مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف دہلی میں احتجاج، کانگریسی قائدین کی گرفتاری
راہول گاندھی،پرینکا گاندھی،65 ارکان پارلیمان اور دیگر قائدین 6 گھنٹے بعد رہاء
پرینکا گاندھی کوگھسیٹ کر لے جانے پر اپوزیشن جماعتوں کی تنقید،ویڈیوز وائرل
نئی دہلی: 05۔اگست(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
ملک میں بڑھتی مہنگائی،بے روزگاری اور جی ایس ٹی کے لزوم کے خلاف کانگریس پارٹی کے دہلی ہیڈکوارٹر کے باہر زبردست احتجاج کے دؤران سابق صدر کل ہند کانگریس کمیٹی و رکن پارلیمان راہول گاندھی اورجنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا سمیت کئی کانگریس لیڈروں کو آج دوپہر دہلی پولیس کی جانب سے حراست میں لیا گیاتھا۔جنہیں 6 گھنٹے بعد آج شام 7 بجے رہا کر دیا گیا۔
سیاہ کپڑے پہن کر کیے گئے اس احتجاج کے دؤران راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی سمیت 65 ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ دیگرکانگریسی قائدین کوتحویل میں لے کر پولیس نے بسوں کے ذریعہ دہلی کے کنگس وے کیمپ منتقل کرکے حراست میں رکھا تھا۔
اس دؤران پولیس کی جانب سے پرینکا گاندھی کوگھسیٹ کرپولیس وین میں لےجانے والا ویڈیو اور دیگر ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے ہیں، اپوزیشن جماعتوں نے پولیس کی اس کارروائی کی مذمت کی ہے۔
وہیں کانگریس پارٹی کی جانب سے سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر راہول گاندھی اور کانگریس کے دیگر قائدین کو پولیس کی جانب سے بس کے ذریعہ منتقل کرنے والا ویڈیو شیئر کیا گیا ہے۔جس کے پس منظر میں حب الوطنی پرمشتمل منوج کمار کی فلم شہید کا ایک گیت سنائی دے رہا ہے جسے محمد رفیع نے آواز دی تھی اور اس گیت کو پریم دھون نے لکھا تھا جس کے بول ہیں؎
ائے وطن،ائے وطن ہم کو تیری قسم
تیری راہوں میں جاں تک لٹا جائیں گے
پھول کیا چیز ہے،تیرے قدموں پہ ہم
بھینٹ اپنے سروں کی چڑھا جائیں گے
سوشل میڈیا پر یہ ویڈیو بہت زیادہ وائرل ہوا ہے۔اس ویڈیو کی ایک اورخصوصیت یہ بھی ہےکہ یہ ویڈیو اس وقت لیاگیا ہے جب تحویل میں لیے گئے راہول گاندھی اور دیگر پرمشتمل بس دہلی کے انڈیا گیٹ کے سامنے سے گزر رہی تھی۔اس ویڈیو میں وہ منظر دیکھا جاسکتا ہے۔
کانگریس کی جانب سے اس احتجاج کا اعلان کئی دن پہلے کیا گیا تھا۔تاہم پولیس نے اس کی اجازت دینے سے انکارکر دیا تھا اور مقامی انتظامیہ نے پارٹی ہیڈکوارٹر پر لوگوں کے جمع ہونے پر بھی پابندی لگا دی تھی۔ان پابندیوں کی خلاف ورزی کا حوالہ دیتے ہوئے کانگریسی رہنماؤں کو پولیس کی جانب سے حراست میں لے لیا گیا۔
احتجاج سے قبل راہول گاندھی نے کہا کہ”ہم جمہوریت کی موت کا مشاہدہ کررہے ہیں”۔انہوں نے کہاکہ”زائد از یک صدی قبل ہندوستان نے جن چیزوں کوایک ایک اینٹ جمع کرکے تیار کیا تھا،وہ آپ کی آنکھوں کے سامنے تباہ ہو رہی ہیں۔انہوں نے کہاکہ مخالفت پر وحشیانہ حملہ کیا جاتا ہے،جیلوں میں ڈالا جاتا ہے،گرفتار کیا جاتا ہے اور مارا پیٹا جاتا ہے”۔
قبل ازیں دن میں کانگریس پارٹی سربراہ سونیا گاندھی کی قیادت میں کانگریس کے ارکان پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ میں سیاہ کپڑے پہن رکھے تھے۔ جس کی کارروائی ملتوی کر دی گئی کیونکہ کانگریس کے ارکان نے حکومت کی جانب سے تحقیقاتی ایجنسیوں کے مبینہ غلط استعمال پر ہنگامہ کھڑا کر دیاتھا۔اس کے بعد احتجاج کے ایک حصہ کے طور پرپارٹی کے ارکان پارلیمنٹ پارلیمنٹ سے”چلو راشٹرپتی بھون”تک مارچ منعقد کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ اور کانگریس ورکنگ کمیٹی کے ممبران، دیگر سینئر لیڈروں کے علاوہ،”پی ایم ہاؤس گھیراؤ” میں حصہ لینے کا منصوبہ بنایا۔یہ مارچ منعقد نہیں ہو سکے کیونکہ پولیس نے وسطی دہلی کے کئی حصوں میں رکاوٹیں کھڑی کر دی تھیں۔


