عشق نازک مزاج ہے بے حد ،عقل کا بوجھ اُٹھا نہیں سکتا
وائس چانسلر الہ آباد یونیورسٹی کی نیند میں فجر کی اذاں سے پڑ رہا ہے خلل، کارروائی کا مطالبہ
الہ آباد/پریاگ راج : 18مارچ (ایجنسیز/سحرنیوز ڈیسک )
گزشتہ چند سال سے ملک میں ایک ایسا طبقہ تیار ہوا ہے یا پھرنفرت کی سیاست اور مذہبی منافرت کے زہر سے انہیں تیار کیا گیا ہے جنہیں ہر معاملہ میں مسلمانوں سے شکایت ہے! مسلمانوں کے کھانے پینے ، انکے رہن سہن ،ان کی عبادتوں ، مسلم خواتین کے برقعہ پہننے پر یا پھر مسلمان مردوں کی جانب سے داڑھی رکھنے پر اس طبقہ کو سخت اعتراض ہے۔
یہی وجہ ہے کہ روز گودی میڈیا اور سوشیل میڈیا پر مسلمان اور اسلام انکے لیے تختہ مشق بن گئے ہیں ، جبکہ اس تلخ حقیقت سے مسلمانوں کے دشمن بھی انکار کرہی نہیں سکتے کہ اس ملک کے مسلمانوں کو کسی اور مذہب کے ماننے والوں سے آج تک کوئی شکایت نہیں رہی اور نہ ہی انکے کسی کام پر مسلمانوں نے کوئی اعتراض کیا!
کیونکہ سورہ الکافرون میں کہا گیا ہے کہ” لَكُمۡ دِينُكُمۡ وَلِيَ دِينِ ” یعنی "تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین ہے "
گودی میڈیا کیلئے تو مسلمان اور اسلام پر تنقید اور اعتراض روزی روٹی کمانے کا ذریعہ بن کر رہ گیا ہے۔ جو روز رات ہوتے ہی "دھرم گرو"کے نام پر چند داڑھی ،ٹوپی والوں کو لاکرمسلمانوں کے نمائندہ علماء کی حیثیت سے اسلام دشمن اور مخالف اسلام ذہن کے پڑھے لکھوں کے درمیان بٹھادیا جاتا ہے اور خوب ذلیل کیا جاتا ہے۔جنہیں یا تو خاموش رہنے کا معاوضہ دیا جاتا ہے یا پھر چِلْا چِّلا کر مسلمانوں کیخلاف بدزنی پیدا کرنے کا!
یہی وجہ ہے کہ آج تک کسی بھی گودی میڈیا کے چینل نے کسی بھی مستند عالم دین کو مدعو نہیں کیا جو انکے پروپگنڈہ کا واضح اور اطمینان بخش جواب دیکر ان کے منہ پر تالا ڈال سکتے ہیں !!
