این ڈی اے دور حکومت میں سب سے زیادہ اسکامس، صرف ہوا کو چھوڑکرعوام کے لیے تمام چیزوں پر ٹیکس عائد: چیف منسٹر تلنگانہ کی پریس کانفرنس

این ڈی اے دور حکومت میں سب سے زیادہ اسکامس
صرف ہوا کو چھوڑکرعوام کے لیے تمام چیزوں پر ٹیکس
ڈائیلاسز کے مریضوں کو ماہانہ 2016 روپئے کے ماہانہ وظیفہ کا فیصلہ
چیف منسٹر تلنگانہ چندراشیکھرراؤ کی پریس کانفرنس،مرکزی حکومت پر تنقید

حیدرآباد:06۔اگست(سحرنیوز ڈاٹ کام)

چیف منسٹر تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ نے الزام عائد کیا ہے کہ ماضی کی حکومتوں میں اتنی بدعنوانیاں نہیں ہوئیں جتنی کہ موجودہ این ڈی اے دور حکومت میں ہورہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے صرف ہوا کو چھوڑکر عام آدمی کے لیے ہر چیز پرٹیکس عائد کیا جارہا ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ 5 جی اسپیکٹرم کا ہراج ایک بہت بڑا اسکام ہے۔انہوں نے سوال کیا کہ اس کے لیے 5 لاکھ کروڑ روپئے کا نشانہ مقرر کیا گیا تھا جس سے صرف سوا لاکھ کروڑروپئے حاصل ہوئے ہیں کیا یہ بدعنوانی نہیں ہے؟

آج شام پرگتی بھون حیدرآباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتےہوئے چیف منسٹر تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤنے کہاکہ لاکھوں کروڑروپیوں کے بینکوں کے قرضہ جات کی معافی بھی ایک اسکام ہے۔انہوں نے کہا کہ بڑے صنعت کار بینکوں سے قرض سے لے کر بیرون ممالک فرار ہوکر عیش کی زندگی بسر کررہے ہیں۔انہوں نےالزام عائد کیا کہ ایسے کارپوریٹ اداروں کو مرکزی حکومت کی پشت پناہی حاصل ہے۔چیف منسٹرنے سوال کیا کہ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر حکومت نے آج تک ایسے مفرور لوگوں کو کیوں پکڑ کر ہندوستان واپس نہیں لایا؟

چیف منسٹر تلنگانہ نے الزام عائد کیا کہ این ڈی اے دؤر حکومت میں (Non Performing Assets (NPA(غیر کارکرد اثاثے) کا کاروبار چل رہا ہے اور یہ بھی ایک اسکام ہے۔انہوں نے پوچھا کہ کیوں کمپنیوں کو نان پرفامنگ اثاثہ کی سہولت دی جارہی ہے۔چیف منسٹر نے اعداد وشمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سال 2004-2005 میں بینکوں کا این پی اے 58 ہزار کروڑ روپئے تھا،اب یہ 20.07 لاکھ کروڑ روپئے تک پہنچ گیاہے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ قرض داروں سے کمیشن لے کر ان کے قرضہ جات کو این پی اے قرار دیا جارہا ہے۔اس پریس کانفرنس میں ریاستی وزراء ٹی۔ہریش راؤ، ایرابیلی دیاکر راؤ،ملا ریڈی اور دیگر موجود تھے۔

چیف منسٹر کے۔چندراشیکھرراؤ نے کہا کہ انہیں وزیراعظم نریندرمودی سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہےوہ ان کےعوام مخالف فیصلوں کےخلاف ہیں اور یہ مخالفت جاری رہے گی۔انہوں نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ دودھ،دہی،آخری رسومات اور دیگر اشیا سمیت دستکاری پر عائد کیے گئے جی ایس ٹی کو فوری واپس لیا جائے۔

چیف منسٹر نےکہا کہ ریلوے اور ایرپورٹس سمیت دیگر کئی سرکاری ادارے خانگیائے جارہے ہیں۔انہوں نے سوال کیا کہ آخر شعبہ زراعت کو تک خانگیانے کا مقصد کیا ہے؟انہوں نے سوال کیا کہ ملک کے بینکوں سے لاکھوں کروڑ روپئے لوٹ کر باہر ممالک کو فرار ہورہے ہیں اور اس پر حکومت کیا اقدام کررہی ہے؟

