دبئی میں طوفان اور شدید بارش، چند گھنٹوں میں بارش نے 75 سالہ ریکارڈ توڑ دیا، عمان ، پاکستان اور افغانستان میں بھی شدید بارش 100 سے زائد اموات

دبئی میں طوفان اور شدید بارش، چند گھنٹوں میں بارش نے 75 سالہ ریکارڈ توڑ دیا
ایئر پورٹ، میٹرو اسٹیشنس، سڑکیں اور گاڑیاں سیلابی پانی میں غرق، مزید بارش کی پیش قیاسی
عمان، پاکستان اور افغانستان میں بھی شدید بارش اور بجلی گرنے سے 100 سے زائد اموات

دبئی /دہلی: 17۔اپریل
(سحرنیوزڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)

متحدہ عرب امارات UAE# میں کل منگل کے دن چند گھنٹوں میں ہونے والی بارش نے دیڑھ سال کےدؤران ہونے والی بارش کا ریکارڈ قائم کر دیا۔ شدید گرج چمک کےساتھ طوفان اور شدید بارش نےصرف چند گھنٹوں میں دبئی اورصحرائی ملک متحدہ عرب امارات ہرطرف شدید بارش کے پانی سے لبریز ہوگئے۔شہر کے علاوہ اہم شاہراہیں اور اس کے بین الاقوامی ہوائی اڈہ میں سیلاب جیسی صورتحال پیدا ہوگئی۔بتایا جارہا ہے کہ  دبئی میں اس چند گھنٹوں کی بارش نے 75 سالہ ریکارڈ توڑ دیا ہے۔

دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ریکارڈ موسمیاتی اعداد و شمار کےمطابق شدید گرج و چمک کےساتھ بارش پیر کی رات شروع ہوئی جس نے دبئی کی ریت اور سڑکوں کو تقریباً 20 ملی میٹر بارش سے شرابور کر دیا۔مقامی وقت کےمطابق کل منگل کی صبح 9 بجے طوفان شدت اختیار کرگیا جو دن بھر جاری رہا۔ دبئی میں شدید بارش اور ژالہ باری ہوئی۔

سیلابی پانی بازاروں، شاپنگ مالس، میٹرو اسٹیشنوں میں جمع ہوگیا۔طوفانی بارشوں کی وجہ سےد بئی کی سب سے مصروف اور اہم شاہرا شیخ زاید روڈ کو بھی کئی مقامات سے بند کرنا پڑ گیا۔ٹریفک نظام کےمفلوج ہوجانے کے باعث کئی کلومیٹر تک طویل گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں۔حکومت نے عام شہریوں کو غیر ضروری گھروں سے نہ نکلنے کی ہدایت دی ہے۔دبئی کی سڑکوں پر گاڑیوں کو نصف سیلابی پانی میں غرق دیکھا گیا۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق منگل کی رات تک دبئی میں ایک ہی دن میں 142 ملی میٹر (14سنٹی میٹر) سے زائد بارش ہوئی ہے۔ دبئی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جوکہ بین الاقوامی سفر کے لیے دنیا کا سب سےمصروف اور طویل سفر کرنے والے امارات کا مرکز ہے۔ جبکہ اس ایئر پورٹ پر ایک سال میں 94 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوتی ہے۔

دبئی انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر ہوائی جہاز کے اترتے ہی ٹیکسی ویز پر سیلابی پانی کا ذخیرہ ہوگیا تھا۔منگل کی رات ہوائی اڈے پر طیاروں کی آمد کو روک دیا گیا اور مسافروں کو آس پاس کی سڑکوں پر سیلابی پانی سے گزر کر ٹرمینلز تک پہنچنے کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ دبئی انٹر نیشنل ایئر پورٹ کےحکام نے آج چہارشنبہ کو اعتراف کیاکہ سیلاب کےباعث حمل ونقل آمد و رفت محدودہوگئی اور پروازوں کی آمدو رفت بھی متاثر ہوئی ہے کیونکہ ہوائی جہازوں کا عملہ ہوائی اڈے تک نہیں پہنچ سکا۔

متحدہ عرب امارات کے حکام کے حوالے سے الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ مسلسل بارش کے باعث میں آپریشنل چیلنجز کی وجہ سے وہ چہارشنبہ کی صبح 8 بجے سے نصف شب تک دبئی انٹرنیشنل سے مسافروں کے داخلہ کو معطل کر رہا ہے۔دبئی سے ہندوستان کے لیے 29 اور پاکستان کے لیے 45 پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔دیگر ممالک کی پروازوں کا بھی یہی حال ہے۔پروزاوں کی بحالی میں کچھ وقت لگے گا۔دبئی انٹرنیشنل ایئر پورٹ نے X (سابقہ ٹوئٹر) پر ٹوئٹ کیا ہے کہ ہم ان چیلنجوں سے نمٹنے کے دوران آپ کے صبر اور سمجھ بوجھ کے لیے آپ کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

https://twitter.com/i/status/1780490595624010107

شہر میں سیلاب کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہےکہ خود پولیس اور ہنگامی عملے نے دبئی کی سیلاب زدہ سڑکوں اور گلیوں میں دھیمی رفتار سے گاڑیاں چلائیں ان گاڑیوں کی ایمرجنسی لائٹس تاریک سڑکوں پر چمک رہی تھیں۔دبئی کےایسے مناظر والے ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہیں جہاں چمکتی ہوئی بجلیاں عجیب مناظر پیش کررہی ہیں چمکتی ہے دنیا کی بلند ترین عمارت برج خلیفہ کےسرے کو چھونے کے بجلیاں بے تاب نظر آرہی تھیں۔دبئی کے بناء ڈرائیور والے خود کار میٹرو نیٹ ورک میں بھی رکاوٹیں پیدا ہوئیں اور وہاں بھی سیلابی مناظر دیکھنے میں آئے۔

