نوئیڈہ : رات میں لاؤڈ اسپیکر پر جاگرن، اعتراض پر سینئر صحافی سوربھ شرما پرحملہ، ان کی بیوی کے ساتھ بدسلوکی ،صحافی نے بھاگ کر جان بچائی

لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں
یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے؟

رات میں لاؤڈ اسپیکر پر جاگرن کے نام پر شورشرابہ پر اعتراض کے بعد
نیوز 18 کے سینئر صحافی سوربھ شرما پر حملہ،ان کی بیوی کے ساتھ بدسلوکی
زعفرانی جھنڈ نے پاکستانی قرار دیا،صحافی نے بھاگ کر اپنی جان بچائی

نئی دہلی:13۔اپریل(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

گزشتہ چند سال سے ملک میں جو میڈیا کی حالت بن گئی ہے وہ کسی سے بھی ڈھکی چھپی نہیں ہے۔صحافت کے نام پر اس میڈیا نے صرف ہندو اورمسلمان کے درمیان نفرت کے بیج بوئے ہیں اور بڑی ہی ایمانداری کے ساتھ اس نفرت کے پودوں کی آبیاری بھی کی ہے۔چند ایک نیوز چینل کو چھوڑ کر دیگر تمام نیوز چینلوں کے متعلق اگر یہ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا انہوں نے باقاعدہ ملک میں نفرت کو عام کرنے کے لیے "سپاری” لے رکھی ہے!

