کانگریس حکومت دو سال کی مہمان، دوبارہ بی آر ایس کا اقتدار یقینی، تانڈور میں روڈ شو سے کارگزار صدر بی آر ایس کے ٹی آر کا خطاب

کانگریس حکومت     دو سال کی مہمان ،    دوبارہ بی آرایس کا اقتدار یقینی
تانڈور میں روڈ شو سے کارگزار صدر بی آرایس کے ٹی آر کا خطاب

وقارآباد/تانڈور،8۔فروری(سحرنیوز ڈاٹ کام)

کے۔تارک راما راو(کے ٹی آر)    کارگزار صدر بی آر ایس پارٹی و سابق ریاستی وزیرآئی ٹی و بلدی نظم نسق نے سابق رکن اسمبلی تانڈور پائلٹ روہت ریڈی کی زیرصدارت آج 8 فروری،اتوار کے دن وقارآباد ضلع کے تانڈورٹاؤن کے اندراچوک پر پارٹی کی جانب سے بلدی انتخابات میں حصہ لینے والے بی آر ایس پارٹی کے تمام 36امیدواروں کے حق میں انتخابی روڈ شو سے خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ کانگریس اور بی جے پی ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں، انہوں نے کہا کہ دہلی میں راہول گاندھی مودی مخالف مہم میں مصروف ہیں تو وزیراعلیٰ ریونت ریڈی وزیراعظم نریندر مودی کو اپنا بڑا بھائی کہتے ہیں۔

کے ٹی آر نے کہا کہ وزیراعلیٰ ریونت ریڈی کی بی جے پی میں شمولیت یقینی ہے اور ریاست میں کانگریس حکومت صرف دو سال کی مہمان ہے پھر بی آر ایس کا دوبارہ قتدار پر آنا       اور کے سی آر کا وزیراعلیٰ بننا طئے ہے۔

اپنے خطاب میں کے ٹی آر نے الزام عائد کیا کہ کانگریس کی 6 گیارنٹی اور دیگر کئی اسکیمات کے جھانسے میں آکر عوام نے کانگریس کو ریاست کا اقتدار حوالے کیا تھالیکن یہ عوام دشمن حکومت ثابت ہوئی ہے۔ انہوں نے    کہا   کہ بی آر ایس دورحکومت میں مختلف فلاحی اسکیمات سے عوام کو مستفید کیا گیا تھالیکن کانگریس حکومت ماہانہ وظائف اور     رعیتو بندھو کی رقم وقت پر دینے کے موقف میں نہیں ہے اور کسانوں کو کھاد فراہم کرنے میں بھی ناکام ہوگئی ہے ۔

کارگزار صدر     بی آر ایس کے ٹی آر نے الزام عائد کیا کہ جب ان اسکیمات پر عدم عمل آوری پر سوال کیا جاتا ہے تو وزیراعلیٰ ریونت ریڈی کی جانب سے غیر پارلیمانی الفاظ کے ذریعہ دھمکیاں دی جاتی ہیں۔کے ٹی آر نے اپنے خطاب میں الزام عائد کیا کہ ریونت ریڈی دو سال کے دوران ریاست کو ترقی دینے کے بجائے صرف سابق وزیراعلیٰ کے سی آر کو کوسنے میں مصروف ہیں۔

کے ٹی آر نے اپنے ڈھائی منٹ کے اردو خطاب میں کہا کہ کانگریس اور ریونت ریڈی نے وعدہ کیا تھا کہ شادی مبارک اسکیم کے تحت ایک لاکھ روپئے کے علاوہ ایک تولا سونا دیا جائے گاانہوں نے طنزیہ الزام عائد کیا کہ سونا دینا تو دور کی بات ہے وزیراعلیٰ ریونت ریڈی غریب عوام کو سونے تک نہیں دے رہے ہیںاور غریبوں کی بستیاں اجاڑنے میں مصروف ہیں ،اسی طرح غریب خواتین کو ہر ماہ ڈھائی ہزار نہیں دئیے جارہے اور نہ رمضان کا تحفہ دیا جارہا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ مینارٹی ڈکلریشن کے تحت چار ہزار کروڑ کا فنڈ مختص کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے ہتھیلی میں جنت دکھا کر اقلیتوں کے ووٹ حاصل کیے گئے انہوں نے سوال کیا کہ دو سال میں اقلیتوں کو کیا حاصل ہوا؟

کارگزار صدر بی آر ایس کے ٹی آر نے اپنے خطاب میں کہا کہ اگر غریبوں کے مسیحا کے سی آر کو واپس لانا ہے توتانڈور کے بلدی انتخابات میں بی آر ایس کے زیادہ سے زیادہ امیدواروں کا کامیاب بنائیں تاکہ ریاست میں خوشحالی ،امن و امان اور بھائی چارہ کو دوبارہ فروغ حاصل ہو ۔

کے ٹی آرنے اپنے خطاب میں کہا کہ بی آر ایس حکومت نے تانڈور میں نرسنگ ہسپتال کے قیام کومنظوری دی تھی لیکن وزیراعلیٰ ریونت ریڈی نے اس کو میڈیکل کالج میں تبدیل کرتے ہوئے اپنے حلقہ اسمبلی کوڑنگل منتقل کرلیا۔ انہوں نے چیلنج کیا کہ اس بات کو غلط ثابت کرنے کے بی آرایس حکومت کی جانب سے جاری کردہ جی او منظر عام پر لایا جائے۔

اس روڈ شو سے خطاب کرتے ہوئے سابق رکن اسمبلی تانڈورپائلٹ روہت ریڈی نے کہا کہ سابق وزیراعلیٰ کے سی آراور سابق وزیر کے ٹی آر نے ان کی نمائندگی پر تانڈورکی ترقی کے لیے 1,600؍کروڑ منظور کیے تھے انہوں نے بلدیہ تانڈور کے 36بلدی حلقوں کے لئے بی آر ایس پارٹی امیدواروں کو کامیاب بنانے کی اپیل کی۔

اس روڈ شو میں سابق صدر ضلع لائبرریز راجو گوڑ ، انچارج بلدی انتخابات سری شیل ریڈی، صدر نشین بلدیہ کے امیدوار پٹلولا نرسملو،ڈاکٹر سمپت کمار، بلدی امیدواراور  دیگر پارٹی قائدین شریک تھے۔