بہار میں ریل کا انجن، لوہے کا پُل اور موبائل ٹاور کی چوری کے بعد اب دو کلومیٹر طویل سڑک غائب، ویڈیو وائرل

بہار میں ریل کا انجن،لوہے کا پُل اور موبائل ٹاور کی چوری کے بعد
اب دو کلومیٹر طویل سڑک غائب، گاؤں والے پریشان، ویڈیو وائرل

پٹنہ: 02۔ڈسمبر (سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز )

مکانات میں چوری، دُکانات میں چوری،مختلف گاڑیوں اور اشیاء کی چوریاں عام بات ہیں۔لیکن ریاست بہار میں چوروں نے ناقابل یقین چوری کی وارداتوں کے ذریعہ چوریوں کےتمام ریکارڈز کو توڑ کر رکھ دیا ہے۔اندرون ایک ماہ بہار کےمختلف مقامات پر ریل انجن کی چوری،لوہے کے پل کی چوری،موبائل ٹاور کی چوری کامعاملہ تازہ ہی تھا کہ اب چوروں نے بہار میں دو کلومیٹر طویل سڑک ہی غائب کردی ہے۔!! جس کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔

دو دن قبل بہار کے پٹنہ میں خوو کو ایک موبائل کمپنی کےعہدیدار اور ملازم ظاہر کرنےوالے لوگوں کے ایک گروپ نے 19 لاکھ روپےکاموبائل ٹاور چوری کرلیا۔گجرات ٹیلی لنک پرائیویٹ لمیٹڈ (جی ٹی پی ایل) کمپنی کا موبائل ٹاور پٹنہ کے گردانی باغ علاقے میں یار پور راجپوتانہ کالونی میں واقع للن سنگھ نامی شخص کے گھر کی چھت پر نصب کیا گیا تھا۔للن سنگھ کے مطابق،لوگوں کا ایک گروپ ان کے پاس آیا اور کہا کہ کمپنی کو بہت زیادہ نقصان ہو رہا ہے۔اس لیے انہوں نے موبائل ٹاور کو ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔للن سنگھ نے ان کی شناخت کی جانچ پڑتال کے بغیر اتفاق کرلیا کہ وہ اپنا موبائل ٹاور نکال لیں۔

ان چوروں کی دیدہ دلیری یہ کہ مکان مالک کی اجازت کے بعد 25 افراد نے تین دن تک لگاتار چوبیس گھنٹے کام کرتے رہے اور گیس کٹر مشین کے ذریعہ موبائل ٹاور کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔آخر کار وہ اس ٹاور کے آہنی ٹکڑوں کو ٹرک میں لاد کر چل دئیے۔میڈیا اطلاعات کےمطابق چوری شدہ موبائل ٹاور کی مالیت 19 لاکھ روپے تھی اور یہ تقریباً 15 سال قبل للن سنگھ کے مکان کی چھت پر نصب کیا گیا تھا۔

جب موبائل کمپنی کو صارفین کی شکایت موصول ہونے لگیں کہ ان کے علاقہ میں نیٹ ورک نہیں آرہا ہے تو تیکنیکی عملہ نے جانچ کی تو وہ یہ جان کر حیران ہوگئے کہ اس علاقہ کا مکمل موبائل ٹاور ہی غائب ہے۔موبائل کمپنی کی شکایت پر پولیس نے ایف آئی آر درج کر کے تحقیقات کا آغاز کردیا۔

یہ واقعہ اسی طرح کے ایک اور واقعہ کےبعد پیش آیا ہے جہاں چند ماہ قبل ساسارام ​​ضلع میں 500 ٹن وزنی لوہے کا ایک 60 فٹ طویل پل چوری کر لیا گیا تھا۔اس وقت ان چوروں نے وہاں کے عوام کو بتایا تھا کہ ان کا تعلق محکمہ آبی وسائل سے ہے۔

اسی طرح 25 نومبر کو بہار کے بیگو سرائےضلع کےریلوے یارڈ سے ریلوے کا انجن چرانے کا ایک گینگ نےمنصوبہ بنایا اور ریلوے یارڈ تک سرنگ کھود دی۔مرمت کی غرض سے لائےگئے ایک ریل انجن کے وقفہ وقفہ سےالگ الگ ٹکڑے کیے گئے۔انجن کے پہیوں کو تک الگ الگ کردیا گیا۔بعدازاں ریل کےانجن کا سارا سامان چوری کرلیا گیا۔

بعدازاں رہلوے انتظامیہ نے ریل کے انجن کی چوری کی شکایت برونی پولیس اسٹیشن میں درج کروائی۔اس کےبعدمظفر نگر پولیس نے تحقیقات کا آغاز کرتےہوئے تین افراد کو گرفتار کرلیا۔تفتیش میں انہوں نے قبول کیا کہ ریل کے انجن کو ٹکڑوں میں تبدیل کرتے ہوئے سرنگ کے ذریعہ بیاگوں میں رکھ کرمنتقل کیا گیا۔ان تینوں کی نشاندہی پرپولیس نے مظفر پورضلع کے پربھات نگر علاقہ کے ایک اسکریپ ڈیلر کے پاس سے 13 بیاگوں میں رکھے گئے ریل انجن کے ٹکڑے ضبط کرلیے۔تاہم اسکریپ ڈیلر مفرور پایا گیا تھا۔

اب دو دن قبل سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوا ہے۔جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بہار کے ایک گاؤں سے ایک ہی رات میں دو کلومیٹر طویل گاؤں کی سڑک ہی چوری ہوگئی۔یہ واقعہ بہار کے بانکا ضلع کے نوادہ۔کھرونی پنچایت کےکھروونی کا ہے۔جو کہ 29 نومبر کو پیش آیا ہے۔

میڈیا اطلاعات کےمطابق گاؤں اور آس پاس رہنے والے لوگ رات کو سوئے تھےصبح پتہ چلا کہ ان کے گاؤں کو بیرونی دنیا سے ملانے والی واحد سڑک غائب ہو گئی ہے۔وہ یہ جان کر حیران رہ گئے کہ 2 کلومیٹر لمبے رقبے کی اس سڑک پر کھیت کی طرح فصل بوئی گئی ہے۔یہ سڑک کھراؤنی سے خدام پور جاتی ہے۔

انڈیا ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق دراصل چند غنڈوں نے راتوں رات سڑک کو زرعی زمین میں تبدیل کرنےکےلیے ٹریکٹر اور ہل کااستعمال کیا اور سڑک پر ہل چلاکر اس زمین میں گندم کی فصل بودی۔ جب مقامی لوگوں نےاس پر اعتراض کیا تو بدمعاشوں نے ان پر حملہ کیا اور دھمکیاں دیں۔

بعدازاں اس واقعہ کی پولیس سے شکایت کی گئی اور اس کی اطلاع زونل افسر کو بھی دی گئی جنہوں نے شرپسندوں کے خلاف سخت کارروائی اور جلد ہی سڑک کو بحال کرنے کا تیقن دیا۔اب سڑک غائب ہونے کے بعد سےمقامی لوگ گاؤں سے باہر جانے کے لیے کچا راستہ استعمال کر رہے ہیں۔