گجرات ہائی کورٹ نے گزشتہ سال 13 مسلمانوں کی سرعام پٹائی کرنے کے جرم میں 4 پولیس عہدیداروں کو 14 دن قید کی سزا سنائی

گجرات ہائی کورٹ نے گزشتہ سال 13 مسلمانوں کی سرعام پٹائی کرنے کے جرم میں
4 پولیس عہدیداروں کو 14 دن قید کی سزا سنائی، بقیہ 9 عہدیداروں کی عدم شناخت!

احمد آباد: 20/اکتوبر
(سحر نیوز ڈاٹ کام/ایجنسیز)

گجرات ہائی کورٹ نے کل جمعرات کو چار پولیس جوانوں کو گزشتہ سال اکتوبر میں کھیڑا ضلع کے اندھیلہ میں مسلم مردوں کو کھمبے سے باندھ کر سر عام لاٹھیوں سے پٹائی کرنے کے جرم میں 14 دن کی قید کی سزا سنائی ہے۔

معززجسٹس اے ایس سپریہ اور گیتا گوپی کی بنچ نے انسپکٹر اے وی پرمار،سب انسپکٹر ڈی بی کماوت،ہیڈ کانسٹیبل کے ایل دابھی اور کانسٹیبل راجو دابھی کی قید کےخلاف درخواست کو مسترد کردیا۔اس کےبجائے انہوں نے تینوں کومعاوضہ دینے کی پیشکش کی تھی۔ان پولیس عہدیداروں نے 11 اکتوبر کوعدالت کو بتایاکہ لوگوں کو ان کے کولہوں پر چھڑی سے مارنا حراستی تشدد نہیں ماناجانا چاہئے۔انہوں نےمجرمانہ فیصلے کی استدعا کی اور بعد میں آنے والی سزا ان کے پیشہ ورانہ ریکارڈ کو بری طرح متاثر کرے گی اور غیر مشروط معافی کی پیشکش کی۔

سینئر ایڈوکیٹ پرکاش جانی،جنہوں نے ان چار پولیس عہدیداروں کی نمائندگی کی نے 16 اکتوبر کو معزز بنچ کو بتایا کہ ان کے مؤکلوں نے مسلم مردوں اور ان کے وکیل سے ملاقات کی۔انہوں نے مزید کہا کہ متاثرین نے اپنی کمیونٹی کے ارکان کے ساتھ بات چیت کے بعد کوئی سمجھوتہ یا معاوضہ قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

اس معاملہ میں سپرنٹنڈنٹ پولیس راجیش کمار گدھیانے گزشتہ سال عدالت کو بتایاتھاکہ ملزموں نےمبینہ طور پر ہندو برادری میں خوف پیدا کرنے کے لیے گربا کی تقریب میں خلل ڈالنے کی سازش کا حصہ تھے۔انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ چار پولیس اہلکاروں نے امن برقرار رکھنے کی غرض سے طاقت کا استعمال کیا گیا۔

معزز ہائی کورٹ نے مجسٹریٹ کو ہدایت دی تھی کہ وہ ویڈیو فوٹیج اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونےوالی لاٹھیوں کے ذریعہ پٹائی کی تصاویر کا جائزہ لیں۔مجسٹریٹ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ ویڈیوز اور تصاویر واضح نہیں ہیں اور تینوں پر حملہ کرنے والے پولیس اہلکاروں میں سے صرف چار کی شناخت ہو سکی ہے۔

دوسری جانب مکتوب میڈیا کی رپورٹ کےمطابق اس کیس میں ملوث 13 پولیس افسران میں سے،کھیڑا کےچیف جوڈیشل مجسٹریٹ (سی جے ایم) کی رپورٹ پر ان میں سے 9 پولیس عہدیداروں و جوانوں کےخلاف الزامات درج نہیں کیےگئے۔سی جے ایم نڈیاڈ چترا رتنو کی گجرات ہائیکورٹ میں داخل کی گئی رپورٹ میں اس واقعہ میں ملوث 13 پولیس اہلکاروں میں سے صرف 4 کی شناخت کی گئی ہے۔

