ضلع کلکٹر وقارآباد اور دیگر عہدیداروں پر حملہ کا واقعہ : سابق ایم ایل اے کوڑنگل و بی آر ایس قائد نریندر ریڈی گرفتار، 14 دن کے لیے عدالتی تحویل میں روانہ

ضلع کلکٹر وقارآباد اور دیگر عہدیداروں پر حملہ کا واقعہ :
سابق ایم ایل اے کوڑنگل و بی آر ایس قائد نریندر ریڈی گرفتار، 14 دن کے لیے عدالتی تحویل میں روانہ
تمام ثبوت و شواہد موجود، 47 افراد کی شناخت 21 گرفتار : اے جی پی ستیہ نارائنا کا انکشاف

حیدرآباد/وقارآباد: 13۔نومبر
(سحر نیوز ڈاٹ کام/نمائندہ خصوصی)

حلقہ اسمبلی کوڑنگل کے دُودیال منڈل کے تحت موجود لگاچیرلہ میں 11 نومبر کو کلکٹر وقارآباد ضلع پرتیک جین، ایڈیشنل کلکٹر لنگیا نائیک، چیئرمین کوڑنگل ڈیولپمنٹ اتھارٹی وینکٹ ریڈی کے علاوہ دیگر عہدیداروں پر کسانوں اور دیہاتیوں نے حملہ کیا تھا اور ضلع کلکٹر  کی گاڑی سمیت تین گاڑیوں کو نقصان پہنچایا تھا۔

اس حملہ میں لنگیا نائیک اور وینکٹ ریڈی شدید زخمی اور ڈی ایس پی پرگی سرینواس معمولی زخمی ہوئےتھے۔اس سلسلہ میں بھمرس پیٹ پولیس اسٹیشن میں عہدیداروں کی شکایت کے بعد تین کیس درج کیے گئے تھے اور حملہ میں ملوث افراد کی ویڈیوز کے ذریعہ شناخت کی گئی۔اسی رات اس علاقہ میں انٹرنیٹ سرویس بند کرتےہوئے لگا چیرلہ اور دیگر دیہاتوں کو پولیس نے اپنے محاصرہ میں لیتے ہوئے متعدد افراد کو اپنی تحویل میں لے لیا۔

حملہ کے وقت لگا چیرلہ کی تصویر میں ضلع کلکٹر اور احتجاجی۔(فائل فوٹو)

اس معاملہ میں آج صبح سابق رکن اسمبلی کوڑنگل و بی آر ایس پارٹی قائد پی۔ نریندر ریڈی کو پولیس نے اس وقت اپنی تحویل میں لےلیا جب وہ جوبلی ہلز، حیدرآباد کے کے بی آر پارک میں مارننگ واک کررہے تھے۔بعدازاں انہیں وقارآباد منتقل کرتے ہوئےانہیں کوڑنگل کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں سے انہیں 14 دن کےلیے عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیاجسکے بعد پولیس نے پی۔نریندر ریڈی کو چیرلہ پلی جیل منتقل کر دیا۔

 

آج شام ریاستی آئی جی پی ملٹی زون۔2 مسٹر وی۔ستیہ نارائنا نے وقار آباد کا دؤرہ کرتے ہوئے انہوں نے دفتر کلکٹریٹ کے باہر ایس پی وقار آباد ضلع نارائن ریڈی کیساتھ میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ضلع کلکٹر اور دیگر عہدیداروں پرحملہ کروانے کے پیچھے سابق رکن اسمبلی کوڑنگل پی۔ نریندر ریڈی کی سازش کے تمام ثبوت و شواہد پولیس کے پاس موجود ہیں اور انہی بنیادوں پر عدالت نے انہیں جیل بھیجا ہے۔آئی جی پی نے میڈیا کو بتایا کہ اس حملہ کے کیس میں سابق رکن اسمبلی کوڑنگل نریندر ریڈی ملزم نمبر ایک ہیں۔

مزید تفصیلات سے میڈیا کو واقف کرواتے ہوئے ریاستی آئی جی پی ملٹی زون۔2 مسٹر وی۔ستیہ نارائنا نے بتایاکہ سریش نامی نوجوان 11 نومبر کو اس علاقہ میں فارما کمپنی کے قیام کےلیے اراضیات کا حصول اور عوامی رائے حاصل کرنے کی غرض سے منعقدہ سرکاری تقریب کے بعد ضلع کلکٹر پرتیک جین اور عہدیداروں کو یہ غلط باور کرواتے ہوئے لگا چیرلہ گاوں میں لے گیا تھا کہ وہاں مزید کسان اور دیہاتی ان سے اراضیات کے سلسلہ میں بات کرنا چاہتے ہیں اور اس کے بعد ہی ضلع کلکٹر اور عہدیداروں پر حملہ کیا گیا جو کہ منصوبہ بند سازش کا حصہ تھا۔

