کچھ تو لوگ کہیں گے،لوگوں کا کام ہے کہنا
حجاب پہننے والوں کی اپنی پسند ہے،مجھے ایسے کپڑے پہننا پسند ہے
ورلڈ باکسنگ چمپئن نکہت زرین کا اظہارِخیال
نئی دہلی:24۔مئی(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
ورلڈ باکسنگ چمپئن نکہت زرین نےاسکولوں اور کالجوں میں مسلم لڑکیوں کے حجاب پہننے پر اٹھنے والے تنازعہ پرکہا ہے کہ کسی کا لباس مکمل طور پر ان کی پسند کا موضوع ہوتا ہے اور یہ ان کی اپنی پسند ہوتی ہے۔
این ڈی ٹی وی سے خصوصی بات چیت میں نکہت زرین نے کہا کہ”حجاب پہننا مکمل طور پر ان کا اپنا انتخاب ہے۔میں ان کے انتخاب پر تبصرہ نہیں کرسکتی۔اور یہ میرا اپنا انتخاب ہےمجھے ایسے کپڑے پہننا پسند ہے۔مجھے ایسے کپڑے پہننے میں کوئی اعتراض نہیں۔اورمیرے گھروالوں کو بھی میرے ایسے کپڑے پہننے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔لہذا مجھے پرواہ نہیں ہے کہ لوگ میرے بارے میں کیا کہتے ہیں”۔
نکہت زرین نے کہا کہ اگر وہ حجاب پہننا چاہتے ہیں اور اپنے مذہب کی پیروی کرنا چاہتے ہیں تو یہ ان کا اپنا ذاتی انتخاب ہے۔مجھے ان کے حجاب پہننے سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔کیونکہ آخر یہ ان کی اپنی مرضی ہے۔میں اس کے ساتھ ٹھیک ہوں۔
ساتھ ہی نکہت زرین نے این ڈی ٹی وی سے بات کرتے ہوئےکہاکہ لوگ ان کے متعلق کیا کہتے ہیں انہیں کوئی غرض نہیں ہے کیونکہ” کچھ تو لوگ کہیں گے،لوگوں کا کام ہے کہنا”۔
نکہت زرین نے کہا کہ ان کا اگلا نشانہ اولمپک میڈل حاصل کرنا ہے اور وہ اسی پر توجہ دیں گی۔کیونکہ”اگر میں ان پر دھیان دوں گی تو پھر اپنی باکسنگ پر دھیان نہیں دے پاؤں گی”۔
یاد رہے کہ ریاست کرناٹک میں مسلم طالبات کے حجاب پہننے پر دائیں بازو کی چند بھگوا تنظیموں کے احتجاج کے بعدحکومت نے جی او جاری کرتےہوئے ریاست کے تمام سرکاری اور خانگی اسکولوں اور کالجوں میں ڈریس کوڈ نافذ کرتے ہوئے حجاب یا کسی بھی مذہبی ڈریس کے پہننے پر پابندی عائد کردی تھی۔

کرناٹک حکومت کے اس حکم کو مسلم طالبات کی جانب سے کرناٹک ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا۔جہاں طویل سماعت کے بعد کرناٹک ہائی کورٹ نے مارچ میں اس پابندی کو برقرار رکھتے ہوئے یہ فیصلہ دیا کہ حجاب ایک لازمی مذہبی عمل نہیں ہے۔اس حکم کوسپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے جس کی سماعت ہونی ہے۔کرناٹک میں حجاب معاملہ کے بعد حلال گوشت کا مسئلہ اٹھایا گیا،پھرمندروں کے پاس مسلم دکانداروں کے خلاف مظاہرے کیے گئے۔

