس معاملے میں پولیس تحقیقات کرے اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے پر لڑکی کے خلاف سخت کارروائی کی جائے "

یاد رہے کہ چند ماہ قبل بھی ایک خاتون نے ایک زوماٹو کے ڈیلیوری بوائے کو مارکر اس پر بدتمیزی کا الزام عائد کرتے ہوئے خود کو زخمی کرلیا تھا اور اس کا ویڈیو وائرل کردیا تھا۔

تحقیقات کے بعد معلوم ہوا کہ یہ خاتون رقمی ادائیگی نہ کرنے اور سوشل میڈیا پر مشہور ہونے کی غرض سے ایسا کیا تھا۔اس میں زوماٹو کے ڈیلیوری بوائے کا کوئی قصور نہیں تھا۔

ٹوئٹر پر اب یہ بحث چل پڑی ہے کہ اس طرح تو کوئی بھی لڑکی کہیں بھی محض سستی شہرت کے لیے نوجوانوں کو نشانہ بناسکتی ہے اور انہیں برسر عام پیٹ بھی سکتی ہے اس سلسلہ کو فوری بند کرنے شدید ضرورت ہے۔