پرینکا گاندھی واڈرا کے خلاف مدھیہ پردیش کے 41 اضلاع میں مقدمات درج

پرینکا گاندھی واڈرا کے خلاف مدھیہ پردیش کے 41 اضلاع میں مقدمات درج
ریاستی بی جے پی حکومت پر 50 فیصد کمیشن والی حکومت کے ٹوئٹ کا شاخسانہ

بھوپال : 14/اگست
(سحر نیوز ڈاٹ کام/ایجنسیز)

جنرل سیکریٹری کانگریس پرینکا گاندھی واڈرا کےخلاف ریاست مدھیہ پردیش کے 41 اضلاع کےپولیس اسٹیشنوں میں بی جے پی قائدین  کی جانب سے درج کروائی گئی شکایتوں کے بعد ہفتہ اور اتوار کو کیس درج کیے گئے ہیں۔

این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کےمطابق اندور پولیس نےہفتہ کو بتایاکہ کانگریس کےسینئر لیڈرز بشمول پرینکا گاندھی واڈرا،مدھیہ پردیش کانگریس سربراہ کمل ناتھ اور سابق مرکزی وزیر ارون یادو کے ٹوئٹر ہینڈلز (ٹوئٹر جو کہ اب X میں تبدیل کیا گیا ہے) کے خلاف بی جے پی حکومت پر الزام عائد کیے جانے والے ایک پوسٹ کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے۔انہوں نے سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر جعلی خبریں پوسٹ کرنے پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت والی مدھیہ پردیش حکومت پر 50 فیصد کمیشن کا مطالبہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔کانگریسی لیڈر جئے رام رمیش بھی ان میں شامل ہیں جن کے خلاف مدھیہ پردیش کے 41 اضلاع میں مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ 

رپورٹ کے مطابق ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر آف پولیس رامسانی مشرا نے کہاکہ اندور کے سنیوگیتا گنج پولیس اسٹیشن میں پرینکا گاندھی واڈرا،کمل ناتھ اور ارون یادو کے ٹوئٹر "ہینڈلز” کےخلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے نیمیش پاٹھک کی شکایت پر تعزیرات ہند کی دفعہ 420 (دھوکہ دہی) اور 469 (ساکھ کو نقصان پہنچانے کے ارادے سے جعلسازی)کےتحت مقدمہ درج کیاگیا ہے۔

اندور پولس کمشنر نے ہفتہ کی رات دیر گئے کہاتھاکہ مقامی بی جے پی قانونی سیل کے کنوینر نیمیش پاٹھک نے شکایت کی ہے کہ گیانیندر اوستھی نامی شخص کے نام کا ایک فرضی مکتوب سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔اور پاٹھک نے الزام عائد کیاہےکہ کانگریس لیڈروں نے "گمراہ کن” سوشل میڈیا پوسٹس شیئر کرکے ریاستی حکومت اور ان کی پارٹی کی شبیہ کوخراب کرنے کی سازش کی اور ریاست میں بی جے پی حکومت پربدعنوانی میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔

ہندوستان ٹائمز  کی رپورٹ کےمطابق پولیس میں درج کروائی گئی ان شکایتوں کےمطابق، گیانیندر اوستھی نامی ایک شخص کے نام سے مشتمل ایک فرضی مکتوب جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ریاست میں ٹھیکیداروں سے 50 فیصد کمیشن ادا کرنے کو کہا جا رہا ہے۔ اور یہ مکتوب سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے۔ایک سینئر پولیس عہدیدارنے بتایا کہ اوستھی کے خلاف بھی ایک مقدمہ درج کیا گیا ہے۔جس کی شناخت کا ابھی پتہ نہیں چل سکا ہے۔

وزیر داخلہ مدھیہ پردیش مسٹر نروتم مشرا نے پرینکا گاندھی واڈرا کے الزام کو جھوٹ اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہاتھاکہ اس سلسلہ میں ثبوت فراہم کیے جائیں۔ساتھ ہی انہوں نے انتباہ دیا تھا کہ ثبوتوں کی عدم فراہمی پر قانونی کارروائی کے لیے ریاستی حکومت اور بی جے پی کے سامنے بصورت دیگر آپشن کھلے ہوئے ہیں۔

ان الزامات، شکایتوں اور بڑی تعداد میں مقدمات کے اندراج پر سابق چیف منسٹر مدھیہ پردیش و صدر پردیش کانگریس کمیٹی کمل ناتھ نے کہا کہ ریاست میں بدعنوانی کے سینکڑوں معاملے ہوئے ہیں۔ان پر کتنے مقدمات درج ہوں گے۔؟ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وہ صرف جعلی ایجنڈہ بنانےکی کوشش کررہے ہیں اور عوام اسے اچھی طرح جانتےہیں۔کانگریس لیڈروں اور کارکنوں نے پارٹی کےسینئر لیڈروں پر درج مقدمات کے خلاف کل اتوار کو پورے مدھیہ پردیش میں احتجاج منظم کیا گیا۔