کوئمبتور کی پہلی بس ڈرائیور بننے کا اعزاز شرمیلانے اپنے نام کرلیا، فارمیسی میں ڈپلومہ کی تکمیل، آٹو سے بس ڈرائیور تک کا سفر

کوئمبتور کی پہلی بس ڈرائیور بننے کا اعزاز شرمیلا نے اپنے نام کرلیا
فارمیسی میں ڈپلومہ کے بعد آٹو چلاتے ہوئے بس چلانے کی تربیت حاصل کی

حیدرآباد: 12۔اپریل
(سحر نیوز ڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)

عورت کو صنف نازک کہا جاتا ہے۔تاہم چند سال سے یہ انقلابی تبدیلی دیکھی جارہی ہے کہ خواتین بھی مردوں کے شانہ بہ شانہ چل کر یہ پیغام دے رہی ہیں کہ ہم کسی سے کم نہیں۔!

خواتین نے ساتھ ہی زمانے کو دکھا دیا ہے کہ وہ اتنی بھی نازک نہیں ہیں جیسا کہ معاشرہ ان کےمتعلق سوچتا ہے۔دفاتر سے لے کر ہوائی جہاز اڑانے تک صدرجمہوریہ کے عہدہ جلیلہ تک، چند ممالک کی وزیراعظم، ٹینس،باکسنگ، کرکٹ جیسے کھیلوں کےعلاوہ کئی شعبہ جات میں اب خواتین اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔حتیٰ کہ فوج میں فائٹر پائلٹ،آئی اے ایس، آئی پی ایس،آئی اے ایف جیسے اہم عہدوں کےعلاوہ فوج میں ملازمت کے ذریعہ سرحدوں کی حفاظت، ہوئی جہازوں کی پائلٹ، ڈاکٹرز،پروفیسرز،لکچرارز، انجنیئرز،شعبہ صحافت،نیورو اور ہارٹ سرجن سے لے کر مرکزی اور مختلف ریاستوں میں وزراء کی ذمہ داریوں تک خواتین کی رسائی ہوئی ہے جہاں وہ اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔

اس کے علاوہ بھی زندگی کےمختلف شعبہ جات میں بھی خواتین خدمات انجام دے رہی ہیں۔وہیں ملٹی نیشنل کمپنیوں میں بھی اور چھوٹی بڑی صنعتوں کےعلاوہ گھریلوصنعتوں میں بھی خواتین کا دبدبہ قائم ہے۔ناخواندہ خواتین بھی آج باعزت طریقہ سے چھوٹے موٹے کاروبار کرتے ہوئے اپنے خاندانوں کا سہارا بن رہی ہیں۔

کئی خواتین کےویڈیوز اور تصاویر اکثرسوشل میڈیا پروائرل ہوتی ہیں کہ خواتین مختلف غذائی اشیاء کی فروخت،لاریاں،بسیں،آٹو رکشا اور مال بردار گاڑیاں بھی چلاتے ہوئے باعزت طریقہ سے ذریعہ معاش حاصل کر رہی ہیں۔ان خواتین کا یہ جذبہ اور سخت محنت ان سست، کاہل اور غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنےوالے نوجوان لڑکوں کے لیے ایک پیغام ہے کہ انسان ٹھان لے تو کچھ بھی حاصل کرسکتا ہے۔لیکن شرط یہ ہے کہ کچھ بھی کرنے کےلیےسخت محنت،جذبہ اور ذمہ داری کا احساس ہونا لازمی ہے۔اچھے مواقع اور بہتر ملازمت کی تلاش کے چنگل سے باہر نکل کر پہلا قدم درست سمت میں بڑھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔

ایسی ہی ایک باہمت اور باحوصلہ لڑکی کی تصاویر اورتفصیلات چند دنوں سوشل میڈیا پر وائرل ہیں جو باقاعدہ عزم، ہمت اور حوصلہ کے ساتھ مسافروں سے لدی ہوئی بس چلانے میں مصروف ہے۔

تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ تمل ناڈو کے کوئمبتور شہر کا ہے۔جہاں شرمیلا (24 سالہ) بس ڈرائیور بننے کی خواہش رکھتی تھیں۔ ان کا یہ خواب بالآخر پورا ہو گیا ہے۔شرمیلا کے اس خواب اور عزم کا یہ کہہ کر مضحکہ اڑایا جاتا تھا کہ تم بس کے ٹائر کی اونچائی کے برابر بھی نہیں ہو اور بس چلانا چاہتی ہو۔؟ لیکن آج پرُجوش شرمیلا بس چلا رہی ہیں۔

شرمیلا ایک آٹو ڈرائیور کی بیٹی ہیں۔شرمیلا نے فارمیسی میں اپنا ڈپلومہ مکمل کرنے کے بعد نوکری حاصل کرنے کا انتظار نہیں کیا بلکہ اس نے لائسنس حاصل کرلیا اور کوئمبتور شہر میں آٹو ڈرائیور بن گئیں اور کل وقتی آٹو چلانے لگیں۔آٹو چلانے کےدوران شرمیلا کا شوق مزید بڑھ گیا اور انہوں نے عزم کیا کہ وہ ہیوی وہیکل ڈرائیونگ کے میدان میں جائیں گی جو کہ مردوں کا زیر اثر میدان مانا جاتا ہے۔اپنے اس خواب کو پورا کرنے کے لیے شرمیلا نے تربیت حاصل کی اور بس چلانے کا لائسنس حاصل کرلیا۔

