آندھرا پردیش کے املاپورم میں پرتشدد احتجاج
ضلع کے نام کی تبدیلی کے خلاف تشدد،ریاستی وزیر کا مکان آگ کی نذر
رکن اسمبلی کا مکان بھی نشانہ،متعدد پولیس ملازمین زخمی،بسیں بھی نذرآتش
وجئے واڑہ/حیدرآباد: 24۔مئی
(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
ریاست آندھراپردیش کے کوناسیما ضلع کے نام کی تبدیلی کے فیصلہ کے خلاف کیا جارہا احتجاج آج تشدد میں تبدیل ہوگیا۔ہجوم اس کی مخالفت کرتے ہوئےسڑکوں پر آگیا۔جس کے بعد املاپورم میں امن و امان کی حالت بری طرح بگڑگئی۔جہاں احتجاجیوں نےایک ریاستی وزیرکے اور رکن اسمبلی کے مکان کو نذرآتش کردیا۔دو خانگی بسیں جلائی گئیں اور تین آر ٹی سی بسوں کو نقصان پہنچایا گیا۔اس تشدد کے دؤران پتھراؤ سے ضلع ایس پی کے بشمول 20 سے زیادہ پولیس ملازمین اور کئی احتجاجی بھی زخمی ہوگئے۔
اس پرتشدد احتجاج کی وجہ بتائی جارہی ہے کہ13 اضلاع پرمشتمل جدید ریاست آندھراپردیش کو حکومت نے مزید 13 جدید اضلاع کی تشکیل عمل میں لاتے ہوئے 26 اضلاع پرمشتمل ریاست بنانے کا فیصلہ کیا۔
جدید اضلاع کی تشکیل سے قبل حکومت نے اس سلسلہ میں 7 مارچ تک عوامی صلاح اور اعتراضات طلب کیا تھا۔جدیدمنڈلات کے قیام،ڈویثرنس کی تبدیلی اور اور ناموں کی صلاح اور اعتراضات پرمشتمل جملہ 12,600 درخواستیں حکومت کو موصول ہوئی تھیں۔جن پر حکومت نے غور و خوص کیا تھا۔
معمولی تبدیلیوں کے ساتھ حکومت نے 13 جدید اضلاع کی تشکیل عمل میں لائی،اسی دؤران مشرقی گوداوری ضلع کا حصہ رہنے والےاسمبلی حلقہ املاپورم کو ایک جدید ضلع کی حیثیت سے وجود میں لایا گیا اور حکومت نے اس کو "کونا سیما” کے نام سے منسوب کردیا۔
تاہم اس دؤران چونکہ اس ضلع میں ایس سی طبقہ کی تعداد زیادہ ہے تو مطالبہ کیا گیا تھا کہ اسے کونا سیما کے بجائے "امبیڈکر ضلع” کا نام دیا جائے۔تاہم ایس سی طبقہ کے اس مطالبہ کو نظرانداز کیا گیا۔جس کے بعد "امبیڈکر ضلع سادھنا سمیتی”تشکیل دیتے ہوئے احتجاج کا آغاز کیا گیا۔جن کا مطالبہ تھا کہ جن اضلاع کو مرحوم قائدین کے نام سے موسوم کیا گیا ہے اسی طرح کونا سیما ضلع کو بھی امبیڈکر یا پھر بالا یوگی کا نام دیا جائے۔

حالات کو دیکھتے ہوئے حکومت آندھراپردیش نے کونا سیما ضلع کو "ڈاکٹر امبیڈکر کونا سیما ضلع” کا نام دینے کا فیصلہ کیا۔جس کی تائید بھی کی گئی تھی۔
تاہم حکومت کے اس فیصلہ کی چند طبقاتی قائدین اور ان کی تائیدی تنظیموں نے مخالفت کرتے ہوئے احتجاج شروع کردیا،کئی مقامات پر تشدد برپا کیا گیا۔امبیڈکر کونا سیماضلع کی مخالفت کرتے ہوئے توڑ پھوڑ اور حملے بھی کیے گئے۔اس ضلع کے نام کی تائید میں اور مخالفت میں احتجاج شروع کردئیے گئے۔
تائید و مخالف میں ریالیاں منظم کی گئیں اور یہ احتجاج تشدد میں تبدیل ہوگیا۔جسے محکمہ پولیس نے سختی کے ساتھ دبانے کی کوشش کی اور ضلع میں دفعہ 144 نافذ کردیا گیا۔
اسی دؤران املا پورم ضلع کو کونا سیما کا ہی نام دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے "کونا سیما سادھنا سمیتی” کا احتجاج انتہائی طور پر متشدد ہوگیا۔احتجاجیوں نے آج املا پورم کے ایس پی سباریڈی پر پتھراؤ کیا۔جس سے ان کا سر شدید زخمی ہوگیا۔اس پتھراؤ میں ایس پی کے ساتھ 20 سے زائد پولیس عہدیدار اور ملازمین بھی زخمی ہوگئے۔جبکہ املاپورم کے ڈی ایس پی بیہوش ہوکر گرپڑے۔
ان احتجاجیوں نے تشدد برپا کرتے ہوئے تین آر ٹی سی بسوں کو تباہ کردیا اور دو خانگی بسوں کو آگ لگادی۔
ضلع کے نام کی تبدیلی کے خلاف احتجاجیوں نے ریاستی وزیر ٹرانسپورٹ و آئی اینڈ پی آر پی۔وشواروپ کے مکان پر حملہ کرتے ہوئے اسے آگ کی نذر کردیا گیا۔بعد ازاں پرتشدد احتجاجیوں نے رکن اسمبلی ستیش کے مکان پر بھی حملہ کرتے ہوئے توڑ پھوڑ کی اور پھر ان کے مکان کو بھی نذرآتش کردیا۔پولیس نے احتجاجیوں کو فائرنگ کی وارننگ دیتے ہوئے کئی راؤنڈ ہوائی فائرنگ کی۔

