کرناٹک میں گیارنٹی اسکیمات پر عمل آوری جاری، اقتدار میں آنے کے بعد کے سی آر کی بدعنوانیوں کو عوام کے سامنے لایا جائے گا: ڈی کے شیوا کمار اور ریونت ریڈی کا تانڈور میں خطاب

کرناٹک میں گیارنٹی اسکیمات پر عمل آوری جاری : ڈی کے شیوا کمار
اقتدار میں آنے کے بعد کے سی آر کی بدعنوانیوں کو عوام کے سامنے لایا جائے گا : ریونت ریڈی
تانڈور سے کانگریس کی وجئے بھیری بس یاترا کا آغاز، ہزاروں افراد کی شرکت

وقارآباد/تانڈور: 29؍اکتوبر
(سحر نیوز ڈاٹ کام/نمائندہ)

کرناٹک کے ڈپٹی چیف منسٹر ڈی کے شیوا کمارنے کہاہے کہ انتخابات کے دوران کرناٹک میں کانگریس نے جن پانچ گیارنٹی اسکیمات کا اعلان کیا تھا ان تمام پر عمل آوری جاری ہے۔انہوں نے چیلنج کیا کہ وزیراعلیٰ کے سی آر کو یا وہ افراد جو ان اسکیمات کی ناکامی کا پروپگنڈہ کرنے میں مصروف ہیں وہ کرناٹک کے کسی بھی موضع کا دورہ کرسکتے ہیں اور اس کے لیے وہ اپنی جانب سے بس فراہم کریں گے۔

کانگریس کے ٹربل شوٹر اور فائر برانڈ مانے جانے والے ڈپٹی چیف منسٹر کرناٹک ڈی کے شیوا کمار گزشتہ شام دیر گئے صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی ریونت ریڈی کے ساتھ تانڈور سے آغاز کی گئی وجئے بھیری بس یاتراکے دوسرے مرحلہ کے موقع پر تانڈور کے مصروف اندرا چوک پر روڈ شو سے خطاب کررہے تھے۔قبل ازیں ایک ریالی منعقد کی گئی، اس ریالی اور روڈ شو میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔

اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے ڈی کے شیوا کمار نے کہاکہ غریبوں کی فلاح و بہبود صرف کانگریس پارٹی سے ہی ممکن ہے۔اور کانگریس جو وعدہ کرتی ہے اس کو لازمی طور پرعملی جامہ پہناتی ہے۔انہوں نے کہاکہ کرناٹک میں 200 یونٹ مفت برقی،گروہالکشمی اسکیم کے تحت ایک کروڑ 10 لاکھ خواتین کو ماہانہ فی کس 2 ہزار روپئے دئیے جارہے ہیں۔اسی طرح کرناٹک میں غریب خاندانوں کو فی کس 10 کلو باریک چاول اور خواتین کو بسوں میں مفت سفر کی سہولت فراہم کر دی گئی ہے۔

ڈپٹی چیف منسٹر کرناٹک ڈی کے شیوا کمار نے کہا کہ کرناٹک کی طرز پر ہی تلنگانہ میں کانگریس نے 6 گیارنٹی اسکیمات کا اعلان کیا ہے جس میں مہا لکشمی،رعیتو بھروسہ،گروہا جیوتی،اندرماں امکنہ اور یووا وکاس شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریونت ریڈی اگر تلنگانہ کے وزیراعلیٰ بنتے ہیں تو ان تمام اسکیمات پر عمل آوری یقینی طور پر ہوگی۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ تلنگانہ میں 9 ڈسمبر کو کانگریس کے وزیراعلیٰ کی حلف برداری یقینی ہے۔ انہوں نےعوام سے اپیل کی کہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل شریمتی سونیا گاندھی نے کی تھی تو عوام انہیں اس کا تحفہ کانگریس کی کامیابی کی شکل میں دیں۔

اس پرہجوم روڈ شو سے خطاب کرتےہوئے صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی ریونت ریڈی نے کہا کہ ملکی سیاست میں قدم رکھنے کا اعلان کرنے والے وزیراعلیٰ کے سی آر کا کام تلنگانہ میں ہی ختم ہوگیاہے۔انتخابات میں شکست کےبعد انہیں فارم ہاؤز میں آرام کےلیےروانہ کیا جائے گا۔

ریونت ریڈی نے کہاکہ اچم پیٹ کے جلسہ میں وزیراعلیٰ کے سی آر  کا یہ کہنا کہ انتخابات میں ناکامی پر وہ گیسٹ ہاؤز میں آرام کریں گے یہ ان کی جانب سے شکست کا اعتراف ہے۔ریونت ریڈی نے اپنے خطاب میں کہاکہ کے سی آر کی شکست تو طئے ہے لیکن ان دس سال کے دوران ان کے دور حکومت میں کی گئیں کروڑہا روپئے کی بدعنوانیوں اور اراضیات پر قبضوں کو کانگریس عوام کے سامنے لائے گی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں کہیں بھی کسانوں کو 24 گھنٹے برقی فراہم نہیں کر وائی جارہی ہے، صرف 8 تا 10 گھنٹے ہی برقی فراہم کی جا رہی ہے۔

صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی ریونت ریڈی نے اپنے خطاب میں کہا کہ حیدرآباد میں آؤٹر رنگ روڈکی تعمیر ،میٹرو ریل کا قیام اور تلنگانہ میں قومی یکجہتی و سیکولرازم کو فروغ کانگریس کا ہی کارنامہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کے لیے 4 فیصد تحفظات بھی کانگریس نے ہی دئیے تھے، جبکہ کے سی آر نے 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کے نام پر اقلیتوں کو دھوکہ دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست میں لاکھوں نوجوان بیروزگار ہیں، تلنگانہ کی ترقی کے لیے کانگریس کو اقتدار پر لانا ضروری ہے۔ریونت ریڈی نے اپنے اردو خطاب میں بی آر ایس اور مجلس اتحادالمسلمین کو نشانہ بناتے ہوئے سوال کیا کہ حلقہ اسمبلی گوشہ محل سے راجہ سنگھ جو کہ ہمیشہ مسلمانوں کو گالیاں دیتا رہتا ہےکے خلاف کیوں دونوں جماعتوں نے اپنے امیدواروں کے نام کا اعلان نہیں کیا۔؟انہوں نےصدرمجلس و رکن پارلیمان حیدرآباد بیرسٹر اسد الدین اویسی کو مشورہ دیا کہ وہ وزیراعلیٰ کے سی آر کی تائید سے گریز کریں اور ان کے ساتھ نہ جائیں۔

صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی ریونت ریڈی نے اپنےخطاب میں کہاکہ کرناٹک میں کانگریس نے 135 سیٹوں پر کامیابی حاصل کرکےحکومت بنائی ہے۔اور میں مکمل ذمہ داری اور یقین کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ کرناٹک کے 90 فیصد اقلیتوں نے کانگریس کو ووٹ دیا۔ اور یہی وجہ تھی کہ کرناٹک میں کانگریس کو اقتدار حاصل ہو پایا۔انہوں نے بالخصوص اقلیتوں سے اپیل کی کہ وہ حلقہ اسمبلی تانڈور سے کانگریس کے امیدوار منوہر ریڈی کو کامیاب بنائیں۔اقلیتوں کی فلاح وبہبود کے لیے کانگریس کام کرے گی۔

صدر تلنگانہ پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے تانڈور میں اذاں کے آغاز کے ساتھ ہی اپنا خطاب روک دیا۔
کانگریس کی وجئے بھیری بس یاترا اور اندرا چوک پر منعقدہ روڈ شو میں صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی ریونت ریڈی  کاخطاب جاری تھا کہ قریبی مدینہ مسجد سے نماز مغرب کی اذاں کے آغاز کے ساتھ ہی ریونت ریڈی نے بطور احترام اذاں کے اختتام تک اپنا خطاب روک دیا۔ اور شور مچانے والے مجمع سے بھی خاموش رہنے کی بارہااپیل کی۔اذاں کے اختتام کے بعد انہوں نے دوبارہ اردو میں اپنا خطاب جاری رکھا۔بعد ازاں نائب وزیر اعلیٰ کرناٹک ڈی کے شیواکمار نےبھی نصف گھنٹے سے زائد وقت تک انگریزی اور کنڑازبان میں خطاب کیاجن کے خطاب کا تلگو زبان میں ترجمہ کیا گیا ۔

اس روڈ شو سے کانگریس کے امیدوار حلقہ اسمبلی تانڈور بی۔منوہر ریڈی نےبھی خطاب کرتے کہا کہ کامیابی کے بعد ان کی جانب سے پارٹی کی تبدیلی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

اس روڈ شو میں سابق وزیر و وقارآباد حلقہ اسمبلی کے کانگریسی امیدوار جی۔پرساد کمار، پرگی کے امیدوار ٹی۔رام موہن ریڈی،سابق وزیر پشپا لتا کے علاوہ مقامی کانگریس پارٹی قائدین شریک تھے۔

 ڈپٹی چیف منسٹر کرناٹک ڈی کے شیوا کمار اور صدر تلنگانہ کانگریس ریونت ریڈی کی موجودگی میں سابق رکن اسمبلی تانڈور ایم نارائن راؤ، سابق صدر ڈی سی سی و سابق صدرنشین بلدیہ تانڈور پی۔لکشماریڈی، سابق رکن بلدیہ سرینواس نے کانگریس میں شمولیت اختیار کی۔

وقارآباد ضلع کے حلقہ اسمبلی تانڈور سے منوہر ریڈی ہونگے کانگریس کے امیدوار، پارٹی کی جانب سے امیدواروں کی قطعی فہرست جاری