کوڑنگل کے دُودیال منڈل میں کلکٹر وقارآباد ضلع اور دیگر عہدیداروں پر کسانوں اور دیہاتیوں کا حملہ، ضلع کلکٹر کی گاڑی سمیت تین گاڑیوں کو نقصان

کوڑنگل کے دُودیال منڈل میں کلکٹر وقارآباد ضلع اور دیگر عہدیداروں پر کسانوں اور دیہاتیوں کا حملہ
ضلع کلکٹر کی گاڑی سمیت تین گاڑیوں کو نقصان، دو عہدیدار زخمی، حملہ کیخلاف سرکاری ملازمین کا احتجاج
اس کو حملہ نہ کہا جائے : ضلع کلکٹر کا بیان، خاطیوں کے خلاف ہوگی سخت کارروائی : آئی جی پی کا بیان

حیدرآباد/وقارآباد: 11۔نومبر
(سحر نیوز ڈاٹ کام/نمائندہ خصوصی)

وقارآباد ضلع کے اسمبلی حلقہ کوڑنگل کے دودیال منڈل کے لگا چرلہ میں فارما ولیج کے قیام کے لیے کسانوں سے اراضیات کے حصول اور عوامی رائے حاصل کرنے کی غرض سے آر بی تانڈہ پہنچے کلکٹر ضلع وقارآباد پرتیک جین، کوڑنگل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے عہدیدار وینکٹ ریڈی اور دیگر عہدیداروں اور ان کی گا ڑیوں پر مقامی کسانوں اور دیہاتیوں نے پتھروں اور لکڑیوں سے حملہ کر دیا۔

دیہاتیوں اور کسانوں کے مجمع میں پہنچے ضلع کلکٹر پرتیک جین پر حملہ کرنے کی کوشش بھی کی گئی ضلع کلکٹر برہم احتجاجیوں کے درمیان سے نکل کر اپنی کارمیں سوار ہوئے تو احتجاجیوں نے ان کی کار پر بھی پتھروں سے حملہ کرتے ہوئے گاڑی کاپچھلا شیشہ مکمل طور پر توڑ دیا اورکسی طرح ضلع کلکٹر ان احتجاجیوں کے درمیان سے بحفاظت روانہ ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

احتجاجیوں نے پتھراو کرتےہوئے جملہ تین گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچایا۔وائرل شدہ ویڈیوز میں دیکھا جاسکتاہےکہ احتجاج میں شامل ایک خاتون نے ضلع کلکٹر پر حملہ کرنے کی کوشش بھی کی جسے انہوں نے اپنے ہاتھ سے روک دیا۔احتجاجیوں کی برہمی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہےکہ جب کسی طرح الٹے قدموں سے ہجوم کے درمیان سے نکل کر ضلع کلکٹر پرتیک جین اپنی تباہ شدہ گاڑی میں سوار ہوکر روانہ ہوئے تو احتجاجیوں نے اس وقت بھی ان کی گاڑی پر حملہ کیا اور ایک طویل فاصلے تک ان کی گاڑی کا تعاقب کرتے ہوئے پتھر پھینکے۔

" اس حملہ کا مکمل ویڈیو یہاں دیکھا جاسکتا ہے "

https://www.facebook.com/khanyahiya276/videos/1081911246848448

 

وزیراعلیٰ تلنگانہ ریونت ریڈی کےحلقہ اسمبلی کوڑنگل کی ترقی کی غرض سے ریاستی حکومت کی جانب سےتشکیل شدہ کوڑنگل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے عہدیدار وینکٹ ریڈی کی گاڑی پر بھی ان احتجاجیوں نے پتھروں اور لاٹھیوں سے حملہ کیا گیا اس حملہ میں ایڈیشنل کلکٹر لنگیا نائیک بھی زخمی ہوگئے۔

اطلاعات کے مطابق موضع لگاچرلا سے دو کلومیٹر کے فاصلہ پر عہدیداروں نے فارما ولیج کے قیام کےمتعلق وہاں کےکسانوں اورعوام کی رائے حاصل کرنے کی غرض سے ایک گرام سبھا منعقد کی تھی جس پرکسانوں نے گاوں کے باہر گرام سبھا کے انعقاد پر اعتراض کیا۔ اس کے بعد ضلع کلکٹر پرتیک جین کی گاڑیوں کا قافلہ گاؤں میں داخل ہوا تو احتجاجیوں نے حکومت اور ا نکے خلاف نعرے لگائے۔

ان احتجاجیوں سے بات کرنے کی غرض سے جب ضلع کلکٹر اپنی گاڑی سے اتر کر احتجاجیوں کے مجمع میں پہنچے تو انہیں چاروں جانب سے گھیر لیا گیا اور دھکم پیل کرنے لگے۔ضلع کلکٹر نے انہیں سمجھانے کی کوشش بھی کی تاہم وہ کامیاب نہیں ہوئے۔دوسری جانب احتجاجیوں کا ایک گروپ جس میں خواتین بھی شامل تھیں ضلع کلکٹر وقارآباد کی گاڑی پرپتھراو اور حملہ کیا۔حالات انتہائی بے قابو اور کشیدہ ہوگئے تھے۔اس واقعہ کی اطلاع کےفوری بعدضلع ایس پی نارائن ریڈی آئی پی ایس بڑی تعداد میں پولیس فورس کیساتھ جائے مقام پر پہنچ گئے۔جسکے بعد حالات پر قابو پالیا گیا۔

