وقارآباد میں بین ضلعی موٹرسیکلوں کا عادی سارق گرفتار، 17 لاکھ مالیتی 11 گاڑیاں ضبط
دس مرتبہ جیل جاچکا اور 13 مقدمات میں ماخوذ سارق 6 سال سے کئی اضلاع میں سرگرم تھا
پولیس کی تلاشی مہم کے دوران شبہ اور تفتیش،ضلع ایس پی کوٹی ریڈی کی پریس کانفرنس
وقارآباد : 03؍فروری
(سحرنیوزڈاٹ کام/نمائندہ)
وقارآباد پولیس نے ایک ایسے بین ضلعی موٹرسیکلوں کے عادی سارق نوجوان کو گرفتار کرلیا ہے جو گزشتہ 6 سال سے ریاست تلنگانہ کےمختلف مقامات سےموٹرسیکلوں کے سرقہ کی وارداتوں میں ملوث تھا اور یہ عادی سارق مختلف پولیس اسٹیشنوں میں دس مرتبہ گرفتار ہوکرجیل جاچکاہے اور رہائی کے بعد بھی اپنی اس عادت سے باز نہیں آیا۔بالاآخر یہ سارق وقارآباد پولیس کے ہتھے چڑھ گیا۔
پولیس کی جانب سےتفتیش کے دوران اس نے وہ تمام مقامات بتائےجہاں سے اس نے موٹرسیکلیں سرقہ کی تھیں اور اس کی نشاندہی پر وقار آباد پولیس نے اس کے قبضہ سے 11 مختلف ماڈل کی موٹرسیکلیں تحویل میں لے لیں جن میں تین بلیٹ موٹر سیکلوں کےعلاوہ دیگر قیمتی گاڑیاں بھی شامل ہیں۔جن کی مالیت پولیس نے 17 لاکھ 30 ہزار روپئے بتائی ہے۔
اس سلسلہ میں آج سی سی ایس پولیس اسٹیشن وقارآبا ضلع مستقر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایس پی ضلع وقارآباد نندیالا کوٹی ریڈی آئی پی ایس نے بتایاکہ وقارآبادضلع کے بنٹارم منڈل کےموضع ترمامڑی کا ساکن مانیکم (24 سالہ) پہلے موٹرسیکل میکانک کا کام کرتا تھا لیکن غلط شوق پورے کرنے کے لیے اسے اپنی آمدنی کم پڑ رہی تھی تو اس نے موٹرسیکلوں کی چوریاں شروع کر دیں۔

ضلع ایس پی نے بتایا کہ 2018ء سے مانیکم موٹرسیکلوں کی سرقہ کی وارداتوں میں ملوث ہے۔ہوٹلوں کے باہر، ہاسٹلوں، ریلوے اسٹیشنوں، بس اسٹانڈز اور سنسان مقامات پر کھڑی گئیں موٹرسیکلیں اس کا نشانہ ہواکرتی تھیں۔چونکہ یہ موٹرسیکل میکانک ہے تو آسانی کےساتھ گاڑیوں کا سرقہ کیا کرتا تھا۔اس نے پہلی مرتبہ بنٹارم منڈل میں پھر اس کے بعد اطراف کےعلاقوں کےعلاوہ دیگر اضلاع میں موٹرسیکلوں کے سرقہ کی وارداتیں انجام دیں۔ایس پی ضلع وقارآباد نندیالا کوٹی ریڈی آئی پی ایس نے بتایاکہ مانیکم 2009ء میں پہلی مرتبہ جیل گیا تھا اس طرح اب تک موٹرسیکلوں کے سرقہ کے معاملات میں وہ دس مرتبہ جیل جا کر رہاء ہوچکاہے۔
ضلع ایس پی نے بتایاکہ سارق مانیکم معین آباد،میاں پور،شنکر پلی،نارسنگی،مادھا پور،گولکنڈہ،کوکٹ پلی،پٹن چیرو،کونڈا پور،سدا شیوپیٹ، سدی پیٹ اورکھمم پولیس اسٹیشنوں میں درج 13 کیس میں ماخوذ تھا یہ موٹرسیکلوں کے علاوہ تین موبائل فونس کی چوری میں بھی ملوث ہے۔
اس سارق کی گرفتاری کے متعلق ایس پی ضلع وقارآباد نندیالا کوٹی ریڈی آئی پی ایس نے بتایا کہ وقارآباد کے امبیڈکر چوک پر کل جمعہ کے دن سی سی ایس انسپکٹر وقارآباد بلونتیا،سی سی ایس کا عملہ،سب انسپکٹر پولیس وقارآباد ستیہ نارائن راجو اپنے عملہ کے ساتھ گاڑیوں کی تلاشی مہم میں مصروف تھے کہ TS 08 HZ 5070 نمبر کی موٹرسیکل پر گزرنےوالے مانیکم کو روک کر تلاشی لی جارہی تھی کہ اس کی مشتبہ حرکتوں پر شبہ کی بنیاد پر مانیکم کو پولیس نے تحویل میں لے کر تفتیش کی تو اس نے اپنے تمام جرائم کا انکشاف کرتے ہوئے اپنے جرائم کا اعتراف کر لیا۔
ایس پی ضلع وقارآباد نندیالا کوٹی ریڈی آئی پی ایس نے بتایاکہ سارق مانیکم کی نشاندہی پر اس کی جانب سے سرقہ کی گئیں 11 موٹرسیکلیں اس نے اپنے گاوں کے کھیت میں سب کی نظروں سے چھپاکر رکھا گیا تھاجنہیں پولیس کی جانب سے تحویل میں لے لیاگیا۔سارق مانیکم نے ان مسروقہ موٹرسیکلوں کو نقلی آر سی بک کی مدد سے فروخت کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔

ضلع ایس پی نے بتایا کہ گرفتار شدہ مانیکم پر سائبر آباد پولیس کمشنریٹ کےحدود میں دس مقدمات،سنگاریڈی اور وقارآباد پولیس اسٹیشنوں میں تین مسروقہ وارداتوں کے درج شدہ کیسوں میں اسے گرفتار کرلیا گیا ہے۔سارق کے پاس سے برآمد کی گئیں موٹر سیکلوں میں تین بلیٹ موٹرسیکلوں کے علاوہ دیگر قیمتی موٹر سیکلیں بھی شامل ہیں۔ضلع ایس پی نے بتایا کہ ان کی مالیت 17 لاکھ 30 ہزار روپئے بتائی ہے۔


