کرناٹک :مسلم ٹھیلہ بنڈی راں کے تربوز پھینک دینے والے شری رام سینا کے 8 شرپسندوں کے خلاف پولیس نے کیس درج کرلیا

کرناٹک میں مندر کے قریب مسلم ٹھیلہ بنڈی راں کے تربوز پھینک دئیے گئے
شری رام سینا کے 8 شرپسندوں کے خلاف پولیس نے کیس درج کرلیا
چیف منسٹر کرناٹک کی خاموشی پر سابق چیف منسٹر کمارا سوامی کی شدید تنقید
حملہ آوروں کو وحشی قرار دیتے ہوئے کشمیری دہشت گردوں سے تقابل کیا

بنگلورو: 09۔اپریل(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

دائیں بازو کے ہندو گروپ سری رام سینا کے چند شرپسندوں نے آج ہفتہ کی شام دھارواڑ ضلع کے نوگی کیری میں انجنیا مندر کے قریب چارسے زائد چھوٹے مسلم بیوپاریوں کی دکانات کو بند کروا دیا اور مسلمانوں کی دکانات میں فروخت کے لیے رکھی گئیں اشیا اورسامان کی توڑ پھوڑ کی۔

اس واقعہ سے متعلق سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ زعفرانی اسکارف پہنے ہوئے نوجوانوں کا ایک گروپ ایک تربوز فروش ٹھیلہ بنڈی راں کے ٹھیلے پر موجود تربوزسمیت ٹھیلہ کو سڑک پر پھینک کر توڑ پھوڑ کردی۔

 

ان بھگوا شرپسندوں کے اس گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کو خبردار کیا تھا کہ وہ منادر کے قریب اپنی دکانیں اور ٹھیلہ بنڈیاں نہ لگائیں۔کیوں کہ انہیں مندر کے قریب کہیں بھی کسی قسم کا کاروبار کرنے کی اجازت نہیں ہے۔تاہم ایک تربوز فروش نبی صاحب نے کہا کہ وہ ایسی کسی وارننگ سے واقف نہیں تھے۔

نیوز 9 کے مطابق متاثرہ مسلم ٹھیلہ راں نبی صاحب نے بتایا کہ وہ لوگ اچانک آئے اور مجھے تھپڑ مارنے لگے۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہاں دکان نہ لگانے کی وارننگ دی تھی لیکن مجھے اس کا علم نہیں تھا۔انہوں نے مجھے تربوز باندھنے کا وقت بھی نہیں دیا۔انہوں نے تمام تربوزوں کو تباہ کردیا جو میں نے خریدے تھے۔

نبی صاحب نے بتایا کہ مجھے 8000 روپے سے زیادہ کا نقصان ہوا۔میں یہاں 15 سال سے کاروبار کررہا ہوں اور کسی نے اب تک اس پر اعتراض نہیں کیا۔انہوں نے بتایا کہ وہ لوگ نعرے لگارہے تھے کہ ہندو افراد مسلمانوں سے کچھ نہ خریدیں۔

اس واقعہ کے بعد سری رام سینا کے شرپسندوں کی اس حرکت کی مذمت کیے بناء مندر کے پجاری نرسمہاراؤ دیسائی نے کہاکہ”مندر کمیٹی کی میٹنگ کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔”

دستیاب اطلاعات کے مطابق اس شرپسندانہ واقعہ اور غریب مسلم ٹھیلہ بنڈی راں کے تربوزوں کو سڑک پر پھینک کرتباہ کردئیے جانے کے واقعہ کے موقع پر پولیس وہاں موجود تھی لیکن شرپسندوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی!۔اطلاع ہے کہ اس واقعہ کے بعد 8 شرپسندوں کے خلاف پولیس نے کیس درج رجسٹر کرلیا ہے۔تاہم کسی بھی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔

اس واقعہ کے بعد سابق چیف منسٹر کرناٹک ڈی ایس کمارا سوامی نے ٹوئٹر پر ویڈیوز کے ساتھ متواتر کنڑا زبان میں 6 ٹوئٹس کرتےہوئے شدید مذمت کی ہے۔انہوں نے اپنے ٹوئٹس میں لکھا ہے کہ”کشمیر میں خونریزی کرنے والے دہشت گردوں اور امن اور ہم آہنگی کو برباد کرنے والے ان وحشیوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔

اپنے ٹوئٹ میں انہوں نے مزید لکھا ہے کہ”چاولوں پر کیچڑ اچھالنا اور زندگی کو آگ لگانے کا ایسا رجحان وحشیانہ ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کرناٹک کے یہ شریر لوگ پتھر کے زمانے میں لوٹ رہے ہیں”۔

سابق چیف منسٹر کمارا سوامی نے اپنے ایک اور ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ”حکومت کو چاہیے کہ وہ ان غریب بیوپاریوں اور مندرکے سربراہان کے ان بیانات کو سنجیدگی سے لے،جنہوں نے مجرموں کے اس گھناؤنے فعل پر تربوز کھوئے ہیں۔

سابق چیف منسٹر ڈی ایس کرناٹک کماراسوامی نے متاثرہ مسلم بیوپاری نبی صاحب کےبیان والے ویڈیوز بھی ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھاہے چاول اگانے والی مٹی کا کون سا مذہب ہے؟
کون سا مذہب زندگیوں میں آگ لگا رہا ہے؟
کون سا مذہب انسانیت کو دفن کررہا ہے؟
انہوں نے انسانیت کے مجسم سری رام چندر جی سے کون سا مذہب سیکھا ہے؟
کیا یہ وہ مثالی مذہب ہے جو انہوں نے سری انجنیا سے سیکھا تھا جو خدمت کو ایک مذہب کے طور پر مانتے تھے؟ 

ایک اور ٹوئٹ میں سابق چیف منسٹر کرناٹک ڈی ایس کمارا سوامی نے لکھا ہے کہ”مجھے شک ہے کہ ان سارے نفرتی واقعات کے لیے بی جے پی حکومت شجر کاری کررہی ہے!”چیف منسٹر بسواراج بومئی اپنا منہ بند رکھے ہوئے ہیں،جیسے کہ منہ کو مقفل کرلیا ہو اور یہ جتارہے ہیں کہ وہ شمال کے دوست ہیں”!!

اپنے ایک اور ٹوئٹ میں ڈی ایس کمارا سوامی نے لکھا ہے کہ”یہ کافی نہیں کہ ان بندروں نے باج کو چاٹ لیا،جس نے تربوز کو تباہ کر دیا۔اس کی شیطانی جبلت عسکریت پسندوں سے زیادہ نہیں ہے۔اس بدنام زمانہ بربادی کو سبق سکھانا چاہیے،حکومت فوری طور پر دہشت گردی کا مقدمہ درج کرے۔”

ایچ ڈی کمارا سوامی نے اپنے ایک اور ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ”دھارواڑ ضلع کی تاریخی مشہور نگیکیری سری انجنیا سوامی مندر کے سامنے راما بھکت ڈاکوؤں نے مسلمانوں کی دکانوں کو تباہ کر دیا اور تربوز کے پھلوں کو تباہ کر دیا جو انہوں نے بیچنے کے لیے رکھے تھے”۔