متحدہ عرب امارات کے اسکولوں اور سات شیخوں کی فیڈریشن طوفان سے پہلے بڑے پیمانے پر بند کردئیے گئےتھے اور سرکاری ملازمین زیادہ تر گھروں سے کام کر رہے تھے۔عوام بھی اپنے گھر وں تک محدود رہے۔سڑکوں پر سیلابی پانی میں پھنسی ہوئی گاڑیوں کےمناظر والے ویڈیوز بھی وائرل ہوئے ہیں۔

دبئی اور متحدہ عرب امارات میں اس شدید طوفانی بارش کےباعث کئی مکانات بھی زیر آب آگئے ہیں۔حکام سڑکوں اور شاہراہوں سے پانی کی نکاسی میں مصروف ہیں۔زیر آب مکانات میں محصور مکینوں کو بھی بحفاظت باہر نکال لیا گیا۔آج سرکاری دفاتر کو تعطیل دے دی گئی،اطلاعات کے مطابق اس بارش کے دوران ایک 75 سالہ شخص کی موت ہوئی ہے تاہم سرکاری طور پر اموات کی اطلاعات نہیں ہیں۔

الجزیرہ کی رپورٹ کےمطابق متحدہ عرب امارات کے پڑوسی جزیرہ نماء ملک عمان میں ملک کی نیشنل کمیٹی برائے ایمرجنسی مینجمنٹ نے کہا کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران شدید بارشوں کےباعث کم از کم 18 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ہلاک ہونے والوں میں اسکول کے 10 بچے بھی شامل ہیں جو بدقسمتی سے ایک ڈرائیور کے ساتھ گاڑی میں بہہ گئے۔

اسی طرح افغانستان حکومت کے ڈیزاسٹرمینجمنٹ ڈپارٹمنٹ کے ذرائع سے الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہےکہ افغانستان میں تین دنوں سے جاری شدید بارشوں اور طوفانی سیلاب سے کم از کم 33 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔محکمہ کے ترجمان جانان صائق نے اتوار کو کہا کہ جمعہ کے بعد سے بارشوں کی وجہ سے اچانک سیلاب آیا جس سے بہت زیادہ انسانی اور مالی نقصان ہواہے۔

جبکہ الجزیرہ کی رپورٹ کےمطابق پاکستانی حکام نے بتایا کہ گزشتہ تین دنوں میں پاکستان بھر میں شدید بارشوں اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث کم از کم 50 افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور حکام نے بعض علاقوں میں ہنگامی حالات کا اعلان کیاہے۔رپورٹ کے مطابق گندم(گیہوں) کی فصلوں کی کٹائی کرنےوالے کسان آسمانی بجلی گرنے سے جاں بحق ہو گئے۔شمال مغربی اورمشرقی پنجاب صوبہ میں بارشوں کےباعث درجنوں مکانات گر گئےہیں۔افغانستان کی سرحد سے متصل شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ترجمان خورشید انور نے بتایا کہ وہاں 21 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

الجزیرہ کے مطابق موسلا دھار بارش نے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں بھی تباہی مچائی اور جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں سات افراد ہلاک ہوگئے۔شمال مغربی شہر پشاور اور بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں سڑکوں پر پانی بھر گیا۔

ایک پاکستانی ماہر ماحولیات رافع عالم نے الجزیرہ کو بتایاکہ اپریل میں اتنی شدید بارشیں غیرمعمولی ہیں۔انہوں نے کہا کہ دو سال قبل پاکستان نے مارچ اور اپریل میں شدید موسم گرماء کا سامنا کیا تھا اور اب ہم بارشوں کا مشاہدہ کر رہے ہیں اور یہ سب موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہے جس کی وجہ سے 2022 میں شدید سیلاب آیا تھا۔2022 میں موسلادھار بارشوں کے باعث دریاؤں میں طغیانی آئی تھی اور ایک موقع پر پاکستان کا ایک تہائی حصہ ڈوب گیا تھا جس سے 1,739 افراد ہلاک ہوئے تھے۔اس سیلاب سے 30 ارب ڈالر کا نقصان بھی ہواتھا۔

یہ بھی پڑھیں ” 

تلنگانہ : سدی پیٹ ضلع کلکٹر کا سنسنی خیز اقدام، 106 سرکاری ملازم معطل، بی آر ایس پارٹی امیدوار کے اجلاس میں شرکت کا شاخسانہ