کرناٹک میں حجاب کی مخالفت کرنے والی، پی ایس آئی گھوٹالہ کی اصل ملزمہ بی جے پی لیڈر دیویا ہاگرگی کو گرفتاری کے وقت حجاب ہی کام آیا

ہم نے بارش میں بھی جلتے ہوئے گھر دیکھے ہیں

کرناٹک میں حجاب کی مخالفت کرنے والی، پی ایس آئی گھوٹالہ کی اصل ملزمہ
بی جے پی لیڈر "دیویا ہاگرگی” کو گرفتاری کے وقت حجاب ہی کام آیا!!

بنگلورو: 01۔مئی (سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

کرناٹک پولیس کے شعبہء”کریمنل انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ” (سی آئی ڈی)نے جو کہ ریاست میں 545 پولیس سب انسپکٹرز کی بھرتی کے امتحانات میں گھپلے کی تحقیقات کررہی ہے نےجمعرات کی رات اس معاملہ کی اصل ملزمہ  بی جے پی لیڈر "دیویا ہاگرگی” کو گرفتار کرلیاہے اور اس معاملہ میں دیگر دو ملزمین سنندا اور ارچنا کو بھی مہاراشٹرا کے  پونے سے گرفتار کیا گیا ہے۔

دکن ہیرالڈ کی رپورٹ کے مطابق ان تینوں ملزمین کو گرفتار کرنے والی اس سی آئی ڈی پولیس ٹیم کی قیادت ایس پی راگھویندر ہیگڈے کررہے تھے۔سی آئی ڈی پولیس گرفتار شدگان کو گلبرگہ(کلبرگی)منتقل کررہی ہے۔یہ مبینہ بے ضابطگیاں دیویاکے زیرانتظام چلائے جانے والے جنیان جیوتی انگلش میڈیم اسکول میں ہوئی ہیں۔

اس گھپلے کے منظرعام پر آنے کے بعد گرفتار شدہ ملزمین دیویا ہاگرگی،سنندا اور ارچنا گزشتہ 18 دنوں سے مفرورتھیں۔پولیس سب انسپکٹرز کی بھرتی میں دھاندلیوں کی شکایت گلبرگہ کے چوک پولیس اسٹیشن میں درج ہوتے ہی دیویا ہاگرگی فرار ہوگئی تھیں۔

بتایا جاتاہے کہ سی آئی ڈی پولیس نے دیویا ہاگرگی اور اس کی دونوں ساتھیوں سنندا اور ارچنا کواس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ مہارشٹرا کے پونے کے ایک ریستوران میں کھانا کھا رہی تھیں۔کریمنل انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ(سی آئی ڈی) کے ذرائع سے دکن ہیرالڈ نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیاہے کہ پولیس نے اس معاملہ میں مہارشٹرا کےشولاپور سےتعلق رکھنے والے ایک تاجرسریش کو بھی دیویاہاگرگی،سنندا اور ارچنا کو پناہ دینے کے الزام میں گرفتار کیا ہے!!۔لیکن اس کی تصدیق نہیں ہوپائی ہے۔

بی جے پی سے تعلق رکھنے والی دیویا ہاگرگی کے متعلق مشہورہے کہ انہوں نے کرناٹک کے تعلیمی اداروں میں مسلم لڑکیوں اور ٹیچرس کے حجاب پہننے کی شدید مخالفت کی تھی اور نیوز چینلوں کے ڈیبیٹ میں وہ اکثر حجاب کے خلاف بولا کرتی تھیں۔

اس سلسلہ میں فیاکٹ چیکر آلٹ نیوز کے معاون فاؤنڈر محمد زبیر نے آج رات”دیویا ہاگرگی” کی ٹی وی ڈیبیٹ والی اور ان کی گرفتاری کے وقت میڈیا کے کیمروں سے بچنے کی غرض سے اپنے چہرے کو” حجاب "سے ڈھانپ لینے والی تصاویر ٹوئٹ کرتے ہوئےلکھا ہے کہ”بی جے پی لیڈر دیویا ہاگارگی جو پہلے حجاب کے خلاف بولی تھیں۔حجاب پہنے ہوئے نظر آئیں۔جب انہیں کرناٹک پولیس نےسب انسپکٹر بھرتی گھوٹالہ کے الزام میں پونے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ PSISCAM#”

اس موقع پر کسی شاعر کا یہ شعر بے ساختہ ذہن میں ابھرتا ہے کہ؎
اسے کہنا قسمت پر اتنا غرور اچھا نہیں ہوتا
ہم نے بارش میں بھی جلتے ہوئے گھر دیکھے ہیں