اس پر سونے پہ سہاگا یہ کہ ایک مسلم نام والے انتہائی گھٹیا اور گمراہ شخص کو ان نام نہاد دھرم گروؤں کیساتھ ٹی وی ڈیبیٹ میں بٹھادیا جاتا ہے جو نہ اپنے ملک کا ہوسکا اور نہ اپنے مذہب کا! آج تک کسی نے بھی اس گودی میڈیا سے یہ سوال نہیں کیا کہ کسی غیر ملکی اسلام بیزار شخص کو کیوں ہندوستانی مسلمانوں کے معاملات میں زہر پھیلانے کیلئے ڈیبیٹ میں بُلایا جاتا ہے؟
جس کا ایک ایسا ویڈیو سوشیل میڈیا پر وائرل ہوچکا ہے جو دوستوں کیساتھ ہاتھ میں شراب کا پیالہ لیکر کشور کمار کے ایک گانے ” یہ جو محبت ہے ، یہ اُن کا کام ” پر واہیات طور پر رقص کر رہا ہے! اس شخص کو اسلامک اسکالر کے طور پر گودی میڈیا پیش کرتا ہے! کونسی اسلامی یونیورسٹی سے اس شخص نے سند حاصل کی ہے؟

جبکہ جو میڈیا انہیں مسلمانوں کا دھرم گرو بناکر پیش کرتا ہے ان میں سے ایک دو کو چھوڑ کر کئی ایسے ہوتے ہیں جنہیں خود انکے پڑوسی بھی نہیں جانتے ہونگے؟ انہیں ” لفافہ والا دھرم گرو” کہاجائے تو غلط نہ ہوگا!! جو روز رات میں دوتین چینلس پر وقفہ وقفہ سے پہنچ جاتے ہیں اور خوب ذلیل ہوکر لفافہ لیے چینلوں کی گاڑیوں میں بیٹھ کر گھروں کو چلے جاتے ہیں!!۔
یہ ان کا” دھندہ ” بن کر رہ گیا ہے۔کسی نے کہا ہے کہ ” جس نیت سے طوائف برقعہ پہنتی ہے، کچھ مرد اسی نیت سے داڑھی رکھ لیتے ہیں” ان نام نہاد دھرم گروؤں سے ہزار مرتبہ اپیل کی جاچکی ہے کہ وہ گودی میڈیا کے ڈیبیٹ میں ہرگز شامل نہ ہوں جہاں انہیں بولنے ہی نہیں دیا جاتا نہ کسی مسئلہ کی وضاحت کا مؤقع ہی دیا جاتا ہے ، بس ذلیل ہونا ہی ان کا مقدر بن کر رہ گیا ہے۔!!
فلم گلوکار سونونگم سے تو سب واقف ہیں جو شہرت سے قبل اسٹیج پروگراموں اور گانوں کے البمس میں محمد رفیع کے گانوں کی نقل کرکے اپنی روٹی کماتے تھے۔نے دوسال قبل ٹوئٹ کیا تھا کہ انہیں فجر کی اذاں سے سخت پریشانی کا سامنا ہےجس پر ملک اور بیرون ملک بہت زیادہ ہنگامہ ہوا تھا خود برادران وطن کا ایک بہت بڑا طبقہ ان کی مخالفت میں آیا تھا۔
پہلے کہا جاتاتھا کہ ” جب کبھی غریب کی تھالی میں پلاؤآیا ،سمجھ جاؤ کہ ملک میں چناؤ آیا ” لیکن اب ہر الیکشن کے وقت مسلمان ان سیاسی جماعتوں کیلئے "پلاؤ” سے زیادہ قیمتی ہوگیا ہے جو مذہب اور ذات پات کے نام پر الیکشن جیتنے میں ماہر مانے جاتے ہیں!!
ملک کی پانچ ریاستوں مغربی بنگال ،کیرالا، پانڈیچری ، ٹاملناڈو، آسام کی اسمبلیوں کے لیے انتخابات کا اعلان ہوا ، انتخابی مہم جاری ہے کہ اسی دؤران ملعون وسیم رضوی کو قرآن مجید کی 26 آیتیں یاد آگئیں جس نے سپریم کورٹ میں درخواست داخل کردی یہ معاملہ مسلمانوں کو مضطرب کیے ہوئے ہے اور اس ملعون کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔
پھر کرناٹک وقف بورڈ کا یہ فرمان جاری ہوا کہ رات دس بجے سے صبح 6بجے تک مساجداور درگاہوں میں لاؤڈ اسپیکر کا استعمال نہ کیا جائے اس کا مطلب فجر کی اذاں نہ دی جائے چار طرف سے احتجاج کے بعد دوبارہ سرکیولر جاری کیا گیا کہ اس میں فجر کی اذاں پر پابندی عائدنہیں کی گئی ہے؟ اب سادہ لوح سی ای او وقف بورڈ کرناٹک جناب محمد یوسف صاحب کو کون بتائے کہ فجر کی اذاں صبح 6 بجے سے قبل ہی دی جاتی ہے!