اس واقعہ کی اطلاع کےفوری بعد آئی جی پی ملٹی زون۔2 وی۔ستیہ نارائنا وقارآباد پہنچ گئے۔ایس پی ضلع وقارآباد کے۔نارائن ریڈی کیساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کرتےہوئے انہوں نے کہاکہ آج کے اس واقعہ میں ضلع کلکٹر وقارآباد پرتیک جین،ایڈیشنل کلکٹر وقارآباد لنگیا نائیک ، چیئرمین کوڑنگل ڈیولپمنٹ اتھارٹی وینکٹ ریڈی اور دیگر عہدیداروں پر حملہ میں ملوث اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں کیخلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

آئی جی پی ملٹی زون۔2 وی۔ستیہ نارائنا وقارآباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے۔

آئی جی پی ملٹی زون۔2 وی۔ستیہ نارائنا نے کہاکہ لگا چرلہ اور قریبی مقامات پر ٹی جی آئی آئی سی کے لیے اراضیات اور اس پر عوامی رائے حاصل کرنے کی غرض سے ضلع کلکٹر وقارآباد، دیگر عہدیدار اور پولیس عہدیدار لگاچرلہ پہنچ کر سرکاری طور پر منعقدہ تقریب میں شرکت کی غرض سے گئے ہوئے تھے۔انہوں نے انکشاف کیاکہ اس تقریب کے دوران بوگامونی سریش نامی شخص نے ضلع کلکٹر پرتیک جین کو یہ غلط بارو کروایا کہ موضع میں ان سےبات چیت کےلیے بہت سےلوگ ان کا انتظار کررہے ہیں۔جس پرضلع کلکٹر اور دیگرعہدیدار اس موضع میں داخل ہوئے۔

بوگامونی سریش ضلع کلکٹر پرتیک جین کو گاؤں میں چل کر منتظر لوگوں سے بات کرنے کے لیے کہہ رہا ہے۔

آئی جی پی ملٹی زون۔2 وی۔ستیہ نارائنا نے بتایاکہ ضلع کلکٹر اور عہدیداروں کےپہنچنے کے بعد وہاں ان پر پتھروں اور لاٹھیوں سے حملہ کیا گیا۔ اس حملہ میں وینکٹ ریڈی چیئر مین کوڑنگل ڈیولپمنٹ اتھارٹی،ایڈیشنل کلکٹر لنگیا نائیک شدید زخمی ہوگئے اور ڈی ایس پی وقارآباد سرینواس کو معمولی زخم آئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اس حملہ کی شکایت کے بعد بھمرس پیٹ پولیس اسٹیشن میں تین کیس درج رجسٹر کرلیے گئے ہیں۔

آئی جی پی ملٹی زون۔2 وی۔ستیہ نارائنا نے کہاکہ اس حملہ کے واقعہ میں سیدھے طور پر ملوث اور انکے پیچھے موجود افراد کیخلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔آئی جی پی نے کہاکہ اس کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔تیکنیکی ٹیم، اسپیشل برانچ اور دیگر عہدیدارتمام ثبوت و شواہد جمع کریں گے۔انہوں نے انتباہ دیاکہ اس حملہ کے واقعہ کے پس پشت چاہے کوئی بھی ہوں انہیں ہرگز بخشا نہیں جائے گا۔آئی جی پی نے بتایاکہ ویڈیوز کی مدد سے حملہ میں ملوث افراد کی شناخت کرلی گئی ہے اور ان کےموبائل فون کال ریکارڈس کی بنیاد پر انہیں اکسانےوالوں کی شناخت کرتے ہوئے ان کیخلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے گی۔

دوسری جانب آج شام دیر گئے ضلع کلکٹر وقارآباد پرتیک جین نے کہا ہے کہ اس واقعہ کو میڈیا ان پر حملہ قرار نہ دے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں چند شرپسند ملوث ہیں۔اور وہ ایک معمولی واقعہ تھا جہاں ہمارے ہی ضلع کے کسان اور دیہات کے عوام موجود تھے جس میں ان کا کوئی رول نہیں ہے۔!!

اس واقعہ کے بعد دفتر کلکٹریٹ وقارآباد کےعلاوہ ضلع وقارآباد کےتمام مقامات پر سرکاری عہدیداروں اور ملازمین نےاس حملہ کی شدید مذمت اور اپنی خدمات کا بائیکاٹ کرنے میں مصروف تھے کہ واقعہ کے بعد فتر کلکٹریٹ پہنچے ضلع کلکٹر پرتیک جین نے احتجاجی عہدیداروں سے کہاکہ انہیں کچھ بھی نہیں ہواہے وہ اپنے دفتر میں جا رہے ہیں لہذا وہ بھی اپنے اپنے دفاتر میں جائیں اور کام پر رجوع ہوجائیں۔ ان عہدیداروں اور محکمہ مال کے عہدیداروں نے اس واقعہ کیخلاف کل 12 نومبر کو پین ڈاون اور خدمات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔

ضلع کلکٹر وقارآباد پرتیک جین دفتر کلکٹریٹ کے باہر احتجاج میں مصروف عہدیداروں کو سمجھاتے ہوئے۔

حملہ کے واقعہ کے بعد دودیال منڈل کے مواضعات دودیال،حکیم پیٹ، لاگا چرلہ، روٹی بنڈہ تانڈہ کا پولیس نے محاصرہ کرلیا ہے۔ کسی کی بھی گرفتاری کی اطلاع نہیں ہے۔

https://www.facebook.com/khanyahiya276/videos/843115444564652