آنے والا مؤرخ جب اس ملک کی تاریخ لکھے گا تو یہ بھی لکھے گا کہ جب سارا ملک اور اس ملک کی اقلیتیں کورو ناوائرس کے خوف واندیشات سے پریشان تھیں،غریب اقلیتیں لاک ڈاؤن کی وجہ سے جہاں روزی روٹی کیلئے بھی فکرمند تھیں۔ایسے میں اس ملک کے  ذلیل میڈیا کا ایک بڑا حصہ من گھڑت باتوں،جھوٹی افواہوں،بے بنیاد الزامات،بنے بنائے ویڈیوز کے ذریعہ اسے نفسیاتی طور پر مزید بے چین و بے یارو مددگار اور مجرم ہونے کا احساس دلانے،ملک اور دنیا کے سامنے اس کو سب سے بڑا ویلن بناکر اور ساتھ ہی برادران وطن کے دماغوں میں اقلیتوں کے خلاف نفرت کا زہر بھرنے،مسلمانوں کو اچھوت ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگارہا تھا۔اور وہ اس انسانیت دشمن مشن میں ایک حد تک کامیاب بھی ہوگیا!! آج جو ملک کے حالات ہیں یہ اس کی دلیل ہیں!کورونا وائرس پھیلانے کے نام پر تبلیغی جماعت کی آڑ میں جو کھیل کھیلا گیا وہ بھی مورخ ضرور لکھے گا۔
جبکہ تاریخ شاہد ہے کہ ہندوستان کے کئی شہروں اور ٹاؤنس میں کورونا وائرس کی پہلی اور دوسری وبا میں مرنے والے ہزاروں غیرمسلم بردران وطن کی آخری رسومات ادا کرتے ہوئے مسلمانوں نے ملک کو جتلادیا تھا کہ انہیں زندہ انسانوں کے ساتھ ساتھ مرنے والوں کے احترام اور ان کی مدد اسلامی تعلیمات کا ایک حصہ ہیں۔ان چیزوں کو بھی اس گودی میڈیا نے دکھانے سے احتراض ہی کیا کیوں کہ اس سے دونوں جانب ان کی جانب سے پھیلائی گئی نفرت کے کم یا ختم ہونے کا امکان تھا!۔
وہ تو بھلا ہو ملک کی چند ریاستوں کی ہائی کورٹس کا کہ ان کی جانب سے اس معاملہ میں پولیس اور انتظامیہ کو سخت لتاڑا گیا کہ وبا کو کسی ایک مذہب سے جوڑنا غلط ہے۔اور گرفتار کیے گئے تبلیغی جماعت کے ارکان کو رہائی دے دی گئی۔آج بھی اس میڈیا کا کوئی بھی چینل کھول کر دیکھ لیں کسی نہ کسی پرمسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بحث چل رہی ہوگی!۔
اس میڈیا کی حالت یہ ہے کہ ہندوستان کے عوام مہنگائی اوربیروزگاری سے پریشان ہیں۔لیکن یہ پاکستان میں بڑھتی مہنگائی پرگھنٹوں بات کرتے ہیں جبکہ ہم ہندوستانیوں کو اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا!
اپنے ملک میں حجاب پر پابندی کی مہم زوروں پرتھی،سلی ایپ Silli App# اور بلی ایپ Bulli App#کے ذریعہ چند ذہنی بیمار نوجوان ملک کی مسلم بہنوں،بیٹیوں اور ماؤں کو انٹرنیٹ پر ” ہراج "کرنے میں مصروف تھے۔تو اسی میڈیا کی وہ خاتون اینکرز اپنے منہ میں دہی جماکر بیٹھی تھیں جو چند دن قبل ہی افغانستان میں خواتین کے حقوق سلب کیے جانے پر آنسو بہارہے تھیں!!۔یہ خاتون نیوز اینکرز اس وقت بھی خاموش رہیں جب مہنت بجرنگ منی مسجد کے سامنے، پولیس کے سائے میں بیٹھ کر باقاعدہ لاؤڈ اسپیکر پر کہہ رہا تھا کہ” مسلمانوں کی بیٹیوں اور بہوؤؤں کا اغوا کرکے ان کی عصمت ریزی کی جائے گی۔!!”جبکہ یہ نیوز اینکر بعد میں اور عورت پہلے ہیں!!
گویا ملک کے حالات اور عوامی پریشانیوں کو دکھانا ان کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا۔بس وہی دیکھو جو ایک منظم ایجنڈہ کے تحت یہ اپنے ناظرین کو دکھانا چاہتے ہیں۔اور ہم بھی خوشی خوشی ماہانہ کیبل آپریٹرز کو رقم دے کر ان چینلس کو اہتمام کے ساتھ دیکھتے ہیں اور یوٹیوب سمیت تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پران کوسبسکرائب اور فالو کرتے ہوئے ان کو فائدہ پہنچاتے ہیں!!جبکہ لؤجہاد،زمین جہاد،تھوک جہاد،تعلیمی جہاد جیسی نفرت انگیز من گھڑت باتیں اسی گودی میڈیا کے ذہنی دیوالیہ پن کی اختراع ہیں!!
ان لوگوں کو اس وقت بھی شرم نہیں آئی جب شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کے دؤران ان کا بائیکاٹ کردیا گیا تھا اور ایک سال طویل کسانوں کے احتجاج کے دوران دہلی کی تینوں سرحدوں پر یا تو ان کا داخلہ ممنوع تھا یا وہ وہاں سے بھاگ نکلنے میں ہی اپنی عافیت سمجھتے تھے! 
ایسا نہیں ہے کہ ملک کے ہر نیوز چینل کا اینکر یا رپورٹر اسی ذہنیت کا حامل ہے یہ ان کی مجبوری ہے کہ وہ ملازمت پر ہوتے ہیں۔
ایسے ہی ایک سینیئر جرنلسٹ سوربھ شکلا کا گزشتہ تین دنوں سے سوشل میڈیا اور دیگر میڈیا اداروں میں رؤنگھٹے کھڑے کردینے والا ایک واقعہ زیر گشت ہے کہ کیسے انہیں ایک زعفرانی جھنڈ سے اپنی اور اپنی بیوی سمیت اپنے 6 سالہ بچہ کی جان بچانے کے لیے پولیس کی موجودگی میں ہی بھاگنا پڑا۔ورنہ یہ خاندان اس جھنڈ کے ہاتھوں موب لنچنگ کا شکار ہوجاتا!! 
اس واقعہ پر نامور صحافی ساکشی جوشی کا 2 منٹ کا ویڈیو دیکھیں "

سوشل میڈیا اور چند میڈیا اداروں کی اطلاعات کے مطابق” نیوز 18″ ہندی نیوزچینل (جو کہ امبانی گروپ کی ملکیت ہے)سے وابستہ سینئر صحافی سوربھ شرما جو نوئیڈہ ایکسٹینشن کی ایک سوسائٹی میں رہتے ہیں۔10 اپریل کو جاگراتا کے نام پر لاؤڈ اسپیکر پر جاری شور شرابہ کو رکوانے کی غرض سے 112 نمبر پر کال کرکے پولیس کو اطلاع دی۔

پولیس نے سوسائٹی میں پہنچ کر لاؤڈ اسپیکر بند کرنے کی ہدایت دی۔اور سوربھ شکلا کو بھیڑ کے سامنے ہی طلب کیا۔جس پر بھیڑ بھڑک گئی۔سوربھ شرما کے مطابق انہوں نے اس زعفرانی بھیڑ سے رات دیر گئے تک لاؤڈ اسپیکر بجانے کا اجازت نامہ طلب کیا!جس پر بھیڑ نے انہیں ملک دشمن،ہندو دشمن کہتے ہوئے پاکستانی قرار دیا اور انہیں جان سے مارنے کی دھمکی دی۔

