سہارنپور پولیس کی بربریت کے شکار 8 مسلم نوجوانوں کو
مقامی عدالت نے باعزت بری کردیا، پولیس کو لگائی پھٹکار
سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے باؤجود پولیس نے کیا تھا انکار
لکھنئو/سہارنپور:05۔جولائی (سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
اترپردیش کے سہارنپور کی ایک مقامی عدالت نے 8 نوجوانوں کو تمام الزامات سے باعزت بری کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا سہارنپور پولیس کوحکم دیاہے۔اس معاملہ میں عدالت نے پولیس کو سخت پھٹکار بھی لگائی ہے۔ان نوجوانوں پر 10 جون کے احتجاج میں حصہ لینے کا الزام تھا اور انہیں 77 دیگر افراد کے ساتھ جیل بھیج دیا گیا تھا۔
” عدالت کے حکم کے بعد این ڈی ٹی وی کے سوربھ شکلا کی چار منٹ کی یہ رپورٹ ضرور دیکھیں "
بی جے پی کی سابق ترجمان نوپورشرما کی جانب سے انگریزی نیوز چینل ٹائمز ناؤ پر بحث کے دوران پیغمبر اسلامؐ کی شان میں گستاخی اور اشتعال انگیز تبصرے کرنےکے بعد ملک کے کونے کونے میں مسلمانوں نے احتجاج کیا تھا۔
10 جون کو اترپردیش کے سہارنپور میں بھی نماز جمعہ کے بعدمسلمانوں نے پرامن احتجاج کیا اور کوئی تشدد پیش نہیں آیا تھا۔لیکن یوگی کی بہادر پولیس نے جملہ 85 مسلمانوں کو گرفتار کرتے ہوئے تین مقدمات درج کیے تھے۔
سہارنپور کے ضلع مجسٹریٹ اکھلیش سنگھ نے احتجاج میں ان کی موجودگی کا کوئی ثبوت نہ ملنے کے بعد کل پیرکو 8 ملزموں کو رہا کرنے کا حکم صادر کیا۔پولیس ان ملزموں کے خلاف عدالت میں کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکی جس سے ان کی رہائی کی راہ ہموار ہوگئی۔عدالت کے ذریعہ باعزت طور پر رہا ہونے والوں میں محمدعلی بھی شامل ہے جن کا ایک بازو پولیس کی اس بربریت میں ٹوٹ گیاتھا۔
یاد رہے کہ یہ وہی نوجوان ہیں جن کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد سہارنپور پولیس پر شدیدتنقید کی گئی تھی۔اس ویڈیو میں دیکھا گیا تھا کہ چندمسلم نوجوانوں کو پولیس کی جانب سے لاٹھیوں کے ذریعہ جانوروں سےبھی بدتر طریقہ سے بےتحاشہ پیٹا جارہاہے۔اور یہ نوجوان چلا رہے ہیں۔ اس پر طرفہ تماشہ یہ کہ پولیس کی جانب سے اس حیوانیت اور ظلم و بربریت پرمشتمل واقعہ کی باقاعدہ ویڈیوگرافی کرکے اسے سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز پر پھیلا دیا گیا تھا۔
جبکہ اقتدارکے نشہ میں دھت اتر پردیش کے "بی جے پی ایم ایل و ترجمان اے شلبھ منی ترپاٹھی”نے ٹوئٹر پر اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے عنوان لکھا تھا کہ” فسادیوں کے لیے واپسی کا تحفہ "۔

ٹوئٹر پر ایڈوکیٹ سومناتھ بھارتی اور دیگر اہم شخصیتوں کی جانب سے شدید تنقید کے بعد بی جے پی ایم اے ایل نے اپنے اس ویڈیو ٹوئٹ کو ڈیلیٹ کردیا تھا لیکن اس وقت تک یہ ویڈیو سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز پر ہزاروں کی تعداد میں وائرل ہوگیا تھا۔
جب سوشل میڈیا اور چند غیر جانبدار نیوز چینلوں بالخصوص”این ڈی ٹی وی” کی جانب سےپولیس کی اس بربریت پر سہارنپور کے ایس پی سے سوال پوچھا گیا تو انہوں نے صاف انکار کردیا تھا کہ”یہ ویڈیو سہارنپور کا نہیں ہے”۔
این ڈی ٹی وی کے صحافی”سوربھ شکلا”نے اسی دن ان نوجوانوں کی شناخت کرتے ہوئے ان کے افراد خاندان سے ملاقات کی تھی اور تمام نوجوانوں کی شناخت کے ساتھ تصدیق کی تھی کہ یہ ویڈیو سہارنپور کا ہی ہے۔آخر کاراس ویڈیو کی تحقیقات کا حکم دیاگیا۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ (سٹی) راجیش کمار نے کہا کہ اس ویڈیو کی تحقیقات جاری ہیں۔
بالخصوص اتر ردیش میں یوگی آدتیہ ناتھ کی بی جے پی حکومت مظاہرین کے خلاف مبینہ ماورائے عدالت کارروائیوں پر شدید تنقید کی زد میں ہے۔
پولیس کی برہنہ بربریت پرمشتمل اس ویڈیو کوسوشل میڈیا پر کئی اہم شخصیتوں کی جانب سے ٹوئٹ کرتے ہوئےسوال اٹھایاگیاتھاکہ اگریہ نوجوان واقعی تشدد میں ملوث ہیں تو انہیں سزا دینے کا حق صرف عدالتوں کو ہے پولیس کو نہیں!!
