بینگلورو شدید اور موسلادھار بارش سے دوبارہ ہوا متاثر،عام زندگی مفلوج
اہم علاقے اور سڑکیں زیرآب،کشتیوں اور ٹریکٹرز کی مدد سے عوام کی منتقلی
بینگلورو:05۔ستمبر
(سحر نیوز ڈاٹ کام/ایجنسیز)
اندرون ایک ہفتہ ملک کا اہم آئی ٹی ہب،باغوں کا شہر اور ریاست کرناٹک کا دارالحکومت بینگلورو آج ہونے والی شدید اور موسلادھا بارش کے باعث دوبارہ جھیلوں کے شہر میں تبدیل ہوگیا۔یاد رہے کہ 30 اگست کو بھی شدید بارش کے باعث بینگلورو پانی پانی ہوگیاتھا۔اور آؤٹر رنگ روڑ مکمل جھیل میں تبدیل ہوگئی تھی۔30 اگست کو ہونے والی بارش کےبعد رپورٹس میں بتایاگیا تھا کہ بینگلورومیں آئی ٹی کمپنیوں کو 255 کروڑ روپئے کانقصان ہواتھا۔ان کمپنیوں کا عملہ پانچ گھنٹے سے زائد وقت تک دفاتر میں پھنسا ہوا تھا۔زیادہ تر آئی ٹی کمپنیوں کےدفاتر اور گودام اسی آؤٹر رنگ روڈ پر موجود ہیں۔
بینگلورو میں آج دوبارہ پیر کے دن بھی شدید اور موسلا دھار بارش کاسلسلہ ہنوزجاری ہےاور شہر کی کئی جھیلیں،تالاب اور ڈرین ابل پڑے ہیں ۔جس کے باعث معمول کی زندگی ٹھپ ہو کر رہ گئی ہے۔شاہراہوں اور آؤٹر رنگ روڈ سمیت کئی علاقے زیر آب آگئے ہیں کئی مصروف اور اہم سڑکوں پر پانی بھر جانے سے ٹریفک نظام مفلوج ہوگیا ہے۔
جبکہ سیلاب زدہ چندعلاقوں سےعوام کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیےکشتیوں اور ٹریکٹروں کا استعمال کیا جارہا ہے۔میڈیا اطلاعات کے مطابق سڑکوں پرپانی جمع ہوجانے کی وجہ سےبینگلورو کے عوام نے چند علاقوں میں آج صبح کے وقت بھی طلباء اور دفتر جانے والوں کو لے جانے کے لیے ٹریکٹر اور کشتیوں کا استعمال کیا گیا۔
دوسری جانب کرناٹک کےمحکمہ موسمیات کے مطابق اتوار کی صبح 8.30 بجے سے پیر کی صبح 8.30 بجے کے درمیان مانڈیاضلع کےمالاولی تعلقہ کے ڈی کے ہلی میں سب سے زیادہ یعنی 188 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔جبکہ جنوبی بنگلوروکے تاورکیرےتعلقہ اور بینگلورو ضلع میں175 ملی میٹر بارش میں ریکارڈ کی گئی ہے۔
جبکہ محکمہ موسمیات نے آج پیر کی شام پیش قیاسی کی ہے کہ آئندہ تین گھنٹوں کے دوران بینگلورو(شہری)،بینگلورو(دیہی) کے علاوہ رام نگر،ٹمکور، اور چترادرگا گرج چمک،30 تا 40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی تیز رفتارہواؤں کے ساتھ شدید اور ہلکی بارش سے متاثر ہوسکتے ہیں۔
چیف منسٹر کرناٹک بسواراج بومائی نےمیڈیانمائندوں سےبات کرتے ہوئے کہاہےکہ بینگلورو میں شدید بارش ہوئی ہے۔اور انہوں نے کمشنربروہٹ بینگلورو مہانگراپالیکا(بی بی ایم پی) کے اور دیگر متعلقہ عہدیداروں سےبات کرتے ہوئےحالات سے واقفیت حاصل کی ہے۔چیف منسٹر نے کہا کہ انہوں نے عہدیداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ریاستی ڈیزاسٹر رسپانس فنڈ SDRF کی دو ٹیمیں شہر کے مہادیو پورہ اور بومنہلی زونس میں کشتیاں دیگر اشیاءاورانجینئرز کے ساتھ روانہ کریں جوکہ سب سے زیادہ بارش سے متاثر ہوئے ہیں۔چیف منسٹر کرناٹک نے عہدیداروں کو ہدایت دی ہے کہ سڑکوں اور نشیبی علاقوں سے سیلابی پانی کے جلد اخراج کویقینی بنایا جائے۔
چیف منسٹر کرناٹک بسواراج بومائی نے میڈیا کو بتایا کہ کل اتوار کو ہونےوالی شدید بارش کی وجہ سے ٹی کے ہلی میں موجود بینگلورو واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ (BWSSB) میں جوکہ بینگلوروشہر کو کاویری ندی کےپانی کی سپلائی کا انتظام کرتا ہے،سیلاب کی زد میں آ گیا ہے اور وہاں کی مشینری کو نقصان پہنچا ہے۔اور وہ اس کا معائنہ کرنے جائیں گے۔انہوں نے کہاکہ پہلے ہی سے BWSSB کےچیئرمین،انجینئرز، اربن ڈیولپمنٹ سکریٹری اور دیگرعہدیدار وہاں موجود ہیں۔تیکنیکی اور ہنگامی طریقہ سے پانی کی نکاسی کاکام جاری ہے۔امکان ہےکہ شام تک حالات قابو میں آجائیں گے۔ تاہم بنگلورو واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ کی جانب سے پیر اور منگل کو بینگلورو کے کئی علاقوں میں پانی کی سپلائی میں خلل کا انتباہ دیا ہے۔

"30 اگست کو بینگلورو میں ہونے والی شدید بارش کے ویڈیوز اور تفصیلی رپورٹ سحر نیوز ڈاٹ کام کی اس لنک پر” :-