سوربھ شرما کا کہنا ہے کہ وہاں موجود زعفرانی ٹولے اور ان کے حمایتیوں نے کہا کہ یہ پاکستانی ہے اسے یہیں ختم کردیتے ہیں!بھیڑ نے اسی دؤران ان پر حملہ کردیا اور سوربھ شرما کو وہاں سے بھاگنا پڑا۔جب وہ اپنے گھر پہنچے تو سوربھ شرما کی بیوی انکیتا شرما نے پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں کو اس واقعہ کی اطلاع دی۔پولیس کے عہدیدار جائے مقام پر سوربھ شرما اور ان کی بیوی انکیتا شرما کو بھی طلب کیا تو ان کے ساتھ بھی اس ہجوم نے سوربھ شرما کی بیوی انکیتا شرما کے ساتھ بھی ناقابل بیان بدتمیزی اور بدسلوکی کی۔

نامور صحافی اور فلمساز ونود کاپری کے اس ٹوئٹ پر سوربھ شرما کی بیوی انکیتا شرما کا کمنٹ پڑھا جاسکتا ہے۔

اپنے اس کمنٹ میں محترمہ انکیتا شرما نے لکھا ہے کہ” سر،سی سی ٹی وی فوٹیج نکلوائیے،ہجوم نظر آئے گا،میرے کو گھیرنے والے،معاملہ تو رات 12 بجے سے 3 بجے تک چلا تھا،تب تک کی سی سی ٹی وی فوٹیج کھنگالی جائے،دیکھا جائے کہ کیسے گھیرا گیا تھا؟کیسے مارنے کی کوشش کی گئی تھی”؟

اطلاعات کے مطابق پولیس اور آکسفورڈ اسکوائر کے آر ڈبلیو اے کے صدر کے ڈی سنگھ نے مداخلت کی اور لوگوں کو سمجھاتے ہوئے انکیتا کو شرما بچالیا۔ہجوم کے ہنگامے کے دوران انکیتا شرما نے مبینہ طور پر اپنے 6 سالہ بچہ کو ان لوگوں کے درمیان چھوڑ دیا اور تقریباً 45 منٹ تک بچہ اپنی ماں کے پاس جانے کے لیے روتا رہا۔!!

نیوز18 کے صحافی سوربھ شرما کی بیوی "انکیتا شرما” نے خود بھی ٹوئٹ کرکے اس واقعہ اور دھمکیوں کا احوال لکھا ہے۔

 

اس واقعہ کی تفصیلات Article19@ کے بیباک صحافی نوین کمار نے اپنے اس 9 منٹ کے ویڈیو میں تفصیلی طور پر بیان کیے ہیں۔ "

 

صحافی سوربھ شرما کے مطابق انہوں نے واقعہ کے فوراً بعد رات 12 بجے بسرخ پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی تھی۔لیکن اس کے باوجود پیر کو پولس مقدمہ درج کرنے میں تاخیر کرتی رہی۔پیر کے دن 3 بجے بسراکھ تھانے کے پولیس افسران سوسائٹی پہنچے اور سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کیے اور کہا کہ سینئرز سے بات کرنے کے بعد مقدمہ درج کیا جائے گا!!۔

اس دوران سوربھ شرما نے پولیس افسران سے کیس درج کرنے کی مسلسل التجا کی،لیکن انہوں نے منگل کو فیصلہ لینے کی بات کی۔اس دوران سوربھ شرما نے پولیس عہدیداروں سےدرخواست کی کہ ان کی بیوی اور 6 سالہ بچہ کی جان کوخطرہ ہے اور ملزمین کو پکڑا جائے۔

آزاد صحافیوں کی بڑی تعداد سوربھ شرما اور ان کی بیوی اور بچہ کی تائید میں اتر آئی ہے اور اس واقعہ کی شدید مذمت میں مصروف ہے اور سوشل میڈیا پر اس واقعہ کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے،خاطیوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔    

https://twitter.com/ShyamMeeraSingh/status/1513842545922510854

ایک نامور نیوز چینل کے اس سینئر صحافی سوربھ شرما،ان کی بیوی محترمہ انکیتا شرما اور بچہ کے ساتھ کی گئی یہ حرکت قابل مذمت ہے۔گودی میڈیا اپنے اس ساتھی کے ساتھ پیش آئے اس نازیبا اور خوفناک واقعہ کے باؤجود خاموش ہے! شاید انہی حالات کو محسوس کرتے ہوئے نامور شاعر راحت اندوری نے اپنے ایک شعر کے ذریعہ بہت پہلے کہا تھا۔جسے آج ہر نامورصحافی کہہ رہا ہے اور لکھ رہا ہےکہ؎
لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں
یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے؟

"راحت اندوری کی اس شہرہ آفاق غزل کا مکمل ویڈیو یہاں پیش ہے”