کسی روتے ہوئے بچے کو ہنسایا جائے
دہلی ایرپورٹ کی اسکیان مشین پر ایک ننھے بچے کے ساتھ
کھیل میں مصروف ایک سیکورٹی عہدیدار، 42 لاکھ افراد نے ویڈیو دیکھا
نئی دہلی:25۔اپریل(سحرنیوز/سوشل میڈیا ڈیسک)
بچے کس کو پسند نہیں ہوتے! بہت سے لوگوں کوکمسن اور چھوٹے بچوں سے بے پناہ اُنسیت ہوتی ہے چاہے وہ بچے اپنے ہوں یا پھر دوسروں کے۔بچوں کی معصومانہ اور بچکانہ حرکتیں،ان کے قہقہے اور کلکاریاں ہر کسی کو پسند ہوتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کے ساتھ کچھ وقت گزارنے سے ایسے افراد کو بہت فائدہ ہوتا ہے جو ڈپریشن/اسٹریس اور اینزائٹی سے پریشان رہتے ہیں!!۔
نامور شاعر ندافاضلی بچوں کے متعلق ایک شعر لکھ کر بہت زیادہ معتوب کردئیے گئے تھے!!۔ان کا وہ شعر تھا کہ ؎
گھر سے مسجد ہے بہت دُور چلو یوں کرلیں کسی روتے ہوئے بچے کو ہنسایا جائے
جسے مذہبی اور ادبی سطح پر علما،دانشواران اور ادبی شخصیتوں کی سخت مخالفت کا سامناکرنا پڑا تھا۔اس شعر پر اس وقت مذہبی اور ادبی حلقوں میں بہت لے دے ہوئی تھی۔حتیٰ کہ کئی مشاعروں میں انہیں گھیرا جاتا تھا کہ اس شعر کی وضاحت کریں۔
ندا فاضلی کے ہمعصرشاعرشکیل اعظمی نے اس شعر پر کہا تھا کہ”یہ شعر انسان دوستی کااستعارہ نہیں بلکہ محض ایک اہم اور بنیادی مذہبی فریضہ کی ادائیگی سے انکار کے لیے حیلہ تراشی ہے۔
اسی ندافاضلی نے بہتر دنیا کا استعارہ پیش کرتے ہوئے ایک اور شعر کہا تھا کہ؎
جتنی بُری سمجھی جاتی ہے اتنی بُری نہیں ہے دنیا بچوں کے اسکول میں شاید تم سے ملی نہیں ہے دنیا!
سب جانتے ہیں کہ ایرپورٹس پر بشمول کسٹمس کے عہدیداروں کے سیکورٹی عملہ کتنا چوکس اور متحرک رہتا ہے۔ایسے میں بھی زیادہ تر عہدیداروں کی نظر جب مسافرین کے ساتھ آنے والے بچوں پرپڑتی ہے تو ان کے چہروں پرمسکراہٹ دؤڑ جاتی ہے اور کچھ وقت کے لیے وہ اپنی صبرآزما ڈیوٹی کی تھکان کو بھی بھول جاتے ہیں۔
انسٹاگرام پر alexanderjohandabbelvenes@ کے اکاؤنٹ سے ایک خوبصورت ویڈیو پوسٹ کیا گیا ہے بتایا گیا ہے کہ یہ ویڈیو نئی دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایرپورٹ کاہے۔اور اسے بہت زیادہ پسند بھی کیا جارہا ہے۔حیرت انگیز بات یہاں یہ ہے کہ اس انسٹاگرام آئی ڈی کے صرف 786 فالوورس ہیں۔لیکن اس صرف دس سیکنڈ کے خوبصورت ویڈیو کو اب تک 42 لاکھ انسٹاگرام صارفین نے دیکھا ہے اور اس ویڈیو کو اب تک 1,56.704 انسٹاگرام صارفین نے لائیک کرتے ہوئے مختلف کمنٹس کیے ہیں۔
بتایا جاتا ہے کہ دہلی ایرپورٹ پرسیکورٹی چیکنگ کے موقع پر ایک ننھا معصوم بچہ دؤڑتا ہوا ڈیوٹی پرموجود سنٹرل انڈسٹریل سیکورٹی فورس (سی آئی ایس ایف) کے ایک عہدیدار کے پاس پہنچ گیا۔جسے دیکھ کرسیکورٹی عہدیدار بھی خوش ہوگئے۔انہوں نے اس ننھے بچے کو اٹھاکر کچھ دیر تک اس ننھے بچے کو اپنے ہاتھوں میں تھام کرسیکورٹی اسکیان مشین پر دؤڑاتے ہوئے اس بچہ کے چہرہ پر ہنسی اور قہقہوں کو بکھیردیا۔
https://www.instagram.com/reel/CcFx7D1lh-b/?utm_source=ig_web_copy_link

