راہول گاندھی سے ٹماٹر کی قیمت سے بے بس ہوکر رونے والے سبزی فروش کی ملاقات، لنچ پر مدعو، سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تھا ویڈیو

دھوپ نکلی ہے بارشوں کے بعد
وہ ابھی رو کے مسکرائے ہیں

راہول گاندھی سے ٹماٹر کی قیمت پر بے بس ہوکر رونے والے
سبزی فروش کی ملاقات لنچ پر مدعو، سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تھا ویڈیو

حیدرآباد : 15۔اگست
(سحرنیوز/سوشل میڈیا ڈیسک)

آج کے دؤر میں کسی سے ہمدردی کے دو الفاظ بھی بول دینا سامنے والے کےلیے مرہم اور ہمت و حوصلہ کا باعث ثابت ہوتاہے۔نفسانفسی کے اس دؤر میں ضروری ہوگیاہے کہ اپنے اطراف موجود لوگوں کے ساتھ اپنائیت کےساتھ بات کی جائے۔اپنا ہو یا غیر اسے احساس کر وایا جائے کہ میں ہوں نہ۔؟

پتہ نہیں کون غموں،محرومیوں اور ضرورتوں کا پہاڑ اٹھائے ہوئے گھوم رہا ہے اور پھر بھی ا پنے چہرہ پر مسکراہٹ سجائے رکھتا ہے۔پتہ نہیں کب کون کہاں اور کیسے کس بات پر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگ جائے؟ ویسے ماہرین نفسیات کا کہناہےکہ ہنسی اورمسکراہٹ کے ساتھ ساتھ کبھی کبھار رو لینا بھی ذہنی تناؤ اور پریشانیوں کو ذہن سے جھٹکنے کے لیے بہترین نسخہ ثابت ہوتا ہے۔!!

ماہ جولائی کے اواخر میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بہت زیادہ وائرل ہوا تھا جو کہ دہلی کے ایک ترکاری فروش اور مشہور میڈیا ادارہ للن ٹاپ کے صحافی بھانو کمار جھا کا تھا۔جو کہ دہلی کے جہانگیر پوری میں رہنے والے رامیشور نامی سبزی فروش سے اچانک ملاقات پرمشتمل تھا۔جس میں سبزی فروش کو پہلے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ بات کرتے ہوئے پھر اپنے رندھے ہوئےگلے کےساتھ اپنا چہرہ ایک طرف پھیرنے کے بعد چند لمحوں تک خاموشی اور ان کا پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے رومال سے اپنی آنکھوں کو صاف کرنے والے اس نظارے نے دیکھنے والوں کی آنکھوں کو بھی نم کرکے رکھ دیا تھا۔رامیشور آزاد پور منڈی سے سبزیاں خرید کر ٹھیلہ بنڈی پر اس کو فروخت کرتے ہیں۔

اس ویڈیو کے ایک حصہ کو 28 جولائی کو ٹوئٹ کرتے ہوئے راہول گاندھی نے لکھا تھا کہ” ملک کو دو طبقوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے! ایک طرف اقتدار کو تحفظ دینے والے طاقتور لوگ ہیں، جن کے اشاروں پر ملک کی پالیسیاں بن رہی ہیں۔اور دوسری جانب ہےعام ہندوستانی،جس کی پہنچ سےسبزیوں جیسی بنیادی چیزیں بھی دور ہوتی جارہی ہیں۔ہمیں امیر اور غریب کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو پُر کرنا اور ان آنسوؤں کو پونچھنا ہوگا۔”

اس ویڈیو کے وائرل ہونے کےبعد کئی بڑی شخصیتوں اورسوشل میڈیا صارفین نے صحافی بھانو کمار جھا سے ٹوئٹر پر رامیشور کا موبائل نمبر طلب کیا تھا کہ وہ اس کی مالی مدد کرنا چاہتے ہیں تاہم اس صحافی نے بتایا تھا کہ انہوں نے رامیشور سے ان کا موبائل نمبر حاصل نہیں کیا۔

بعدازاں دو دن قبل ونود کمار جھا نے کسی طرح جہانگیر پوری میں سبزی فروش رامیشور کے مکان کا پتہ تلاش کرلیا اور ان سےتفصیلی ملاقات کی اس دوران رامیشور نے کہا کہ ان کا ویڈیو کسی نے دکھایا جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تھا۔اسی دوران رامیشور نے صحافی سے پوچھا تھا کہ کیا راہول گاندھی سے بات ہوسکتی ہے۔؟اس وقت رامیشور نے یہ بھی بتایا تھا کہ سنا ہے کہ راہول گاندھی آزاد پور منڈی آئے تھے اور میرے متعلق پوچھا تھا۔یاد رہے کہ یکم اگست کو راہول گاندھی نے 5 بجے صبح آزاد پور منڈی کا دورہ کرتے ہوئے سبزی فروشوں سے بات کی تھی۔

اس کے بعد کل 14 اگست کو کانگریس کے رکن پارلیمان راہول گاندھی نے اس سبزی فروش رامیشور سےملاقات کی اور دہلی میں ان کی رہائش گاہ پر ان کے لیے لنچ کا اہتمام کیا۔رامیشور کے ساتھ اپنی تصویر ٹوئٹ کرتے ہوئے راہول گاندھی نے لکھا ہے کہ ” رامیشور جی ایک زندہ دل انسان ہیں! ان میں کروڑوں ہندوستانیوں کی ملنسار فطرت کی جھلک نظر آتی ہے۔جو لوگ مشکل حالات میں بھی مسکراہٹ کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں وہ صحیح معنوں میں ‘ بھارت بھاگیہ ودھاتا ‘ ہیں۔ "

جنرل سیکریٹری کانگریس پرینکا گاندھی واڈرا نے بھی راہول گاندھی اور رامیشور کی تین تصاویر ٹوئٹ کی ہیں۔

 

رامیشور واقعہ سے متعلق مکمل تفصیلات اور وائرل شدہ ویڈیوز اس لنک پر "

ٹماٹر کی آسمان چھوتی قیمتوں پر بے بس و لاچار اور روتے ہوئے دہلی کے سبزی فروش کا وائرل شدہ جذباتی ویڈیو موضوع بحث

" یہ بھی پڑھیں ” 

میرے دیش پریمیو، آپس میں پریم کرو، دیش پریمیو، یومِ آزادی ہند کی 77 ویں سالگرہ، حب الوطنی سے سرشار قدیم اور جدید فلمی نغمے

 

وقارآباد ضلع : تانڈور میں برہم کسانوں نے جے سی بی کے ذریعہ سمنٹ فیکٹری تک جانے والی ریلوے ٹریک کو اکھاڑ دیا