چھتیس گڑھ میں سیلفی لینے کے دوران اپنے گرے ہوئے موبائل فون کے لیے، ڈیم سے 21 لاکھ لیتر پانی خارج کروانے والا عہدیدار خدمات سے معطل

چھتیس گڑھ میں سیلفی لینے کے دوران اپنے گرے ہوئے موبائل فون کے لیے
ڈیم سے 21 لاکھ لیتر پانی خارج کروانے والا عہدیدار خدمات سے معطل

نئی دہلی/رائے پور: 27۔مئی
(سحر نیوز ڈاٹ کام/ایجنسیز)

بعض سرکاری عہدیدار ان حرکتوں میں مبتلا ہوتےہیں کہ وہ اپنےعہدہ کی دھاک جماکر جو چاہیں وہ کرسکتے ہیں۔لیکن ایسے عہدیداروں کو بالآخر اپنی ملازمت سے محروم ہونا پڑتا ہے۔سوشل میڈیاکے اس دؤر میں نہ صرف سرکاری عہدیدار بلکہ منتخبہ عوامی نمائندوں کے علاوہ نامورشخصیتوں اور خود عام آدمی کی ہرحرکت ہرکسی کےپاس موجود موبائل فون کےکیمروں میں قید ہوجاتی ہے پھر وہاں سے یہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوکر مصیبت کا باعث بن جاتی ہے۔

ایسا ہی ایک واقعہ ریاست چھتیس گڑھ کے ایک عہدیدارکے ساتھ پیش آیا ہے جس نے سیلفی لینے کے دوران اپنا اسمارٹ فون ڈیم کے پانی میں گرا دیا۔اس پر طرفہ تماشہ یہ کہ اس نے اپنے اس موبائل فون کے لیے اس ڈیم کا پانی خارج کرتے ہوئے اسے ضائع کر دیا۔اس واقعہ کا کسی نے ویڈیو لےکر سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دیا جس کے بعد یہ ویڈیو وائرل ہوا،میڈیا تک پہنچا پھر حکومت نے اس عہدیدار کو خدمات سے معطل کردیا۔ساتھ ہی اس عہدیدار کی ایک ماہ کی تنخواہ بھی کاٹ لی گئی۔

اس واقعہ کی تفصیلات کے مطابق راجیش وشواس کانکیر ضلع کے کھیرکٹہ پرالکوٹ ریزروائر میں اپنی چھٹی کا مزہ لے رہے تھے جب انہوں نے سیلفی لیتے ہوئے اپنے Samsung S23 فون کو گہرے پانی میں گرا دیا۔جس کی قیمت 96,000 روپئے بتائی گئی ہے۔اپنا مہنگا فون پانی میں سے نکالنے کے لیے انہوں نے محکمہ آبپاشی کے عہدیداروں سے رابطہ کیا۔وشواس نے دعویٰ کیا کہ انہیں ڈیم سے 3-4 فٹ پانی خارج کرنے کی اجازت ملی تھی جس میں 15 فٹ گہرا پانی تھا۔

راجیش وشواس جو کہ ایک فوڈ آفیسر ہیں نے اپنا فون حاصل کرنےکے لیے اس ڈیم سے پانی خارج کرنے کی غرض سے 30 ہارس پاور کاپمپ لگادیا۔تین دن تک جاری رہنے والی اس کوشش میں 21 لاکھ لیترپانی جو کہ 1,500 ایکڑ زرعی اراضی کو سیراب کرنےکے لیےکافی تھاخارج کرتے ہوئے ضائع کر دیا۔جس کے بعد اس عہدیدار نے اپنا فون تو برآمد کرلیا لیکن تین دن پانی میں رہنے کےباعث یہ فون کام نہیں کر رہا تھا۔

جب معاملہ سامنے آیا تو پتہ چلا کہ اس ڈیم میں پانی کی سطح 10 فٹ سے زیادہ نیچے ہے۔لیکن راجیش وشواس نے کہا کہ ڈیزل پمپ کا استعمال کرتے ہوئے پانی خارج کرنے کی کوششوں پر تقریباً 8000 روپے خرچ ہوئے اور کوئی کسان ان کے اقدامات سے متاثر نہیں ہوا۔

دوسری جانب راجیش وشواس اپنی اس کارستانی کو دوسروں کے سر مونڈھنے میں مصروف ہیں ان کاکہناہے کہ جب دیہاتیوں نے ڈیم میں غوطہ لگاکر فون تلاش کیا تو پانی میں گندگی کی وجہ سے ان کا فون نہیں ملا تو دیہاتیوں نے انہیں ڈیم سے پانی خارج کرنے کا مشورہ دیا۔وشواس نے یہ بھی کہاکہ محکمہ آبپاشی کے سینئر عہدیدار نے انہیں بتایاکہ پانی کسی بھی چیز کےلیے استعمال نہیں کیا جاتا ہے، اسی وجہ سے انہوں نے اس ڈیم سے پانی خارج کیا۔ اس معاملہ میں سابق چیف منسٹر چھتیس گڑھ رمن سنگھ نے کہا کہ لوگ شدید گرما کے موسم میں پانی کے ٹینکروں پر انحصار کررہے ہیں اور ایک عہدیدار نے 21 لاکھ لیٹر پانی ضائع کر دیا۔

ڈیم سے 21 لاکھ لیتر پانی خارج کرتےہوئے اس کو ضائع کرنےکے معاملہ میں راجیش وشواس اور محکمہ آبی وسائل کے سینئر سب ڈویژنل آفیسر آر سی دھیور جنہوں نے پانی خارج کرنے کی زبانی اجازت دی تھی کٹہرے میں ہیں۔ راجیش وشواس کو خدمات سے معطل کر دیا گیا ہے اور ایس ڈی او آر سی دھیور سے کہا گیا ہے کہ وہ گرمیوں کے عروج پر پانی کے بے تحاشہ ضیاع کی پابجائی کریں۔اگرانہوں نے اس سلسلہ میں ایک دن کے اندر جواب نہیں دیا تو ان کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