راجستھان میں مندروں کا انہدام
حقائق کو چھپاکر جھوٹ کے ذریعہ نفرت پھیلانے والے
نیوز 18 کے اینکر امن چوپڑہ کے خلاف دو ایف آئی آر درج
جئے پور: 24۔اپریل(سحرنیوز ڈاٹ کام/ایجنسیز)
راجستھان کے آلورضلع کے راج گڑھ کے سرائے محلہ میں 18 اپریل کو بلڈوزرس کے ذریعہ تین منادر کو منہدم کیے جانے والے ویڈیوسوشل میڈیا پر وائرل ہوئے تھے۔اس سلسلہ میں بی جے پی اور زعفرانی تنظیموں نے کانگریس اور راجستھان کی کانگریس حکومت اور چیف منسٹر اشوک گہلوٹ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔اور ان منادر کے انہدام پر ہر طرف سے شدید تنقید کی جارہی تھی۔منہدمہ منادر میں 300 سالہ قدیم شیومندر بھی شامل تھا۔
اس سلسلہ میں نیوز 18 ہندی کا نفرتی نیوز ایڈیٹر و اینکر "امن چوپڑہ” جو کہ ہر معاملہ کو کھل کر ہندو۔مسلم مسئلہ سے جوڑ دیتا ہے اور مسلمانوں کے خلاف نہ صرف اپنے شو میں بلکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مذہبی منافرت پھیلانے میں ماہر بن گیا ہے۔نے اپنے شو میں کہا کہ ” جہانگیرپوری والا بدلہ،مہادیو پر حملہ” اس نے سوال اٹھایا کہ”کیا راجستھان کے الور میں مندر انہدام جہانگیرپوری کا”بدلہ” تھا؟”۔
باقاعدہ اپنے شو میں جہانگیرپوری کی انہدامی کارروائی اور راجستھان کے الور کی انہدامی کارروائی کے ویڈیوز دکھاتے ہوئے کہا کہ”دہلی کے جہانگیرپوری والی انہدامی کارروائی کے دؤران مسجد کے گیٹ پپر بلڈوزر اب دو دن بعد مندر پر حملہ”!۔مسجد کے سامنے بلڈوزر اور اب مندر پر بلڈوزر؟۔اس نفرتی نیوز اینکر نے بنا کسی تحقیق دو طبقات کے درمیان منافرت پھیلانے کا کام کیا۔اس سلسلہ میں اس نے ایک ٹوئٹ بھی کیا تھا بعدازاں ڈیلیٹ کردیا۔جبکہ راجستھان کے الور میں منادر کی انہدامی کارروائی کی اصل حقیقت کچھ اور ہی تھی(جس کی تفصیلات نیچے پیش کی جارہی ہیں)۔
امبانی گروپ کے نیوز 18 چینل کے اس امن و امان کو نقصان پہنچانے والے امن چوپڑہ کے خلاف کل سے باقاعدہ ٹوئٹر پر”امن چوپڑہ کو گرفتار کرو ArrestAmanChopra#” کا ہیش ٹیگ چل رہا ہے۔جس میں چیف منسٹر راجستھان اشوک گہلوٹ اور راجستھانی پولیس کو ٹیگ کرتے ہوئے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ امن چوپڑہ کو جھوٹی خبر دکھانے اور نفرت پھیلانے کے جرم میں گرفتار کیا جائے۔
بالآخر نیوز 18 کے ایڈیٹر و پروڈیوسر امن چوپڑہ کے خلاف آج 24 اپریل کو راجستھان کے اضلاع بندی اور ڈونگرپور میں 67،124A،120B،295,295A،153 کی دفعات کےتحت دو ایف آئی آر درج کرلی گئی ہیں۔
دراصل راجستھان کی انہدامی کارروائی کا ویڈیو ٹوئٹ کرتے ہوئے بی جے پی آئی ٹی سیل کے سربراہ امیت مالویہ نے کانگریس پرسخت حملہ کرتے ہوئےلکھا تھا کہ”کرولی اور جہانگیر پوری پر آنسو بہانا اور ہندوؤں کے عقیدے کو ٹھیس پہنچانا،یہ کانگریس کا سیکولرازم ہے”۔ایک اور ٹوئٹ میں امیت مالویہ نے الزام عائد کیا تھا کہ”18 اپریل کوانتظامیہ نے بغیر کوئی نوٹس جاری کیے راجستھان کے راج گڑھ قصبے میں 85 ہندوؤں کے پکے مکانات اور دکانوں پر بلڈوزر چلا دیا”۔
انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق اس کے بعد راجستھان کے وزیر پرتاپ سنگھ کھچاریاواس نے بی جے پی کے دعوے کو جھوٹ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ راج گڑھ اربن باڈیز بورڈ کے چیئرمین جو کہ بی جے پی کے رکن ہیں نے مندروں اور مکانات کو گرانے کی تجویز پیش کی تھی۔کھچاریاواس نے یہ اعلان بھی کیا کہ اگر کوئی قانونی رکاوٹیں نہ ہوں تو مندر کو دوبارہ تعمیر کیا جائے گا۔
"دینک بھاسکر ہندی” کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق میں الور کے راج گڑھ میں تین مندروں کے انہدام کولے کر تنازعہ اور سیاست تیز ہو گئی ہے۔
اس دوران جب دینک بھاسکر نے پورے معاملے کی حقیقت جاننے کی کوشش کی تو یہ بات سامنے آئی کہ جس بورڈ نے بلڈوزر چلانے کی منظوری دی تھی اس میں 35 میں سے 32 کونسلرز بی جے پی کے ہیں۔دراصل ماسٹر پلان اور گورو پاتھ کے نام پر 17 اپریل کو گھروں اور 3 مندروں پر بلڈوزر چلا دیا گیا۔جمعہ کو معاملہ سامنے آنے کے بعدبی جے پی اور کانگریس دونوں ایک دوسرے پر مذہبی جذبات بھڑکانے کا الزام لگا رہے ہیں،جب کہ حقیقت کچھ اور ہے۔
دینک بھاسکر نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ لوگ ناراض تھے کہ 300 سال پرانے مندر کیوں گرائے گئے؟معاملے کی تحقیقات کے بعد چونکا دینے والے حقائق سامنے آئے۔غیرمجاز قبضہ جات کو ہٹانے کی منصوبہ بندی 7 ماہ سے جاری تھی۔ماسٹر پلان اور گورو پاتھ کی راہ میں کئی گھر اور تین مندر آ رہے تھے۔راج گڑھ کے ایم ایل اے جوہری لال مینا نے کہا کہ اس کے لیے بی جے پی ہی ذمہ دار ہے۔
راج گڑھ کے ایم ایل اے جوہری لال مینا کا کہنا ہے کہ بی جے پی کونسلر اور چیئرمین کے حکم پر مندر اور قبضہ جات کومسمار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کی ذمہ دار صرف انتظامیہ اور بلدیہ ہے۔
اس سلسلہ میں 22 اپریل کو صدر کل ہند مجلس اتحادالمسلمین و رکن پارلیمان حیدرآباد بیرسٹر اسد الدین اویسی نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ”بی جے پی کے زیر اقتدار میونسپلٹی بورڈ کا راج گڑھ،راجستھان میں ایک قدیم مندر کو منہدم کرنے کا قابل مذمت فیصلہ۔ہم تمام مذاہب کے لیے مذہبی آزادی پر یقین رکھتے ہیں۔اور یہ ایک سنگین خلاف ورزی ہے۔امید ہے کہ بی جے پی-آر ایس ایس تمام عبادت گاہوں پر اپنے حملوں کے لیے معافی مانگے گی”۔