آئی جی پی نے بتایا کہ اب تک ویڈیوز،تحقیقات اور سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز کی مدد سےاس حملہ میں ملوث 47 افراد کی شناخت کی گئی ہے اور مزید افراد کی شناخت کی جا رہی ہے ان میں سے 21 افراد کو گرفتارکرتے ہوئے عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا ہے۔مزید افراد کی شناخت اور ان گرفتاری کے لیے 4 خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ریاستی آئی جی پی ملٹی زون۔2 مسٹر وی۔ستیہ نارائنا نے بتایاکہ وٹھل،دیوداس،گوپال نائیک،سریش،راجو اور وجئے عہدیداروں پر منظم حملہ کے سازشی ہیں۔

آئی جی پی ستیہ نارائنا نے بتایا کہ اب اس معاملہ میں اقدام قتل کا بھی ایک کیس درج رجسٹر کیا گیا ہےاس طرح جملہ چار کیس درج کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ حملہ میں ملوث 42 افراد سے پوچھ تاچھ کے دوران انکشاف ہواکہ ان میں سے 19 افراد کی اس علاقہ میں اراضی ہی نہیں جہاں فارما کمپنی کے قیام کا منصوبہ ہے۔اس طرح اس معاملہ سے ان کا کوئی بھی تعلق نہ ہونے کے باوجود ان 19 افراد نے عہدیداروں پر حملہ کیا اور کسانوں اور دیہاتیوں کو اکسایا۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ حملہ آوروں کے پاس پتھر، لاٹھیاں اور لال مرچ کا پاوڈر بھی تھا۔آئی جی پی نے بتایا کہ دیوداس اورسریش اس حملہ کے اہم سازشی ہیں جن میں سے دیوداس کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ سریش مفرور ہے اور اس کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیموں کو متحرک کردیا گیا ہے۔آئی جی پی ستیہ نارائنا نے بتایاکہ ضلع کلکٹر وقارآباد پرتیک جین اور دیگر عہدیداروں پر کیے گئے اس حملہ میں ملوث کسی کو بھی بخشاء نہیں جائے گا چاہے انکی سیاسی پہنچ کہیں تک بھی ہو۔

دوسری جانب صدر آئی اے ایس اسوسی ایشن تلنگانہ مسٹر ششانک گوئل اور سیکریٹری جئیش رنجن نے آج اپنے صحافتی بیان میں کہاہیکہ ضلع کلکٹر وقارآباد اور دیگر عہدیداروں پر حملہ کےواقعہ پر سنجیدگی کیساتھ گہری نظر رکھی گئی ہے اور حکومت تلنگانہ سخت کارروائی میں مصروف ہے۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کے حملوں سے کسی بھی طرح سرکاری عہدیداروں کو اپنے فرائض کی انجام دہی سے نہیں روکا جاسکتا اور نہ ہی انکے عزائم کو کمزور ہی کیا جاسکتا ہے۔

آج بی جے پی رکن پارلیمان محبوب نگر شریمتی ڈی کے ارونا کو بھی پولیس نے لگا چیرلہ کا دورہ کرنے سے روک دیا ۔جس پر انہوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک رکن پارلیمان ہیں انہیں اس طرح موضع کا دورہ کرنے اور کسانوں و دیہاتیوں سے ملاقات کا موقع نہ دینا غلط ہے۔انہوں نے اس معاملہ میں بے قصور افراد کو گرفتار نہ کرنے کا مطالبہ کیا بعدازاں شریمتی ڈی کے ارونا نے دفتر کلکٹریٹ وقارآباد پہنچ کر ضلع کلکٹر پرتیک جین سے ملاقات کرتے ہوئے حملہ سے متعلق تفصیلات سے واقفیت حاصل کیں۔

” ضلع کلکٹر وقار آباد اور دیگر عہدیداروں پر حملہ سے متعلق تفصیلی رپورٹ اور ویڈیو اس لنک پر "

کوڑنگل کے دُودیال منڈل میں کلکٹر وقارآباد ضلع اور دیگر عہدیداروں پر کسانوں اور دیہاتیوں کا حملہ، ضلع کلکٹر کی گاڑی سمیت تین گاڑیوں کو نقصان