چنڈی گڑھ میئر انتخابات : سپریم کورٹ نے انتخابی نتائج کو منسوخ کر دیا، عام آدمی پارٹی کے امیدوار کو فاتح قرار دیا

چنڈی گڑھ میئر انتخابات: سپریم کورٹ نے انتخابی نتائج کو منسوخ کر دیا
عام آدمی پارٹی کے امیدوار کو فاتح قرار دیا، بی جے پی کو ایک اور جھٹکا

نئی دہلی : 20۔فروری
(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

چندی گڑھ میونسپل کارپوریشن کے میئر کے انتخابات کے دؤران پریسائیڈنگ آفیسر کے طرز عمل پر سپریم کورٹ نے 5 فروری کو اس کیس کی سماعت کے دوران شدید تنقید کرتے ہوئے سخت ریمارک کیا تھا کہ اس عمل کے ذریعہ جمہوریت کا قتل کیا گیاہے۔مئیر کا انتخاب 30 جنوری کو عمل میں آیا تھا۔

اس کیس کی کل 19 فروری کو دوبارہ سماعت معزز چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندرا چوڑ زیرصدارت تین ججوں کی بنچ جس میں جسٹس جے بی پارڈی والا اور منوج مشرا شامل تھے کے سامنے پریسائیڈنگ آفیسر انیل مسیح کو بھی طلب کیا گیا تھا ان سے معزز چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندرا چوڑنے پوچھا تھا کہ انہوں نے چندی گڑھ میونسپل کارپوریشن کے میئر کے الیکشن کے وقت عام آدمی پارٹی اور کانگریس میں مفاہمت کے بعد ڈالے گئے ووٹوں میں سے کتنے ووٹوں کو ناقابل استعمال قرار دینے کے لیے ایکس  X (ناقابل استعمال) کا مارک لگایا تھا؟ تو انیل مسیح نے عدالت کو بتایاکہ انہوں نے 8 ووٹوں کو مسترد کیا تھا تاہم اس کی وجہ دریافت کرنے پر انہوں نے کوئی واضح جواب نہیں دیا۔

اس کیس کی آج دوپہر دو بجے سے دوبارہ سماعت شروع ہوئی تھی۔ جس کے بعد معزز چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندرا چوڑ کی صدارت والی تین ججوں کی بنچ نے تاریخی فیصلہ صادر کرتے ہوئے پریسائیڈنگ آفیسر انیل مسیح کی جانب سے 8 ووٹوں کو مسترد کرتے ہوئے بی جے پی امیدوار کو کامیاب قرار دینے والے اس فیصلہ کو رؤندتے ہوئے جن 8 ووٹوں کو مسترد کرتے ہوئے عام آدمی پارٹی کے امیدوار کلدیپ کمار کو شکست خوردہ قرار دیا گیا تھا ان مسترد شدہ ووٹوں کو شمار کرتےہوئے کلدیپ کمار کو چندی گڑھ کا فاتح مئیر  قرار دے دیا۔

اور پریسائیڈنگ آفیسر انیل مسیح کو وججہ بتاؤ نوٹس جاری کی۔سپریم کورٹ کے آج کے اس فیصلہ پر عام آدمی پارٹی(عآپ) سربراہ و چیف منسٹر دہلی اروند کیجریوال نے اس فیصلہ کو تاریخی قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے جمہوریت کو بچا لیا۔

اس کیس کے تعلق سے سپریم کورٹ پر سب کی نظریں لگی ہوئی تھیں۔آج کے اس فیصلہ کو بی جے پی کے لیے اندرون ایک ہفتہ ایک اور جھٹکا مانا جارہا ہے۔ کیونکہ گزشتہ ہفتہ ہی سپریم کورٹ نے بی جے پی حکومت کی جانب سے متعارف کردہ الیکٹورل بانڈز کو غیر قانونی قرار دیتے
ہوئے اس پر روک لگادی تھی اور مرکزی الیکشن کمیشن اور اسٹیٹ بینک آف انڈیا کو ہدایت دی تھی کہ 15 مارچ تک بتایا جائے کہ اب تک ان الیکٹورل بانڈز کے ذریعہ خفیہ طریقہ سے کس کس نے کونسی کونسی سیاسی پارٹی کو کتنا فنڈ دیا ہے۔؟

یاد رہےکہ 30 جنوری کو اس واقعہ کا ویڈیوسوشل میڈیا پر وائرل ہواتھاکہ کس طرح 35 رکنی چندی گڑھ میونسپل کارپوریشن کےمیئر کے الیکشن کے وقت عام آدمی پارٹی اور کانگریس میں مفاہمت کے بعد ڈالے گئے 20 ووٹوں میں سے 8 ووٹوں کو پریسائیڈنگ آفیسر انیل مسیح نے مسترد کر تےہوئے بشمول بی جے پی ایم پی اور دیگر 15 کونسلرز پر مشتمل 16 ووٹ حاصل کرنے والے بی جے پی کے امیدوار کو کامیاب قرار دیا تھا۔

دوسری جانب آج سپریم کورٹ کی جانب سےفیصلہ صادر کیےجانےسے قبل 18 فروری کو پریسائیڈنگ آفیسر انیل مسیح کی جانب سے کامیاب قرار دئیے گئے بی جے پی کے میئر چندی گڑھ منوج سونکر نے اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا تھا اور اسی دن عام آدمی پارٹی کے تین کونسلرز نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔

5 فروری کو سپریم کورٹ کے ریمارکس ، پریسائیڈنگ آفیسر کا ویڈیو اور مکمل تفصیلات اس لنک پر :

جمہوریت کا قتل نہیں ہونے دیں گے، جمہوریت کو مذاق بنا دیا گیا : سپریم کورٹ آف انڈیا

 

عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ شفاعت مصطفیٰ ؐ و نجات اخروی کا بہترین ذریعہ : مجلس تحفظ ختم نبوت کاماریڈی کے اجلاس سے شاہ جمال الرحمن مفتاحی، مولانا پی ایم مزمل رشادی کا خطاب

تانڈور کی ترقی کے لیے خصوصی فنڈس، تمام بلدی حلقوں کی مساوی ترقی کے اقدامات، بلدیہ کا 65.39 کروڑ کا بجٹ پیش، رکن اسمبلی کی شرکت