وقف ترمیمی بِل اور اپوزیشن!

وقف ترمیمی بِل اور اپوزیشن!

شکیل رشید 
(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز)

مرکزی حکومت نے وقف ترمیمی بِل جمعرات 8 اگست کو لوک سبھا میں پیش کردیا لیکن اسے منظور نہیں کراسکی۔بِل کےمنظور نہ ہونے کی بنیادی وجہ اپوزیشن کی طرف سے شدید ترین مخالفت بنی۔ آج جس طرح اپوزیشن نےمتحد ہو کر وقف ترمیمی بِل کی مخالفت کی اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کسی بھی جمہوریت میں اپوزیشن کا کمزور ہونے کا مطلب ملک کی اقلیتوں، ملک کے پچھڑوں اور غریبوں کا کمزور ہونا ہے۔

ایک طاقتور اپوزیشن متحد ہوکر حکومت پر زبردست دباؤ ڈال سکتی ہے اور اسے اپنے فیصلے بدلنے یامؤخر کرنے پر مجبور کرسکتی ہے۔اگر 2024ء کے الیکشن سے قبل کے حالات پر نظر ڈالی جائے تو آج اور پہلے کا فرق خوب واضح ہوکر سامنے آجاتا ہے۔تیسرے ٹرم سے قبل کے دونوں ٹرم میں مودی حکومت انتہائی طاقتور تھی اور اپوزیشن انتہائی کمزور،اسی لیے پارلیمنٹ میں مودی حکومت نے کچھ ایسے بِل منظور کراکے قانون کی شکل میں بدل دیئے تھے، جو اس ملک کے آئین کے ذریعے دیئے گیے آئینی حقوق کے خلاف تھے۔ جیسے کہ شہریت کا قانون۔

جمعرات کو اپوزیشن کے شدید احتجاج اور مخالفت کے بعد یہ بات بھی ثابت ہوگئی کہ کسی بھی جمہوریت میں کسی ایک پارٹی یا ایک ہی جیسی فکر رکھنےوالی سیاسی پارٹیوں کے اتحاد کا حکومت بنانا ملک اور عوام کےلیے انتہائی تشویش ناک ثابت ہوسکتاہے، بالخصوص اقلیتوں کے لیے۔اگر جمعرات کے روز اپوزیشن نے متحد ہوکر لوک سبھا میں وقف ترمیمی بِل کی مخالفت نہ کی ہوتی تو یقیناً یہ بِل منظور کرلیا جاتا اور مسلمانوں پر اسے اسی طرح سے تھوپ دیا جاتا جیسے کہ شہریت کا بِل قانون کی شکل میں تھوپا گیا ہے۔

یقیناً سپریہ سولے سے لےکر اکھلیش سنگھ یادو تک اور کانگریس سے لے کر سماج وادی پارٹی تک تمام ہی اپوزیشن لیڈران اور سیاسی جماعتیں مذکورہ بِل کو مؤخر کرانے یا اسے ٹھنڈے بستے میں بھیجنے کے لیے مبارکباد کی مستحق ہیں۔

پارلیمانی امور اور اقلیتی امور کے مرکزی وزیر کرن رجیجو نے بِل پیش کیا تھا اور پیش کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا تھا کہ یہ بِل” غریبوں اور تمام مسلمانوں کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے لایا گیا ہے اور اگر یہ بِل قانون بن جاتا ہے تو اربوں روپئے کی مالیت کی وقف کا غلط استعمال رک جائے گا اور غریب مسلمان کو اس کا فائدہ پہنچے گا۔” لیکن اپوزیشن نے رجیجو کے مذکورہ دعوے کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

اپوزیشن کا کہناہے کہ بِل آئین کے ذریعے دیئے گیے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے ،نیز ایوان کے قانونی اختیار سے باہر بھی ہے۔مطلب یہ کہ آئین نے جو آئینی حقوق دیئے ہیں ان سے ایوان چھیڑ چھاڑ نہیں کرسکتا،یہ اس کے قانونی اختیار میں نہیں ہے۔وقف ترمیمی بِل کے حوالے سے اب تک جو حقائق سامنے آئے ہیں اُن سے یہ ظاہر ہوتا ہےکہ اگر یہ بِل قانون بن گیا تو مساجد ، مقابر، درگاہوں اور مدارس کے انتظامات اور دیکھ ریکھ کرنے والوں کے لیے بھی اور مذکورہ مذہبی مقامات کے لیے بھی مشکلات اور مسائل پیدا ہوسکتے ہیں ۔ مدارس اسلامیہ پر تالے لگنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہناہےکہ وقف بورڈ کا سارا نظام لولا لنگڑا ہوجائے گا۔چونکہ اقلیتوں بالخصوص مسلم اقلیت کےتعلق سےمودی حکومت کا ٹریک ریکارڈ خراب رہا ہے، اس لیے کرن رجیجو کے دعوے پر یقین کرنے کے لیے نہ اپوزیشن آمادہ ہے اور نہ ہی اقلیتیں، بالخصوص مسلم اقلیت۔

لیکن ایک بات تو بہرحال سچ ہے، "وقف املاک کی لوٹ پاٹ” ۔ سوال یہ ہے کہ اب تک اس پر قابو پانے کے لیے کوئی قدم ذمے داران نے کیوں نہیں اٹھایا؟ کیوں وقف بورڈ اور وقف املاک کے اکثر ذمے داران پر بدعنوانیوں کے الزامات عائد ہوتے ہیں ؟ جِن وقف املاک پر قبضے ہوچکے ہیں انہیں واگزار کرانے کے لیے کیوں قدم نہیں اٹھائے جارہے ہیں؟ یہ اہم سوالات ہیں۔ان کے جواب لازمی ہیں۔

ایک سوال یہ بھی ہےکہ اگر مذکورہ ترمیمی بِل وقف بورڈ کو لولا لنگڑا کردےگا اور وقف املاک خطرے میں آجائیں گی تو کیا اب تک وقف بورڈ بہت فعال تھا اور اس کی املاک محفوظ تھیں؟

" لوک سبھا میں وقف ترمیمی بِل پر کس نے کیا کہا؟ ” 

" یہ بھی پڑھیں "

دودھ کے ٹینکر کو لاری کی ٹکر ، ڈرائیور ہلاک کلینئر زخمی، مدد کے بجائے لوگ دودھ کی لوٹ میں مصروف ہوگئے