متحدہ عرب امارات کے نائب صدر و وزیراعظم کے نام سے انعامی مقابلہ کی لنک وائرل، ہیکرز کا نیاجال، لنک کو ہرگز کلک نہ کریں

واٹس ایپ پر متحدہ عرب امارات کے نائب صدر و وزیراعظم کے نام سے
انعامی مقابلہ کی لنک وائرل، ہیکرز کا نیا جال، لنک کو ہرگز کلک نہ کریں

دبئی/حیدرآباد : 31 ۔ مارچ
(سحرنیوزڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)

ماہ رمضان المبارک کے آغاز کےساتھ ہی سوشل میڈیا بالخصوص واٹس ایپ گروپس میں اور نجی طور پر ایک میسیج جس کے ساتھ ایک لنک بھی موجود ہے دھڑا دھڑ وائرل کیا رہا ہے۔واٹس ایپ کے زیادہ تر صارفین اس جھوٹے اور بے بنیاد میسیج پر آنکھ بندکرکے یقین کرتے ہوئے اس میسیج کو کئی گروپس میں دن بھر فارورڈنگ اور شیئر کرنےمیں مصروف ہیں۔وہیں چندصارفین انتہائی غیر ذمہ داری کامظاہرہ کرتےہوئے اس میسیج کو نجی طور پر اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو بھی بھیج رہے ہیں۔

واٹس ایپ پر وائرل شدہ اس میسیج کےساتھ نائب صدر و وزیراعظم متحدہ عرب امارات شیخ محمد بن راشد المکتوم کی ایک تصویر کےساتھ لکھا گیا ہے کہ "ارجنٹ : محمد بن راشد رمضان مقابلہ،ابھی حصہ لیں۔سوالات کے جوابات دیں اور عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم کے تحفہ میں روزآنہ انعامات جیتیں،ہر کوئی فاتح ہے،جلدی کریں اس لنک کے ذریعہ۔اس دلکش میسیج کے ساتھ ایک لنک بھی دی گئی ہے۔"

دراصل یہ ہیکرز کا نیا جال ہے۔جو ہر سال کسی بھی عید و تہوار کے وقت یا نئے سال کے مواقع پرمختلف دلکش آفرز کے ساتھ سوشل میڈیا بالخصوص واٹس ایپ پر ڈال دیتے ہیں۔

واٹس ایپ پر لنک کے ساتھ وائرل شدہ میسیج۔

اب چونکہ ماہ رمضان کا آغاز ہوگیا ہے تو یہ جعلساز متحدہ عرب امارات اور ماہ رمضان کا استعمال کرتے ہوئے سوشل میڈیا صارفین کو دھوکہ دینے میں مصروف ہیں۔ دبئی میں مقیم ایک ذمہ دارشخصیت نے سحر نیوز ڈاٹ کام کو بتایا کہ ایسی کوئی انعامی اسکیم کا دبئی کی حکومت یانائب صدر و وزیراعظم متحدہ عرب امارات شیخ محمد بن راشد المکتوم نے اعلان نہیں کیا ہے اور ایسی لنکس صرف ہندوستان میں ہی وائرل ہیں۔یہ دھوکہ باز جعلسازوں کی حرکت ہے جواس آٖفر کے ذریعہ سوشل میڈیا صارفین کو ٹھگنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔

اب جانیں اس لنک کو کلک کرنے کے بعد کیا ہوتا ہے؟ :

جونہی رمضان اور دبئی کا نام پڑھتے ہیں تو ظاہری بات ہےکہ مسلمان اس پر فوری یقین کرلیتےہیں۔ان ہیکرز کی جانب سےاس انعامی لالچ کے ساتھ دی گئی لنک کو کلک کرنے کے بعد قرآن مجید سے متعلق دو سوال پوچھے جاتے ہیں۔پھر فوری ان کے موبائل اسکرین پر آتا ہے کہ آپ نے 50,000 امریکی ڈالر جیت لیے ہیں۔

