ایودھیا میں فساد کروانے کی سازش ناکام ،مساجد کے قریب شدید قابل اعتراض اشیا رکھ دی گئیں، سات گرفتار،چار فرار

ایودھیا میں فساد کروانے کی سازش ناکام!!
مساجد کے قریب شدید قابل اعتراض اشیا رکھ دی گئیں
سات گرفتار،چار فرار، پولیس کا پریس کانفرنس میں انکشاف
ایودھیا/اترپردیش :29۔اپریل

(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

چند فرقہ پرست جنونی طاقتیں اور ان کے پالتو بھیڑئیے ملک کی مختلف ریاستوں میں مختلف طریقوں سےمسلمانوں کے خلاف لگاتار اشتعال انگیزی،دھمکیوں اور قابل اعتراض حرکتوں و بیانات کے ذریعہ امن و امان کو درہم برہم کرنے میں مصروف ہیں۔

ہندوستانی مسلمان خوش تھے کہ دو سال کورونا وبا کے باعث ماند پڑنے والی ماہ رمضان کی رؤنقیں اس سال واپس ہوں گی اور وہ امن و سکون کےساتھ ماہ رمضان گزار پائیں گے۔لیکن ماہ رمضان کے آغاز کے ساتھ ہی 10 اپریل کو رام نومی کی شوبھا یاترا کے دؤران ملک کی پانچ ریاستوں میں اشتعال انگیزی اور پتھراؤ کے واقعات،پھر مدھیہ پردیش کے کھرگون میں حکومت کی جانب سے بلڈوزرس کے ذریعہ مکانات کا انہدام نے انہیں مایوس کردیا!

دوبارہ 16 اپریل کو ہنومان جینتی کی شوبھا یاترا کے موقع پر دہلی کے جہانگیرپوری علاقہ میں اشتعال انگیزی اور پتھراؤ کے بعد بلڈوزروں کے ذریعہ انہدامی کارروائی،دھرم سنسد کے نام پر مسلمانوں کی نسل کشی کی دھمکیاں،بجرنگ منی کی جانب سے مسلمانوں کی بیٹیوں اور بہوؤں کو مکانات سے نکال کر ان کی عصمت ریزی کی دھمکی،مہاراشٹرا اور کرناٹک سمیت دیگر ریاستوں میں لاؤڈ اسپیکر پر اذاں پر اعتراض اور اس کے خلاف ہنومان چالیسیہ پڑھنے جیسے کئی دلآزار اور دل شکن واقعات کے باؤجود صبر و سکون کے ساتھ اس سال مسلمانوں نے ماہ رمضان گزارا ہے۔

موجودہ حالات میں ضرورت بھی شدید ہے کہ مسلمان صبر کا دامن تھامیں رکھیں۔ہرگزمشتعل نہ ہوں،کیونکہ اس ملک کا ایک بہت بڑا انصاف اور امن پسند طبقہ ان کے ساتھ کھڑا ہے۔ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے ملک کا دستور اور ملک کی عدالتیں موجود ہیں۔وہیں بین الاقوامی سطح پر بھی میڈیا اور مختلف پلیٹ فارمز سے ان نفرت انگیز واقعات کے خلاف آواز اٹھائی جارہی ہے۔

اسی دؤران ایودھیا پولس نے جمعرات کو سات نوجوانوں کو گرفتار کرلیا ہے۔جنہوں نے اترپردیش کے ایودھیا میں فساد برپا کرنے کی ناپاک کوشش کی تھی۔ان تمام گرفتار شدگان پر ایودھیا کی کئی مساجد پر قابل اعتراض پوسٹر اور اشیاء پھینک کر شہر کے امن و امان کو خراب کرنے کا الزام ہے۔

گرفتار شدہ ملزمین کی شناخت مہیش کمارمشرا،پرتیوش سریواستو،نتن کمار،دیپک کمار گوڑ عرف گنجن،برجیش پانڈے، شتروگھن پرجاپتی اور ومل پانڈے کے طور پر کی گئی ہے۔اور ان تمام کا تعلق ایودھیا سے ہی ہے۔سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایودھیا) شیلیش کمار پانڈے نے میڈیا کو بتایا کہ اس واقعہ کی انجام دہی میں جملہ 11 افراد ملوث ہیں جن میں سے سات کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ چار دیگر فرار ہیں۔

سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایودھیا) شیلیش کمار پانڈے نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ مہیش کمار مشرا کی قیادت میں چار موٹر سائیکلوں پر سوار جملہ  آٹھ افراد نے مساجد کے باہر قابل اعتراض پوسٹر اور اشیاء رکھ دی گئیں تاکہ اس سے مسلمان مشتعل ہوں اور شہر میں فساد برپا ہو۔

(میڈیا کے ایک ذرائع کی اطلاع میں بتایا گیاہے کہ ان جنونیوں نے قرآن پاک کے مقدس اؤراق شریف اور خنزیر کاگوشت پھینکا تھا)۔!!

جس کا سی سی ٹی وی فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے۔جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ 27 اپریل کی نصف شب کے بعد 20-2 بجے یہ ناقابل برداشت حرکت کی گئی۔یہ ویڈیو جامع مسجد ٹاٹا سٹی کا بتایا جارہا ہے۔

پولیس نے مذکورہ اشیاء،ایک موبائل فون اور ان کی موٹرسیکلیں بھی اپنےقبضہ میں لے لی ہیں۔انہوں نے کہا چار مفرور ملزمین کو بھی جلد گرفتار کر لیا جائےگا۔ان کے خلاف گینگسٹرس ایکٹ اور نیشنل سیکورٹی ایکٹ(این ایس اے)کے تحت بھی کارروائی کی جائے گی۔ایس ایس پی ایودھیا نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران پتہ چلا کہ مہیش کمار مشرا اصل سازشی ہے اور اس نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر دہلی کے جہانگیر پوری میں حالیہ واقعہ کی مخالفت میں برجیش پانڈے کے گھر پر سازش رچی تھی۔

یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ چہارشنبہ کی رات ملزم سب سے پہلے بینی گنج تیراہہ پہنچے جہاں پولیس ریسپانس وہیکل (پی آر وی) کار کو دیکھنے کے بعد بینی گنج مسجد پر منصوبہ بندی کو عملی جامہ نہ پہنا سکے اور اس طرح وہ دوسری مساجد میں چلے گئے۔انہوں نے ایودھیا کی مسجد کشمیری محلہ،تاتشا مسجد،گھوسیانہ رام نگر مسجد،عیدگاہ سول لائن مسجد اور درگاہ جیل کے پیچھے گلاب شاہ درگاہ پر قابل اعتراض پوسٹر اور اشیاء پھینک دیں۔

پولیس نے میڈیا کو بتایا کہ ساتوں ملزمین کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 295 (کسی بھی طبقے کے مذہب کی توہین کرنے کے ارادے سے عبادت گاہوں کو نقصان پہنچانا یا ان کی بے حرمتی) اور 295-A (جان بوجھ کر اور بدنیتی پر مبنی حرکتیں،جن کا مقصد کسی بھی طبقے کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنا،مذہب یا مذہبی عقائد کی توہین کرنا)کے تحت کیس درج کرلیاگیا ہے۔

پولیس نے یہ بھی کہا کہ گرفتار کیے گئے سات ملزمین میں سے تین کا سابقہ مجرمانہ ریکارڈ ہے۔ایک پولیس افسر نے بتایا کہ ملزم مہیش مشرا کے خلاف کوتوالی پولس اسٹیشن ایودھیا میں چار مقدمات درج ہیں۔اس کے علاوہ ملزم نتن اور ومل کے خلاف بھی مقدمات درج ہیں۔

اس سلسلہ میں فیض آباد کے مسلمان اور محکمہ پولیس لائق ستائش ہیں کہ فوری اقدام کرتے ہوئے پولیس کو آگاہ کیا گیا اور پولیس نے بھی خاطیوں کے خلاف فوری کارروائی کو یقینی بنایا۔