منکی پاکس کوروناوائرس جیسا خطرناک نہیں،عوام پریشان نہ ہوں، ویکسین پہلے ہی سے موجودہے، 20ممالک میں وبا:ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن

منکی پاکس کورونا وائرس جیسا خطرناک نہیں
عوام پریشان نہ ہوں،ویکسین پہلے ہی سے موجود ہے
فی الوقت 20 ممالک میں وبا،ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا انکشاف

نئی دہلی:27۔مئی(سحرنیوزڈاٹ کام)

دو سال سے کورونا وبا سے پریشان دنیا اور پھر اس وباءکےختم ہونے کے دؤران دنیا کے مختلف ممالک میں تیزی کے ساتھ پھیل رہی "منکی پاکس کی وباء”Monkeypox#” پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے آج”ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن WHO"نے چند رہنمایانہ خطوط جاری کیے ہیں۔اور یہ اطلاع دی ہے کہ”منکی پاکس وائرس”،” کورونا وائرس” جیسا خطرناک نہیں ہے۔

ساتھ ہی ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے کہا ہے کہ فی الحال دنیا کے 20 ممالک میں منکی پاکس کی وباءپھیلی ہوئی ہے۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نےاس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ منکی پاکس وباء پہلی مرتبہ مغربی و وسطی افریقہ سے نکل کر دیگر ممالک تک پہنچ گئی ہے اور اس کی نشاندہی کی جارہی ہے۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے بتایا کہ 9 افریقی ممالک میں منکی پاکس کی وباء پھیلی ہوئی ہے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے کہا ہےکہ فوری طور پر اس وباء کی نشاندہی ہوجائے تو اس کا روکنا ناممکن نہیں ہے اور کوئی زیادہ پریشانی بھی نہیں ہوگی اور موثر اقدامات اور بہتر علاج کے ذریعہ اس وباء پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے کہاہے کہ”جب کوروناوائرس کا آغاز ہوا تھا اس وقت اس کے علاج کے ذرائع اور ویکسین کسی کو بھی معلوم نہیں تھے،جس کی وجہ سے دنیا بھر میں کئی لوگ اس کا شکار ہوگئے،لیکن منکی پاس کی وبا کا معاملہ ایسا نہیں ہے،کیونکہ اس کا علاج (ویکسین) پہلے ہی سے موجودہے۔اور اس منکی پاکس وائرس کے متاثرہ افراد کو ٹیکے دئیے جائیں تو وہ دو تا چار ہفتوں میں صحتمند ہوسکتے ہیں "۔(ماہرین طب کے مطابق اس کے لیے چیچک سے بچاؤ کی ویکسین موثر ثابت ہوتی ہے)

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے کہا کہ فی الوقت متاثرہ افراد اور ان کے قریبی رابطہ میں آنے والےافراد کے علاج کے لیے ٹیکے موجود ہیں۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کےمطابق منکی پاکس کو روکنے کے لیے کون کونسے ملک کے پاس کتنی مقدار میں ٹیکے موجود ہیں اس کا ریکارڈ دستیاب نہیں ہے۔

دوسری جانب 9 افریقی ممالک کے بشمول امریکہ اور آسٹریلیا سمیت کئی ممالک میں منکی پاکس کےمتاثرین پائے گئے ہیں۔ تاہم ہندوستان میں اب تک ایک بھی منکی پاکس وائرس کا کیس سامنے نہیں آیا ہے۔اور نہ ہی ملک میں منکی پاکس کا کوئی مشتبہ کیس ریکارڈ ہواہے۔تاہم اندیشے پائے جاتے ہیں!!

پاکستانی میڈیا ادارہ جیو نیوز نے یوروپی یونین کے”سینٹر فار ڈیزیز پریونٹیشن اینڈ کنٹرول(ای سی ڈی سی)کےحوالے سےاطلاع دی ہےکہ اب تک مختلف ممالک میں منکی پاکس کے 219 کیسز کی تصدیق ہوچکی ہے۔اب تک سب سے زیادہ کیسز برطانیہ میں سامنے آئے ہیں جن کی تعداد 71ہے۔جس کے بعد اسپین51 اور پرتگال 37 کے ساتھ بالترتیب دوسرے اور تیسرےنمبر پر ہیں۔

جیونیوز پاکستان کی رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر برطانیہ،آسٹریا،اٹلی،بیلجیم،فرانس،جرمنی،پرتگال،سلوانیا،اسپین،سوئیڈن،نیدرلینڈز،ڈنمارک، چیک ریپبلک،سوئٹزرلینڈ،ناروے،اسرائیل،آسٹریلیا،ارجنٹائنا، ویلز اور متحدہ عرب امارات میں منکی پاکس کے کم از کم ایک ایک کیس کی  تصدیق ہوئی ہے۔

۔۔۔۔ 

منکی پاکس وباء Monkeypox# کی علامات اور مکمل تفصیلات” جیونیوز ” کی اس ویب سائٹ پر پڑھی جاسکتی ہیں۔”  https://urdu.geo.tv/latest/286844