بہر حال ان اسمبلی انتخابات کے دؤران مرکز میں برسر اقتدار بی جے پی کو جہاں کسانوں کے احتجاج کا سامنا ہے وہیں پکوان گیس ، پٹرول ، ڈیزل اور تمام اشیائے ضروریہ کی آسمان چھوتی قیمتوں کی وجہ سے عوامی مخالفت کا سامنا ہے، اب ملازمین بینک بھی احتجاج پر اتر آئے ہیں اور ساتھ ہی بیروزگار نوجوان حسب وعدہ ملازمتوں کی فراہمی کیلئے سوشیل میڈیا بالخصوص ٹوئٹر پر سرگرم ہیں یہ تمام مسائل بی جے پی کیلئے مشکلات کا باعث بن رہی ہیں ایسے میں بی جے پی چاہتی ہے کہ ان پانچ ریاستوں میں کسی بھی طرح اقتدار حاصل کیا جائے یا اپنے اعداد بڑھائے جائیں!!
ملک میں مذہبی منافرت ، فرقہ پرستی اورعدم رواداری کاجوماحول پیداکردیاگیاہے اس کے اثرات گائے کی منتقلی یا چوری کے نام پر موب لنچنگ، مندر میں پانی پینے والے معصوم آصف کی پٹائی سے لے کرمساجد میں اذان پر اعتراض تک میں ظاہر ہونے لگے ہیں!!

اسی دؤران ملک کی اتر پردیش میں موجود ملک کی مشہور الہ آباد یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسرسنگیتا شریواستو نے اعتراض کیا ہے کہ فجر کی اذاں کے باعث انہیں سخت ذہنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور ان کی نیند میں خلل پڑنے کے باعث ان کی دن بھر کی سرگرمیاں متاثر ہورہی ہیں وائس چانسلر اس ملک کی گنگاجمنی تہذیب سے بخوبی واقف بھی ہیں کہ صبح صبح مساجد سے فجر کی اذاں اور منادر سے آرتی کی آوازیں اس ملک کی صدیوں پرانی روایت رہی ہے اور یہی اس ملک کی خوبصورتی بھی ہے۔
وائس چانسلر نے باقاعدہ ضلع مجسٹریٹ (ڈی ایم) اور دیگر متعلقہ محکمہ جات کے اعلیٰ عہدیداروں کو مکتوب بھی لکھتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اپنے شکایتی مکتوب میں یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسرسنگیتا شریواستو نے لکھا ہے کہ ان کے رہائشی بنگلہ کے قریب موجودمسجدمیں ہونے والی فجر کی اذان ان کی نیند میں خلل کا باعث بن رہی ہے کہ ہر روز صبح َ 5.30 بجے قریب کی مسجد کے مولوی کی آواز میری نیند کو توڑ دیتی ہے اور پھر میں نہیں سو پاتی ہوں جس کے نتیجے میں انہیں سر درد ہو جاتا ہے اور دن کے کام کو متاثر ہوتے ہیں۔
وائس چانسلر سنگیتا شریواستو الہ آباد یونیورسٹی نے اپنے شکایتی مکتوب میں اس قول کی جانب دھیان دلایا ہےکہ ” آپ کی آزادی اسی جگہ ختم ہو جاتی ہے جہاں سے میری ناک شروع ہوتی ہے"۔ ساتھ ہی وائس چانسلر نے لکھا ہے کہ میں کسی مذہب کے خلاف نہیں ہوں،لیکن اگر لاؤڈ اسپیکر کے بغیر کوئی اذان ہوجائے تو پھر کسی کو بھی دشواری نہیں ہوگی۔انہوں نے اس اندیشہ کا بھی اظہار کیا ہے کہ اب ماہ رمضان کے آغاز کے بعد صبح 4 بجے لاؤڈ اسپیکر کے ذریعہ ہی سحری کے لیے بھی اعلان ہوگا۔
انہوں نے ضلع مجسٹریٹ اور دیگر عہدیداروں کو لکھے گئے مکتوب میں کہا ہے کہ آئین میں تمام شہریوں کے لیے سیکولر بقائے باہمی کی بات کی گئی ہے، اسے مکمل طور پر نافذ کیا جاناچاہئے اوربراہ کرم اس تیز اذان سے پریشانی کا شکار تمام لوگوں کی زندگیوں میں کچھ سکون بحال کریں۔
اب وائس چانسلر محترمہ کو کون سمجھائے کہ اندر موجود شور کا علاج باہر کے شور سے نہیں کیا جاتاہے ، نیندتو کرسیاں بچانے اور کرسیاں حاصل کرنے میں اُڑجاتی ہے۔!!
