چلتی ٹرین کی کھڑکی سے موبائل فون چرانے کی کوشش، مسافروں نے چور کے دونوں ہاتھ پکڑ کر دس کلومیٹر تک کھڑکی کے باہر لٹکادیا

پلیٹ فارم پر سے چلتی ٹرین کی کھڑکی سے موبائل فون چرانے کی کوشش
مسافروں نے چور کے دونوں ہاتھ پکڑ کر دس کلومیٹر تک کھڑکی کے باہر لٹکادیا

پٹنہ: 15۔ستمبر
(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

زیادہ تر رات کے وقت ملک کے مختلف ریلوے اسٹیشنوں پر ایسے نظارے دیکھے جاتے ہیں کہ ٹرین میں کھڑکیوں کے پاس حفاظتی شیشے اتار کر بیٹھے ہوئے مسافرین بالخصوص خواتین چوروں کا آسان نشانہ بن جاتے ہیں۔

ماہر چور جب تک ٹرین پلیٹ فارم پر رکی ہوئی ہوتی ہے اس وقت تک وہ اِدھر اُدھر ٹہلتے رہتے ہیں۔جونہی ٹرین چلنا شروع ہوتی ہے چیل کی طرح جھپٹ کر مسافرین کے ہاتھوں میں موجود موبائل فونس یا پھر سکون کے ساتھ بیٹھی ہوئیں خواتین کے گلوں سے زیور چھین لیتے ہیں۔اس وقت ایسے مسافر سوائے چیخ وپکار کے کچھ نہیں کرسکتے۔ایسے زیادہ ترواقعات ان ریلوے اسٹیشنوں پر انجام دیے جاتے ہیں جہاں پلیٹ فارمز پرمسافرین کی تعداد انتہائی کم ہوتی ہے۔چور اس واردات کے فوری بعد فرار ہوجاتے ہیں۔

اس لیے ٹرینوں کے ذریعہ سفر کرنے والے مسافرین کے لیے لازمی ہے کہ رات یا دن کے اؤقات سفر کے دؤران ریلوے پلیٹ فارمز کے علاوہ چلتی ٹرینوں میں بھی اپنی کھڑکیوں کے شیشے بند رکھیں۔جہاں چوروں کا ڈر ہوتا ہے وہیں بعض بچے یا جنونی باہر سے دؤڑتی ہوئیں ٹرینوں کی کھڑکیوں پر پتھر پھینکتے ہیں جس سے مسافرین کا زخمی ہونا طئے ہوتا ہے کیوں کہ پتھر اور ٹرین کی رفتار تیز ہوتی ہے۔

وہیں بہار میں چلتی ٹرین کےدوران ٹرین کی کھڑکی سے موبائل چھین لینے کی کوشش ایک چور کے لیے انتہائی سبق آموز اور یادگار سزا ثابت ہوئی جس کا شاید ہی اس نے گمان کیا تھا ہوگا؟

جونہی ٹرین پلیٹ فارم سےنکلنے لگی اس چور نے کھڑکی میں ہاتھ ڈال کرموبائل اڑانے کی کوشش کی تاہم مستعدمسافر نے اس چور کا ایک ہاتھ سختی کے ساتھ پکڑلیا اور ٹرین نے اپنی رفتار پکڑلی۔اس طرح اس چور کو دس کلومیٹر تک یعنی اگلے اسٹیشن تک اسی طرح ٹرین کے باہرچلاتے ہوئے لٹکنا پڑگیا۔مسافرین نے جہاں اس چور کو سزا دی وہیں اس کے دونوں ہاتھوں کر پکڑ کر اس کی زندگی بھی بچائی۔سوشل میڈیا پر یہ ویڈیو وائرل ہوگیا ہے۔بتایا جاتا ہے کہ یہ کل 14 ستمبر کی رات کا ویڈیو ہے۔اور اسے آج پوسٹ کیا گیا ہے۔

میڈیا اطلاعات کےمطابق سمستی پور۔کٹیہار پاسنجر ٹرین،بیگوسرائے سےکھگڑیا تک اپنے سفرکے اختتام کےقریب تھی۔جب اس چور نے صاحب پور کمال اسٹیشن کے قریب پلیٹ فارم سے ایک مسافر کا موبائل فون اڑانے کی کوشش کی۔لیکن ایک ہوشیار مسافر نے  اس کا ہاتھ زور سے پکڑ لیا۔

جیسے ہی ٹرین چلناشروع ہوئی اس نے التجا کی کہ اسےچھوڑ دیا جائے،لیکن مسافر نے ہاتھ نہیں چھوڑا۔آخر کار اس چورنے اپنا دوسرا ہاتھ بھی ٹرین کی کھڑکی کے اندر ڈالتے ہوئے ان مسافرین سے اپیل کی کہ اس کے ہاتھ پکڑ کر رکھیں ورنہ وہ گرجائے گا۔

اس خطرناک طریقہ سے اس چور کا سفر تقریباً 10 کلومیٹر تک جاری رہا۔اور آخر کار جب ٹرین کھگڑیا ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر پہنچی تو اسے چھوڑدیا گیا۔مقامی لوگوں نے میڈیا کو بتایا کہ جونہی اس کے ہاتھ چھوڑدئیے گئے وہ وہاں سے فرار ہوگیا۔