مالدہ ضلع میں 8 سالہ مرسلین شیخ نے پٹریوں میں شگاف دیکھ کر اپنی لال ٹی شرٹ لہراتے ہوئے ٹرین کو رکوا دیا، مسافرین کی بچائی جان

مالدہ ضلع میں 8 سالہ مرسلین شیخ نے پٹریوں میں شگاف دیکھ کر اپنی لال ٹی شرٹ لہرائی
ٹرین کو رکواکر مسافرین کی جان بچائی، ریلوے عہدیداروں نے انعام سے نوازا

کولکتہ : 25۔ستمبر
(سحرنیوز/سوشل میڈیا ڈیسک)

مغربی بنگال کے مالدہ ضلع کا ایک 8 سالہ لڑکا تیز رفتاری کے ساتھ دؤڑتی ہوئی ایک ٹرین کو رکواکر ہیرو بن گیا۔ مرسلین شیخ نامی یہ لڑکا اپنے گاؤں کے قریب ایک تالاب میں مچھلیاں پکڑنے گیا ہوا تھا کہ اس نے زمین دھنسنے کے باعث ریلوے ٹریک کے نیچے موجود کنکروں کے ہٹ جانے سے ٹریک کے نیچے ایک بڑا گڑھا دیکھ لیا تھا۔جو کہ گذشتہ پانچ دنوں سے جاری بارش کے باعث پڑگیا تھا۔

جبکہ اسی ٹریک پر ایک تیز رفتار مسافر ٹرین آرہی تھی مرسلین شیخ نے حادثہ کا امکان محسوس کرتےہوئے اپنی حاضر دماغی سے فوری اپنے بدن پر موجود لال ٹی۔شرٹ اتاری اور ٹریک پر کھڑے ہو کر اس ٹرین کی جانب لہرانے لگا جسے دیکھ کر ٹرین ڈرائیور نے ٹرین کی رفتار دھیمی کرتے ہوئے ٹرین کو اس مقام سے دور روک دیا۔یہ واقعہ جمعہ کا بتایا گیاہے۔اس لڑکےکا ویڈیوسوشل میڈیا پر وائرل ہواہے اوراس لڑکے کی حاضر دماغی کی ستائش کی جارہی ہے۔

میڈیا اطلاعات کےمطابق کریالی موضع کے ساکن مرسلین شیخ مچھلیاں پکڑنے کے لیے قریب ہی موجود ایک تالاب گئے ہوئے تھے۔اسی دوران اس لڑکے ریلوے ٹریک کے زمین میں دھنسنے کامنظر دیکھا جبکہ اسی ٹریک پرسیالدہ۔سلچر کنچن جنگا ٹرین آرہی تھی مرسلین شیخ نےجب یہ منظر دیکھا کہ ٹریک متاثر ہوئی ہے اور دوسری جانب سے ایک مسافر ٹرین آرہی ہے تو فوری اس نے اپنے بدن پر پہنی ہوئی لال رنگ کی ٹی۔شرٹ اتاری اور اس کو ٹریک پر کھڑے ہوکر بلند کرتے ہوئے تیزی کے ساتھ لہراتے ہوئے ٹرین ڈرائیور کو خطرہ سے آگاہ کر دیا۔

ٹرین کے گارڈ اور ڈرائیور نےاس منظر کو دیکھ کر ٹرین کو روک دیا۔جب ٹرین ڈرائیور اس لڑکے کے پاس پہنچے اور ٹرین رکوانے کی وجہ پوچھی تو اس نے انہیں دکھایا کہ کیسے بارش کے باعث ٹریک زمین میں دھنس گئی ہے۔ٹرین ڈرائیور اس منظر کو دیکھ کر حیرت زدہ ہوگئے اور مرسلین کی خوب تعریف کی۔اور کہا کہ اس نے ٹرین کو حادثہ کا شکار ہونے سے بچا لیا اورٹرین میں سوار سینکڑوں مسافروں کی جان بچائی ہے۔

