تلنگانہ میں حال چال ٹھیک ہے،مرکز میں کچھ بیماری پھیلی ہوئی ہے
توڑ پھوڑ کرنا آسان لیکن کسی چیز کو تعمیر کرنا بہت مشکل ہوتا ہے
دعوتِ افطار کی سرکاری تقریب سے وزیراعلیٰ کے سی آر کا خطاب
حیدرآباد: 29۔اپریل(سحرنیوزڈاٹ کام)
وزیراعلیٰ تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ نے کہا ہے کہ ریاست تلنگانہ میں حال چال ٹھیک ہے،مرکزی حکومت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے ریمارک کیا کہ مرکز میں کچھ بیماری پھیلی ہوئی ہے اور اس کو ٹھیک کرنا ہے۔کیونکہ ہم بھی اس ملک حصہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک ٹھیک رہا تو ریاست بھی ٹھیک رہے گی۔وزیراعلیٰ آج شام حکومت تلنگانہ کی جانب سے حیدرآباد کے ایل بی اسٹیڈیم میں ترتیب دی گئی دعوت افطار سے خالص اردو زبان میں خطاب کرتے ہوئے یہ باتیں کہیں۔
اس دعوت افطار میں ریاستی وزیرداخلہ محمدمحمودعلی،وزرا تلسانی سرینواس یادو،ستیہ وتی راتھوڑ،کوپولاایشور،صدر کل ہندمجلس اتحادالمسلمین و رکن پارلیمان حیدرآباد بیرسٹر اسدالدین اویسی،امیرجماعت اسلامی ہند تلنگانہ مولانا حامدمحمدخان،مولاناسید قبول بادشاہ قادری شطاری،صدر مجلس علمائے دکن حیدرآباد،حافظ محمدعثمان سابق امام مکہ مسجد،جناب اے کےخان،آئی پی ایس(ریٹائرڈ) مشیرمحکمہ اقلیتی بہبود کے علاوہ، مذہبی رہنما،ارکان پارلیمان،ارکان قانون ساز کونسل،ارکان اسمبلی اور مختلف قائدین شریک تھے۔

اس دعوت افطار سے اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھرراؤ نے کہا کہ اگر مرکز کمزور ہے تو ہم بھی کمزور ہوجائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ملک کے شہری ہونے کی حیثیت سے ہماری ذمہ داری بھی ہے کہ کسی بھی وجہ سے اگر ملک بگڑ رہا ہے اور خصوصاً بدحالی پیدا کی جارہی ہے تو اس کو روکنا ہمارا فرض ہے اور ملک کو کسی بھی سطح خراب ہونے نہیں دینا ہے۔
وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھرراؤ نے کہا کہ اللہ اور بھگوان سب سے طاقتور اور گواہ ہوتے ہیں وہیں چند طاقتیں ماحول بگاڑنے اور گڑبڑ پیدا کرنے کا کام کرتی ہیں ان شا اللہ وہ کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ توڑ پھوڑ آسان ہے لیکن کسی چیز کو تعمیر کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔وزیراعلیٰ نے اپنےخطاب میں کہا کہ ملک کی سلیکون ویلی کی حیثیت رکھنے والےبنگلورو میں کس قسم کا زہر پھیلایا جارہا ہے ہم سب دیکھ رہے ہیں اور یہ ہرجگہ پورے ہندوستان میں ہورہا ہے جو کہ اچھی بات نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تلنگانہ ریاست کی تشکیل عمل میں آئی تھی اس وقت ہمارے پاس نہ پینے کا پانی تھا اور نہ کاشت کاری کے لیے کسانوں کو پانی دستیاب تھا اور نہ ہی تلنگانہ میں درکار بجلی دستیاب تھی۔اس وقت ہماری حالت بے حال تھی۔
لیکن اندرون 8 سال آپ تمام کے بھرپور تعاون سے ریاست کی ترقی ممکن ہوپائی ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ آج سارا ہندوستان کوئلہ کی قلت کے باعث بجلی کی قلت کی وجہ سے اندھیرے میں ہے۔لیکن ریاست تلنگانہ بنا کسی بجلی کی قلت کے جگمگارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں ریاست تلنگانہ واحد ایسی ریاست ہے جہاں 24 گھنٹے ہر شعبہ کو برقی سربراہ کی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہرمحاذ پر تلنگانہ نے قابل فخر کامیابی حاصل کی ہے۔اور یہی سب کچھ نہیں ہے ہمیں مزید ترقی کرنا ہے اور عوام کے معیار زندگی کو مزید بہتر بنانا ہے۔
وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھرراؤ اس دعوت افطار سے اپنے خطاب میں کہا کہ اقلیتی اقامتی اسکولس کے قیام کے معاملہ میں ریاست تلنگانہ پورے ملک میں ایک مثال ہے اور ضرورت ہے کہ ملک کی تمام ریاستوں میں بھی ایسے اقلیتی اقامتی اسکولس قائم کیے جائیں۔
انہوں کہا کہ 2014 میں ہماری فی کس آمدنی ایک لاکھ 24 ہزار روپئے تھی۔اور آج ہماری فی کس آمدنی دو لاکھ 78 ہزار روپئے ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ مرکزی حکومت ہماری جیسی کارکردگی نصف بھی نہیں کرپائی۔انہوں نے اپنے خطاب میں انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ کی مجموعی ریاستی پیداوار (جی ایس ڈی پی) ساڑھے 11 لاکھ کروڑ روپئے ہےاور کمزور مرکزی حکومت کی وجہ سے مجموعی ریاستی پیداوار کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس سے متعلق شعور پیدا کرنے میں مصروف ہیں اور ایک بڑا طبقہ اس کو سمجھ رہا ہے۔اور اس کے خلاف کھلے عام نکلنا ہوگا اور اس کی روک تھام کے لیے کمر کسنا ضروری ہے۔جس طرح ہم نے تلنگانہ حاصل کرتے ہوئے اس کو ترقی کی منزل تک پہنچایا اسی طریقہ سے ہندوستان کی طرف بھی نظر کریں گے اس میں کسی بھی شک و شبہ کی ضرورت نہیں ہے ہمیں بھی اچھا مقام حاصل ہوگا تاکہ ہم بھی ملک کے کام آسکیں۔
وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھرراؤ اس دعوت افطار کی تقریب سے اپنے خطاب میں کہا کہ بری طاقتیں ہمیشہ زمین پرموجود رہی ہیں اور ان بری طاقتوں کا تماشہ صرف چند دنوں کے لیے نظر آتا ہے۔لیکن تعمیری طاقتیں ہمیشہ کامیاب ہوتی ہیں۔انسانیت کبھی ختم نہیں ہوتی،انسانیت ہمیشہ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے پیار اور محبت والی زندگی حاصل کرتی ہے۔وزیراعلیٰ نے تلنگانہ کے علاوہ ملک کے تمام مسلمانوں کو عید الفطر کی پیشگی مبارکباد دیتے ہوئے اس شعر پر اپنا خطاب ختم کیا؎
فانوس بن کے جس کی حفاظت ہوا کرے
وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خدا کرے