سہارنپور پولیس کی بربریت پرمشتمل اس ویڈیو کوری۔ٹوئٹ کرتے ہوئے نامورصحافی اجیت انجم نے لکھا تھاکہ”حراست میں پولیس کی بربریت براہ راست قانون کی خلاف ورزی ہے۔ملک کا قانون اور سپریم کورٹ کی ہدایت اس کی اجازت نہیں دیتا۔اس کے باوجود یہ سب کچھ ڈنکے کی چوٹ پر ہورہا ہے۔اور تھانے میں ویڈیو بنانے کے بعد اس کو جاری بھی کیا جارہا ہے”۔
جبکہ اسی ویڈیو کو مشہور وکیل پرشانت بھوشن نےبھی ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ”اگر ہمارے انسانی حقوق کے ادارے اور آئینی عدالتیں ہمارے پولیس افسران کی طرف سے حقوق اور قانون کی حکمرانی کی اس ڈھٹائی کی خلاف ورزی کا ازخود نوٹس نہیں لیتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ حکومت انہیں گودی اداروں تک پہنچانے میں کامیاب ہوگئی ہے”۔
وہیں اترپردیش کے ہی پریاگ راج (سابقہ الہ آباد) میں بھی گستاخ رسولﷺنوپور شرما کے خلاف منعقدہ احتجاج پرتشدد ہوگیا تھا جس کے بعد پریاگ راج کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) اجے کمار نے میڈیا کو بتایا تھاکہ اس تشدد کے ماسٹر مائنڈ جاویدمحمد جو کہ پریاگ راج کے پرانے شہر کے علاقے کریلی میں واقع جے کے آشیانہ کالونی کے رہنے والے ہیں اور انہیں تشددکے معاملے میں پہلے ہی گرفتار کیاجاچکا ہے۔انہوں نے کہا تھا کہ 29 اہم دفعات کےتحت مقدمات درج کیے گئے ہیں اور ان کے خلاف گینگسٹر ایکٹ اور این ایس اے NSA# (نیشنل سیکورٹی ایکٹ)کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

بالآخر اتوار 12 جون کو پولیس اور بلدی حکام نے سماجی کارکن جاویدمحمد اور ان کی دختر سماجی کارکن و اسٹوڈنٹ لیڈر آٖفرین فاطمہ کے مکان کوتمام جائز دستاویزات کی موجودگی کے باوجود غیر قانونی قرار دیتے ہوئے بلڈوزر سے زمین بوس کردیا گیا۔یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر دؤران ہے۔جبکہ یہ مکان جاویدمحمد کی نہیں بلکہ ان کی اہلیہ عطیہ فاطمہ کی ملکیت تھا۔
سہارنپور کے 8 بے گناہ مسلم نوجوانوں کو پیر کے دن مقامی عدالت کی جانب سے باعزت بری کردئیے جانے کے بعد اترپردیش حکومت اور خود کو قانون و عدلیہ سے اوپر سمجھنے کی غلطی کرنے والی پولیس کو پھر ایک مرتبہ منہ کی کھانی پڑگئی ہے!!
انجام ہے تباہی تکبر ہو یا غرور ہر شخص بن گیا ہے خدا، دیکھتے رہو