ملک کے کئی شہروں میں لڑکیاں میٹرو ٹرین اوربسیں چلا رہی ہیں۔لیکن جہاں تک کوئمبتور کاسوال ہےایسی کوئی خاتون بس ڈرائیور شہر میں موجود نہیں ہے۔لیکن شرمیلا کو کبھی بس چلانے کاموقع نہیں ملا اس کے باوجود اس نےبھاری گاڑی چلانے کی مشق جاری رکھی۔بس چلانے کا موقع اب شرمیلا کے پاس آ گیا ہے۔

شرمیلا نے گاندھی پورم سے سومنور جانے والی وی وی ٹرانسپورٹ کی پرائیویٹ بس چلانا شروع کردی ہے۔کوئمبتور کی پہلی خاتون بس ڈرائیور شرمیلا نے میڈیا کو بتایا کہ میرے والد کی وجہ سے میں بس ڈرائیور بنی، والد نے اس میں بہت مدد کی،میں بس چلانے کی تربیت حاصل کرنے کے لیے گئی۔اس نے بتایاکہ جب بھی وہ ڈرائیونگ کی تربیت حاصل کرنے جاتی تو ماں ان کےساتھ ہر جگہ جاتی تھیں،جب والد کام پر جاتے تھے۔ شرمیلا نے کہا کہ ڈرائیونگ کے شوق کی وجہ سے آسانی سے وہ بس چلانے کی عادی ہوگئیں زیادہ مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔میں نے اپنی تربیت مکمل کی اور چار ماہ قبل اپنا بس لائسنس حاصل کرلیا۔

شرمیلانے کہا کہ وہ تمام لوگ جو اس کے بس ڈرائیونگ ٹریننگ پر جاتے وقت اس پر ہنستے اور طنز کرتےتھے اب حیرت سے اسے دیکھتے ہیں۔شرمیلا نے کہا کہ میں نے بس چلانے کی اجازت کےلیے درخواست دی تو میرا انتخاب میری اونچائی سے کیاگیا نہ کہ میری ڈرائیونگ کی مہارت سے۔جبکہ میں پہلے ہی سے بس چلانے کے موقع کے انتظار میں ایک آٹو چلا رہی تھی۔شرمیلا نے کہا کہ میں صرف اپنے والد اور اپنی ماں کو بس میں لے جانا اور میرے آبائی شہر کوئمبتور کی پہلی خاتون بس ڈرائیور بننا چاہتی تھی۔

اطلاعات کےمطابق تمل ناڈو اور کیرالا میں بھاری گاڑیوں کی ڈرائیور خواتین پہلے سے ہی موجود ہیں۔لیکن کوئمبتور شہر میں کوئی خاتون بس ڈرائیور نہیں ہے۔شرمیلا نےخوش ہوتےہوئے میڈیا سے کہاکہ میرے افراد خاندان چاہتے تھے کہ میں یہ اعزاز حاصل کروں۔جو کہ اب حاصل ہو گیا ہے۔شرمیلا ان خواتین کے لیے ایک رول ماڈل بن گئی ہیں جو زندگی میں باعزت طریقہ سے کچھ حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ کوئمبتور کے عوام بھی اس 24 سالہ لڑکی شرمیلا کے اس جنون اور اپنے مقصد کو حاصل کرلینے کی ستائش کرتے ہوئے ان کی خوب سراہنا کر رہے ہیں۔

ڈی ایم کے پارٹی کی رکن پارلیمان کنی موزی کروناندھی نے فیس بک کے اپنے مصدقہ پیج پر بس چلاتی ہوئی شرمیلا کی دو تصاویر پوسٹ کرتے ہوئے تمل زبان میں لکھا ہے کہ” میڈم کوئمبتور میں سٹی بس ڈرائیور کے طور پر کام کر رہی ہیں۔شرمیلا کے بارے میں جان کر خوشی ہوئی۔ اس طرح کی پیشرفت خواتین کی خود انحصاری اورصنفی غیر جانبدارمعاشرے کی تشکیل کے لیے اہم ہے۔شرمیلا کےلیےمیری نیک خواہشات۔”

” کئی سال قبل شاعر و فلمی گیت کار کیفی اعظمی نے” عورت ” پر ایک خوبصورت کلام لکھا تھا۔جسے مشہور ہدایت کار اور اردو کے شیدائی ” مہیش بھٹ نے اپنی فلم ” تمنا (1997ء)” میں اس کلام کو پوجا بھٹ،پریش راویل اور منوج باجپائی،شرد کپور پر فلمایا تھا۔اس نغمہ کو سونو نگم نے اپنی آواز دی تھی۔ 

https://www.youtube.com/watch?v=OYNOvokDRP8