بعدازاں اس لنک کوکلک کرنے والوں سے ان کا نام اور ان کا موبائل فون حاصل کیا جاتا ہے۔اس کےبعد ہدایت دی جاتی ہےکہ اپنا انعام حاصل کرنے کے لیے اس لنک کو 5 گروپس میں یا پھر 15 دوستوں کو روانہ کیا جائے۔اس کے نیچے ہی پیغام ہوتا ہے کہ اس مقابلہ میں حصہ لیتے ہوئے انعام حاصل کرنے والے تمام افراد کو ان کے اس رجسٹرڈ موبائل نمبر اطلاع دیتے ہوئے بعد ازاں انعامی رقم یعنی 50,000 ڈالرز روانہ کردئیے جائیں گے۔

اس لنک کو کلک کرنے کے آپ کا موبائل نمبر مانگا جاتا ہے اور یہ پیغامات نظر آتے ہیں۔

دوسری جانب واٹس ایپ کے ہر گروپس اورنجی طورپر یہ میسیج تیزی کے ساتھ وائرل ہے۔کئی گروپس میں وقفہ وقفہ سے یہ میسیج فارورڈ/پوسٹ کیا جارہا ہے۔جو کہ کسی بھی حال غیر ذمہ داری کا مظاہر ہ ہے۔کیونکہ ہیکرز روزآنہ مختلف طریقوں سے عوام کو لوٹنے میں مصروف ہیں۔

سائبر جرائم سیل کے پاس لاکھوں شکایتیں درج کروائی جارہی ہیں۔تلنگانہ/حیدرآباد سٹی پولیس اور سائبر کرائم سیل وقفہ وقفہ سے ایسی ہدایات جاری کرتا ہے کہ کسی بھی آفر پر مشتمل یا کوئی اور مشتبہ لنک کو ہرگز کلک نہ کریں۔

لیکن افسوس کہ بلا کسی تصدیق کہ قوم کے زیادہ تر افراد ایسے لنکس اور میسیج کو ایک منٹ سوچے بغیر فارورڈ کرکےجہاں خود کے بینک اکاؤنٹ / یو پی آئی اور موبائل میں موجود تمام تفصیلات ان ہیکرز کے حوالے کردیتے ہیں یا پھر مالی نقصان سے محروم ہوجاتے ہیں۔وہیں دوسروں کو بھی اسی مصیبت کا شکار بنا دیتے ہیں۔

یاد رکھیں اس زمانے میں سوائے ماں اور باپ کی محبت،پیار اور تحفظ کے مفت میں کچھ بھی نہیں ملنے والا ہے۔سخت محنت و مشقت کے بعد بھی جتنی امید ہوتی ہے اتنا بھی حاصل نہیں ہورہا ہے تو کیسے کوئی انجان دھوکہ بازوں کی ایسی لنک پر یقین کرلیا جاتا ہے جن کا ہمیں پتہ بھی نہیں ہوتا کہ ملک یا بیرون ملک کہاں سے یہ جعلسازی کا کاروبار کررہے ہیں؟جو صرف ایک لنک کلک کرنے کے فوری بعد 50,000 ڈالر کی رقم جیتنے کا جھانسہ دیتے ہوئے ان کے اس فیک میسیج کو مزید فارورڈ کرنے کی ترغیب دیتے ہیں؟اس لیے کہا گیا ہے کہ لالچ بری بلا ہے۔!!

اس لنک اور جعلسازی سے ہر کسی کو واقف کروائیں اگر آپ نے بھی اس لنک کو کلک کیا ہے تو فوری اپنا گوگل کروم اوپن کرکے ساری ہسٹری History# کو ڈیلیٹ Delete# کردیں۔اور اپنے گوگل پے GooglePay# اور فون پے PhonePe# یا دیگر یو پی آئی UPI# کا پاس ورڈ تبدیل کریں۔ اور ساتھ ہی اپنے دوست احباب کو یہ بھی بتادیں کہ واٹس ایپ یا عام ایس ایم ایس SMS# کےذریعہ آنےوالےجعلسازوں کے پیغامات اور اس کے ساتھ دی گئی لنک کو ہرگز کلک نہ کریں فوری ڈیلیٹ کرنے میں ہی سب کی بھلائی ہے۔

سوشل میڈیاصارفین خود غور کریں کہ اس لنک کو کلک کرنےوالے ہر فرد کوکون اور کیوں 50,000 ڈالر کی رقم دے گا۔؟اس طرح یہ رقم کتنے لاکھ کروڑ روپئے تک پہنچ جائے گی۔؟