ان متاثرہ 5 مسلم مردوں میں ظہیر میاں ملک (62 سالہ)،مقصودابانو ملک (45 سالہ)،سہدمیا ملک (23 سالہ)،سکلمیا ملک (24 سالہ) اور شاہد راجہ ملک (25 سالہ) نے گزشتہ سال پولیس افسران کے خلاف کارروائی کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔انہوں نے الزام عائد کیا تھے کہ ان پولیس افسران نے سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عدالت کی توہین کی۔

بعدازاں 4 اکتوبر کو عدالت نے گرفتاریوں اور حراستوں کے دوران پولیس کے طرزعمل سےمتعلق سپریم کورٹ کے رہنما یانہ خطوط کی خلاف ورزی کرنے پر مذکورہ بالا انسپکٹر، سب انسپکٹر اور دو پولیس جوانوں کے خلاف الزامات طئے کیے تھے اور کل اپنا فیصلہ صادر کیا۔

یہاں یہ تذکرہ غیر ضروری نہ ہوگا کہ 4 اکتوبر 2022ء کو گجرات کا ایک انتہائی لرزہ دینے والا ویڈیو سوشل میڈیا کےمختلف پلیٹ فارمز پر سونامی کی طرح وائرل ہوا تھا اور اس پر شدید تنقید کی گئی تھی۔

اس ویڈیو میں دیکھا گیا تھا کہ چند نوجوانوں کو باری باری برقی کھمبے سے باندھ کر خود پولیس کی جانب سے بےتحاشہ لاٹھیوں کے ذریعہ پیٹا جا رہا ہے۔اور وہاں جمع ہجوم جن میں خواتین،مرد اور نوجوان شامل ہیں اور سڑک پر بیٹھے ہوئے نوجوان تالیاں بجاتے اور خوشی کا اظہارکرتےہوئے "بھارت ماتا کی جئے” اور ” جئے شری رام ”کے نعرے لگا رہے تھے۔

جبکہ پولیس کی بربریت کا شکار یہ نوجوان درد برداشت نہ کرتے ہوئے چیخ اور رو رہے تھے۔قریب ہی یونیفارم میں موجود پولیس فورس بھی آرام کے ساتھ یہ نظارہ دیکھ کر سامعین کے ساتھ لطف اندوز ہو رہی تھی۔اور اس واقعہ کا باقاعدہ ویڈیو لیا گیا تھا اور مقامی میڈیا نے بھی اس کا کوریج کیا تھا۔

اس وقت اس واقعہ کی تفصیلات بتائی گئی تھیں کہ گجرات کے کھیڑاضلع کےتحت ادھیلا گاؤں کے گربا پنڈال پر پتھراؤکے الزام کےبعد پولیس نے 9 مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا اور ان ملزموں کو گاؤں لے گئی،انہیں چوک پر برقی کھمبے سے باندھ کر سرعام مجمع کے سامنے ایک ایک کو پکڑ کر نوجوانوں کی پٹائی کی گئی۔اس کے بعد ان ملزموں سے وہاں جمع ہندو برادری کے لوگوں سے ہاتھ جوڑ کر معافی بھی منگوائی گئی۔

4 اکتوبر 2022ء کو اس دیڈیو کوسپریم کورٹ کے نامور و سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے ٹوئٹ کرتے ہوئے سوال کیاتھا کہ”ذہنی طور پر پسماندہ وحشی۔”! ” کیا گجرات پولیس کارروائی کرے گی؟ یا گجرات میں قانون کی حکمرانی مردہ ہے؟”

اس واقعہ کا ویڈیو اور مکمل تفصیلی رپورٹ سحر نیوز ڈاٹ کام کی اس لنک کو کلک کرکے پڑھی جاسکتی ہے "

گجرات میں گربا پنڈال پر پتھراؤ کا الزام، 9 نوجوانوں کی کھمبے سے باندھ کر پولیس نے کی جم کرپٹائی، مدھیہ پردیش میں نوراتری میں خلل کا الزام تین مکانات منہدم