جائے مقام پر ٹرین کے گارڈ کے علاوہ ٹرین میں سوار مسافروں کی بڑی تعداد بھی ٹرین سے اتر کراس مقام پر پہنچ گئی اور مرسلین شیخ کی حاضر دماغی کی خوب تعریف کی۔بعدازاں بھلوکا روڈ ریلوے اسٹیشن کے جی آر پی اور سی آر پی ایف کے جوانوں اور ریلوے کاعملہ جائے مقام پر پہنچ گیا۔ٹرین کو واپس سلچر لے جایا گیا۔ دو گھنٹوں تک ٹریک کی مرمت کی گئی اور ٹرینوں کی آمد و رفت بحال کر دی گئی۔

اس واقعہ کی اطلاع عام ہوتے ہی مرسلین شیخ اس علاقہ میں ہیرو بن گیا۔،مرسلین کی ماں مورزینا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیٹے مرسلین شیخ نے ذمہ داری کا مظاہرہ اور حاضر دماغی سے کام لیتے ہوئے مسافروں کی جان بچائی جس پر انہیں فخر ہے۔

مرسلین شیخ نے کہا کہ اس نے ریلوے ٹریک کے نیچے سوراخ دیکھ کر ضروری سمجھا کہ کسی طرح ٹرین کو رکوایا جائے تو اس نے فوری اپنی ٹی۔شرٹ اتاری اور ٹرین کو رکوانے میں کامیاب ہوگیا۔اسی موضع کے سمیع الدین نے بھی بتایا کہ وہ ٹرین کی پٹریوں کے بازو سے گزر رہے تھے اورسامنے سے ٹرین آرہی تھی اس وقت مرسلین شیخ اپنی لال ٹی۔شرٹ لہرا کر ٹرین کو رکوانے کی کوشش کر رہا تھا بالآخر ٹرین روک دی گئی۔انہوں نے کہا کہ اس بچہ نے بہت بڑا کام کیا ہے۔

انڈیا ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سبیاسچی ڈی،چیف پبلک ریلیشن آفیسر، شمال مشرق فرنٹیئر ریلوے نے تعریف کرتے ہوئے بتایا کہ مالدہ میں ایک 12 سالہ لڑکے نے بہادری کا مظاہرہ کرتے اس نے تیز رفتار مسافر ٹرین کے لوکو پائلٹ کو ٹرین کو بارش سے تباہ شدہ حصے کو عبور کرنے سے روکنے کے لیے اپنی سرخ ٹی۔شرٹ لہرائی۔

انہوں نے کہاکہ ریلوے ٹریک کو ایسی جگہ پر نقصان پہنچا تھاجہاں بارش سے مٹی اور کنکر بہہ گئے تھے۔مرسلین شیخ جو کہ قریبی گاؤں کے ایک مہاجر مزدور کا بیٹا ہے،بھی ریلوے کے عملے کے ساتھ صحن میں موجود تھا۔بارش سے پٹریوں کے نیچے ٹوٹے ہوئے حصے کو دیکھ کر لڑکے نے اس وقت سمجھداری سے کام لیا اور چوکنا کر دیا۔

سبیاسچی ڈی،چیف پبلک ریلیشن آفیسر،شمال مشرق فرنٹیئر ریلوے نے کہا کہ تباہ شدہ ٹریک کے حصہ کی مرمت کی گئی اور بعد میں آپریشن دوبارہ شروع کر دیا گیا۔این ایف ریلوے حکام نے آج 25 ستمبر کو اس بہادر لڑکے مرسلین شیخ کو اس کی بہادری کے لیے ایک سرٹیفکیٹ اور نقد انعام سے نوازا۔مالدہ شمالی کے ایم پی کھگین مرمو اور کٹیہار کے ڈویژنل ریلوے منیجر سریندر کمار نے لڑکے کےگھر پہنچ کر اسے انعام حوالے کیا اور اس تعریف کی۔