وقارآباد دفتر کلکٹریٹ پر اینٹی کرپشن بیورو کا دھاوہ، جونیئر اسسٹنٹ ریونیوسیکشن سجاتا 15 ہزار روپئے کی رشوت لیتے ہوئے گرفتار

وقارآباد دفتر کلکٹریٹ پر اینٹی کرپشن بیوروکے عہدیداروں کا دھاوہ
جونیئراسسٹنٹ ریونیوسیکشن سجاتا 15 ہزار روپئے رشوت لیتے ہوئے گرفتار

حیدرآباد/وقارآباد:12۔اگست (سحرنیوزڈاٹ کام)

محکمہ اینٹی کرپشن بیورو کی جانب سے ریاست کے مختلف اضلاع میں رشوت طلب اور قبول کرنےوالے ملازمین سرکار کیخلاف بڑے پیمانے پر دھاوے اور کارروائی کا سلسلہ جاری ہے۔تاہم چند بدعنوان سرکاری ملازمین اپنی روِش سے باز آنے تیار نہیں ہیں۔!! 

آج دفتر کلکٹریٹ وقارآباد میں محکمہ اینٹی کرپشن بیورو کے عہدیداروں کے اچانک دھاوے اور تلاشی کے بعد سنسنی پھیل گئی۔محکمہ اینٹی کرپشن بیورو نے اپنی اس کارروائی میں دفتر کلکٹریٹ وقارآباد کے محکمہ مال (ریونیو) سیکشن میں بطور جونیئر اسسٹنٹ برسرخدمت کے۔سجاتا کو اس وقت پکڑ لیا جب وہ ایک شخص سے 15 ہزار روپئے کی رقم طلب اور قبول کر رہی تھیں۔

اس کارروائی میں رشوت کی رقم کی ضبطی اور سجاتا کو اپنی تحویل میں لینے کے بعد ڈی ایس پی محکمہ اینٹی کرپشن بیورو ضلع رنگاریڈی آنند کمار نے میڈیا کو بتایاکہ محکمہ کو کے۔سجاتا کیخلاف ایک شکایت موصول ہوئی تھی کہ وہ دو ایکڑ اسائنڈ اراضی کے کاغذات ضلع کلکٹر کی منظوری کے بعد دفتر کلکٹریٹ سے دفتر تحصیلدار نواب پیٹ منڈل کو روانہ کرنے کے لیے 15 ہزار روپئے کی رشوت طلب کر رہی ہیں۔

جس پر ڈی ایس پی محکمہ اینٹی کرپشن بیورو ضلع رنگاریڈی آنند کمار کی قیادت میں آج 12 اگست کو دھاوہ منظم کرتے ہوئے شکایت کنندہ کے پاس سے 15 ہزار روپئے بطور رشوت طلب اور قبول کرتے ہوئے ریونیوسیکشن کی جونیئر اسسٹنٹ کے۔سجاتا کوپکڑلیا گیا۔ان کے بائیں ہاتھ کے نشانات کیمیکل کی مدد سے حاصل کرلیے گئے ہیں۔
ڈی ایس پی محکمہ اینٹی کرپشن بیورو ضلع رنگاریڈی آنند کمار نے بتایا کہ دفتر کلکٹریٹ وقارآباد کے ریونیوسیکشن میں برسر خدمت جونیئر اسسٹنٹ کے۔سجاتا کو رشوت کی رقم حاصل کرتےہوئے باقاعدہ گرفتار کرلیا گیا ہے بعدازاںانہیں عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا۔ بتایا جارہا ہے کہ سجاتا دو سال قبل ہی سرکاری ملازمت حاصل کی تھیں۔

محکمہ اینٹی کرپشن بیورو نے عوام سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی سرکاری ملازم کی جانب سےسرکاری کام کی انجام دہی کےلیے رشوت طلب کیےجانے پرمحکمہ اے سی بی کے ٹول فری نمبر 1064 پر اطلاع دیں تو ان بدعنوان عہدیداروں کیخلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔اور ساتھ ہی اطلاع دینے یا شکایت کرنے والوں کی شناخت پوشیدہ  رکھی جائے گی۔