وائس چانسلر محترمہ پروفسیر سنگیتا شریواستو کو ہم صرف یہی مشورہ دے سکتے ہیں کہ وہ کبھی صبح جلد جاگ جائیں اور مساجد سے اٹھنے والی فجر کی اذانوں اور منادر کی گھنٹیوں سے بجنے والی آواز کو کبھی گلے ملتے ہوئے دیکھ لیں جس کے بعد انہیں کسی بھی مذہب سے کوئی شکوہ یا شکایت نہیں ہوگی۔
کیونکہ نفرت سے کچھ حاصل نہیں ہوگا سوائے ڈپریشن کہ، انسانیت اور مذاہب سے محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو اس دنیا میں جینے کی سب سے بڑی وجہ اور ذریعہ ہے۔
الہ آباد صرف تین ندیوں کے سنگم سے نہیں جانا جاتا بلکہ برسوں سے الہ آباد تمام مذاہب اور اسکے ماننے والوں کا حسین رہاسنگم ہے۔ اور وائس چانسلر محترمہ الہ آباد یونیورسٹی کی تاریخ بھی پڑھ لیں کہ کن کن لوگوں نے اس یونیورسٹی کواپنا خون جگر دیکر سجایا اور سنوارا ہے!!
اسی الہ آباد کے مشہور شاعر اکبر الہ آبادی نے اپنے شعر کے ذریعہ کہا تھا کہ
” عشق نازک مزاج ہے بے حد ** عقل کا بوجھ اُٹھا نہیں سکتا "
وائس چانسلر پروفیسرسنگیتا شریواستو کے اذاں کے خلاف موصولہ شکایتی مکتوب پر ڈی آئی جی الہ آباد کوندرپرتاپ سنگھ نے کہاہے کہ وائس چانسلر الہ آباد یونیورسٹی کی شکایت پرمشتمل مکتوب کا جائزہ لیا جارہا ہے اور سپریم کورٹ و الہ آباد ہائیکورٹ کے ماضی کے فیصلوں کی بنیاد پر کارروائی کی جائے گی۔
دوسری جانب وائس چانسلر کی شکایت کا مکتوب اور اس سے متعلق خبر کے عام ہونے کے بعد اس مسجد کی انتظامی کمیٹی نے لاؤڈ اسپیکر کا رُخ دوسری جانب کردیا ہے اور لاؤڈ اسپیکر کی آواز بھی کم کردی گئی ہے مسجد کمیٹی نے بتایا کہ مسجد کے مینار پر نصب لاؤڈ اسپیکر کے اسٹینڈ کو وائس چانسلرالہ آباد یونیورسٹی پروفیسرسنگیتا سریواستوکے گھر کے رخ سے موڑتے ہوئے دونوں لاؤڈ اسپیکرس کو دوسری طرف کردیا گیا ہے۔پہلے مینار پر چار لاؤڈ اسپیکرتھے ان میں سے دو اسپیکرس ہٹادئیے گئے ہیں جس سے آواز میں نصف کمی آگئی ہے۔
ترتیب و پیشکش : یحییٰ خان