چیف منسٹر تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ نے مرکزی حکومت سے سوال کیا کہ اس طرح ایک جانب کارپورٹ اداروں کو لوٹ کھسوٹ کی اجازت دیتے ہوئے دوسری جانب مستحق اور غریبوں کو مفت دی جانے والی اسکیمات کو بند کرنے کی باتیں کرنا کہاں تک درست ہیں؟انہوں نے کہا کہ کیادھوکہ باز کارپوریٹ اداروں کواس طرح لاکھوں کروڑ کا قرض دینا مفت میں شمار نہیں ہوتا؟انہوں نے کہاکہ اس طرح کارپوریٹ اداروں کو لوٹ کھسوٹ سے باز رکھا جائے۔انہوں نے اعلان کیا کہ مرکزی حکومت کے غلط اور عوام دشمن فیصلوں کے خلاف مستقبل میں ریاستی اور مرکزی سطح پر ہمخیال جماعتوں کے ساتھ مل کر بڑے پیمانے پر احتجاج منظم کیا جائے گا۔

چیف منسٹر تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ نے اعلان کیا کہ وہ بطور احتجاج کل دہلی میں منعقدہ نیتی آیوگ کے اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اس اجلاس میں صرف چار منٹ بات کرنے کا موقع دیا جاتا ہے اور چار گھنٹے بیٹھنا پڑتا ہےاور ہماری جانب سے کیے گئے مطالبات کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔اس لیے شرکت نہ کرنے کا مقصد انہیں احساس دلانا ہے جس کا ذکر میڈیا میں ہونے کے بعد وزیراعظم کو یہ بات سمجھ میں آئے گی۔

اس پریس کانفرنس میں چیف منسٹر کے۔چندراشیکھرراؤ نے اعلان کیا کہ حکومت تلنگانہ نے فیصلہ کیا ہے کہ ڈائیلاسز کے مریضوں کو بھی ماہانہ وظیفہ جاری کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ تلنگانہ ایک ایسی واحد ریاست ہے جہاں فلیریا کے مریضوں اور تنہا خواتین کو ماہانہ وظیفہ دیا جاتا ہے۔اور ملک کی 16 ریاستوں میں بیڑی مزدور موجود ہیں لیکن تلنگانہ ہی وہ واحد ریاست ہے جہاں بیڑی مزدوروں کی سرکاری مدد کی جاتی ہے۔

چیف منسٹر نے کہا کہ ریاستی وزیرصحت کی سفارش پر تلنگانہ میں ڈائیلاسز کے مریضوں کو مزیدسہولتیں فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔جنہیں پہلے ہی سےمفت بس پاس کی سہولت حاصل ہے۔انہیں مفت ڈائیلاسز کی خدمات فراہم کی جارہی ہیں اور اس کے لیے ڈائیلاسز سنٹرز کی تعداد میں اضافہ بھی کیا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ ریاست میں 10 تا 12 ہزار ڈائیلاسزکے مریض موجود ہیں۔اب حکومت نے فیصلہ کیاہے کہ ان ڈائیلاسز کے مریضوں کو بھی آسرا اسکیم کے کارڈ دئیے جائیں۔جس سے انہیں ماہانہ 2016 روپئے کا ماہانہ وظیفہ حاصل ہوگا۔

چیف منسٹر کے۔چندراشیکھرراؤ نے اس پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ آسرا سکیم کے تحت مزید دس لاکھ افراد کو ماہانہ وظیفہ جاری کیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ موجودہ طور پر آسرا اسکیم کےتحت ریاست میں 36 لاکھ افراد کو ماہانہ وظائف دئیے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا آزادی کے 75 ویں سال کے موقع پر مزید دس لاکھ افراد کو ماہانہ وظائف منظور کیے جارہےہیں۔جس کےبعد آسر اسکیم کےتحت ماہانہ وظائف حاصل کرنے والوں کی تعداد 46 لاکھ ہوجائے گی۔ساتھ ہی چیف منسٹر نے یہ اعلان بھی کیا کہ آسراسکیم کے لیے اب 57 سال کے حامل مستحق افراد کو ماہانہ وظیفہ دیا جائے گا۔

چیف منسٹر نے کہا کہ آزادی کے 75 ویں سال کے موقع پر ریاست کی جیلوں میں قید 75 قیدیوں کو آزاد کرنے کا انہوں نے حکم دیا گیا ہے۔چیف منسٹر نے کہاکہ یتیم بچوں کو اسٹریٹ چلڈرنس قرار دیا جائے گا اور ریاستی سب کمیٹی نے بھی اس کی سفارش کی ہے۔ریاست کے یتیم خانوں کی حکومت سرپرستی کرے گی اور یتیم خانوں کے بچوں کو بھی کے جی تا پی جی مفت تعلیم فراہم کی جائے گی اور انہیں ملازمتوں میں تحفظات بھی دئیے جائیں گے۔چیف منسٹر نے سوال کیا کہ کیا یہ سب اقدامات مرکزی حکومت کی نظر میں مفت قرار پائیں گے؟