قومی خبریںکیرالہ کے صحافی صدیق کپن اتر پردیش کی جیل سے 850 دن کی قید کے بعد بالآخر رہا 02/02/202302/02/2023 - by سحر نیوز کیرالہ کے صحافی صدیق کپن اتر پردیش کی جیل سے 850 دن کی قید کے بعد بالآخر رہا لکھنؤ: 02۔فروری (سحرنیوزڈاٹ کام۔ایجنسیز) کیرالہ سےتعلق رکھنے والے صحافی صدیق کپن 850 دنوں کی قید اورصعوبتوں کوبرداشت کرنے کے بعد بالآخر آج جمعرات کے دن جیل سے رہاء ہوگئے۔کیرالہ کے ملاپورم کے رہائشی صدیق کپن 5 اکتوبر 2020 کو اتر پردیش کے ہاتھرس قصبہ میں ایک دلت لڑکی کی اجتماعی عصمت دری اور قتل کا کوریج کرنے کے لیے جا رہے تھے،تاہم اس وقت انہیں متھرا ٹول پلازہ سے تین دیگر افراد کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔ صدیق کپن پر ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کےالزام کےتحت یو اے پی اے UAPA# لگایا گیاتھا۔ساتھ ہی دہشت گرد تنظیموں سے ان کے روابط اور منی لانڈرنگ کے بھی ان پر الزامات عائد کیے گئے۔صدیق کپن کو 10 ستمبر کو سپریم کورٹ نے شہریوں کے” آزادی اظہار”کے حق پر زور دیتے ہوئے ضمانت دی تھی۔تاہم اس وقت کوئی بھی مقامی تنظیم یا لوگ ان کی ضمانت داخل نہیں کیے تھے۔ اس وقت ایک مسیحا کے طور پر 79 سالہ محترمہ روپ ریکھا ورما سامنے آئی تھیں جو لکھنؤ یونیورسٹی کی سابق وائس چانسلر ہیں جوکہ صدیق کپن کو جانتی تک نہیں۔لیکن اس وقت انہوں نے صدیق کپن کی رہائی کو یقینی بنانے کے لیے اپنی کار کے کاغذات ایک مقامی عدالت میں ضمانتی مچلکے کےطور پر جمع کروائے تھے۔دی ٹیلیگراف سے اس وقت بات کرتے ہوئے اس باہمت،حوصلہ مند اور انسانیت کا درد رکھنے والی بزرگ خاتون محترمہ روپ ریکھا ورما نے کہا تھا کہ”میرے ضمیر نے کہا کہ اسے جیل سے باہر ہونا چاہئے اور خود کو بے قصور ثابت کرنا چاہئے”۔ اس وقت محترمہ روپ ریکھا ورما نے دی ٹیلیگراف سے کہاتھاکہ کیرالہ سے ان کے ایک دوست نے انہیں فون کیا اور ان سے درخواست کی کہ وہ دو افراد کو ضمانت دینے کے لیے راضی کروائیں۔”لیکن میرے پاس کوئی نہیں تھے۔میں صرف اپنے آپ کوجانتی ہوں اور اس لیےاپنی سیلریو کار کے کاغذات بطور ضمانت جمع کروائے جس کی قیمت 4 لاکھ روپے سے زیادہ ہے”۔انہوں نے بتایا تھاکہ بعد میں،میں نےسنا کہ لکھنؤ کے ایک اور شخص نے دوسرے سیکورٹی بانڈ کی ادائیگی پر رضامندی ظاہر کی ہے لیکن میں نہیں جانتی کہ وہ شخص کون ہے؟۔ تاہم حکومت کی جانب سےصدیق کپن کو ایک اور کیس میں ماخوذ کرتے ہوئے انہیں جیل میں ہی رکھا گیا تھا۔لکھنؤ کی ایک سیشن عدالت نے جاریہ ہفتہ ہی صدیق کپن کی ضمانت کے معاملہ میں رہائی کے احکامات پر دستخط کیےتھے۔انہیں قبل ازیں الہ آباد ہائی کورٹ نے”پریونشن آف منی لانڈرنگ ایکٹ (PMLA#)” کیس میں ضمانت دی تھی۔رہائی کےحکم نامہ میں جیل سپرنٹنڈنٹ کوہدایت دی گئی تھی کہ اگر وہ کسی اور کیس میں مطلوب نہیں ہیں توصدیق کپن کو رہا کریں۔جبکہ 9 ستمبر 2022 کو سپریم کورٹ نے بھی غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام)ترمیمی ایکٹ کیس میں صدیق کپن کو ضمانت دے دی تھی۔ تاہم پریونشن آف منی لانڈرنگ ایکٹ کے زیر التوا کیس کی وجہ سے وہ جیل میں ہی رہے۔ خبررساں ادارہ اے این آئی سے بات کرتے ہوئےصحافی صدیق کپن نے کہا کہ میں 28 ماہ بعد جیل سے باہر آیا ہوں۔میری تائید کرنے والے تمام میڈیا کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔مجھ پر جھوٹے الزامات لگائے گئے۔صحافی کےحوالے سےاے این آئی نےکہا کہ میں اب باہر ہونے پر خوش ہوں۔” یاد رہے کہ قید کے دؤران صدیق کپن کی والدہ کا انتقال ہوا اور وہ خود بھی جیل میں کورونا وائرس اور دیگر امراض سے متاثر ہوئے تھے۔ "False allegations were put against me," Journalist Siddique Kappan after release from UP jail Read @ANI Story | https://t.co/oHMBrLN8yH#SiddiqueKappan #Kappan #Lucknow pic.twitter.com/E4FywntVjV — ANI Digital (@ani_digital) February 2, 2023 View this post on Instagram A post shared by Quint Hindi (@quinthindi) ” یہ بھی پڑھیں " صدیق کپن کی جیل سے رہائی کے لیے 79 سالہ لکھنؤ یونیورسٹی کی سابق وائس چانسلر روپ ریکھا ورما نے دی ضمانت،کہاں ہیں دردمندان قوم ؟ Share this post: