وزیر اعظم پاکستان عمران خان کلین بولڈ! اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں ناکام
تحریک عدم اعتماد کی رائے دہی میں شکست،حکومت اقتدار سے محروم
اسلام آباد: 10۔اپریل(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
پاکستان میں جاری سیاسی بحران بالآخر آج نصف شب کے بعد وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے خلاف پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد کی رائےدہی کے بعد اس وقت ختم ہوا جب وزیراعظم پاکستان عمران خان پاکستان کی قومی اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ کھو بیٹھے۔تحریک عدم اعتماد کی قرارداد کے حق میں 174 ووٹ اور مخالفت میں صفر ووٹ درج ہوا۔ایاز صادق نے پارلیمنٹ میں یہ اعلان کیا۔
اب عام انتخابات تک کام کرنے کے لیے نئے وزیراعظم کے انتخاب کے لیے قومی اسمبلی میں ووٹنگ ہوگی۔اسمبلی میں کسی بھی پارٹی کے اراکین اسمبلی کے ساتھ امیدواروں کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔وہیں خبررساں ادارہ اے این آئی نے ایک ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ "شہباز شریف پاکستان کے اگلے وزیراعظم بننے جا رہے ہیں” ۔
” جیئو نیوز ” کے مطابق تحریک انصاف پارٹی نے 25 جولائی 2018ء کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کی 149 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔عمران خان نے اتحادی جماعتوں مسلم لیگ (ق)،متحدہ قومی موومنٹ اور بلوچستان عوامی پارٹی سمیت دیگر آزاد ارکان کو شامل کرکے حکومت بنائی تھی۔
وزیراعظم عمران خان نے 18 اگست 2018ء کو وزارت عظمیٰ عہدے کا حلف لیا تھا اور آج 10 اپریل کو اُن کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوگئی۔جس کے بعد اُن کی وزارت عظمیٰ کا عہد اپنے اختتام کو پہنچا۔ہفتہ 18 اگست 2018ء کو شروع ہونے والا اُن کا 1332 دنوں پرمشتمل عہد وزارت عظمیٰ اتوار 10 اپریل 2022ء کو تمام ہوا۔اس طرح عمران خان کی وزارت عظمیٰ کا دؤر 3 سال 7 ماہ اور 24 دن پرمشتمل رہا،جو کہ 43 ماہ اور 24 دنوں پر مشتمل ہے۔(بشکریہ: جیئونیوز)
جیئو نیور کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پہلی بار عدم اعتماد کامیاب ہوئی ہے اور ایک تاریخ رقم ہوئی ہے۔جبکہ آج 10 اپریل 1973 کو آئین منظور کیا تھا۔انہوں نےکہا کہ” ویلکم بیک ٹو پرانا پاکستان”۔ان کا مزید کہنا تھا کہ”ظلم بڑھتا ہے اور مٹ جاتا ہے، جمہوریت بہترین انتقام ہے "۔
یاد رہے کہ قومی اسمبلی میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوگئی جس کے بعد وہ اب ملک کے وزیراعظم نہیں رہے اور ساتھ ہی عدم اعتماد کے ذریعے ہٹائے جانے والے پاکستان کے پہلے وزیراعظم بن گئے۔(بشکریہ: جیئو نیور)
دوسری جانب سابق وزیراعظم پاکستان نواز شریف کی دختر” مریم نواز شریف”نے اپنے مصدقہ ٹوئٹر ہینڈل پر عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے فوری بعد 22 سیکنڈ کا ایک ویڈیو ٹوئٹ کیا ہے۔جس میں اچانک ایک شیر ابھرتا ہے اور کیمرہ کی جانب دؤڑتا ہوا آرہا ہے۔
بعدازاں سابق وزیراعظم پاکستان نواز شریف کی دختر "مریم نواز شریف” نے اپنے مصدقہ ٹوئٹر ہینڈل پر 2 بج کر 22 منٹ پر اپنے والد نواز شریف کی ایک تصویر ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ” میں نے آپ کو آمریت کے زندانوں میں فاتح کے روپ میں دیکھا.آپ کے ساتھ جیل گزار کر آپ کو فاتح کے روپ میں دیکھا۔میں نے آپ کو کبھی ٹوٹتے نہیں دیکھا۔ہمیشہ آپ کے دشمنوں کو رسوا ہوتے دیکھا۔مبارک ہو میرے قائد اللّہ کے فضل سے آج دنیا نے آپ کو ایک بار مرتبہ پھر فاتح دیکھا. جیئےسدا نوازشریف "۔
"مریم نواز شریف” نے پھر اس کے بعد مزید دو ٹوئٹ کیے ہیں ایک ٹوئٹ میں انہوں نے لکھا ہے کہ”ظلم کا نظام قائم نا کبھی رہا ہے نا کبھی رہ پائے گا۔نواز شریف نے اپنا فیصلہ اس پر چھوڑا تھا جس نے کبھی ناانصافی نہیں کی۔نواز شریف صاحب آج آپ کا صبر، ہر قسم کے جبر سے جیت گیا۔خدا آپ کا سایہ قوم پر سلامت رکھے،آپ کے ہر ساتھی،ہر کارکن کو سلام،جو ڈٹے رہے،حق سے پیچھے نا ہٹے۔
سابق وزیراعظم پاکستان نواز شریف کی دختر "مریم نواز شریف” نے اپنے ایک اور ٹوئٹ میں عمران خان پر طنز کرتے ہوئے لکھا ہے کہ” غرور اور تکبر انسانوں کے کیے نہیں۔ تکبر کو زوال ہے، زوال ہے زوال ہے! اسی لیے عمران خان پاکستان کا ووٹ آؤٹ ہو جانے والا پہلا وزیرِ اعظم ٹھہرا۔”
یاد رہے کہ جاریہ ہفتہ پاکستان سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کے بعد پاکستان کی پارلیمنٹ نے ہفتہ کے دن ملک کے وزیراعظم کے طور پر عمران خان کے مستقبل پر رائے دہی کے لیے طلب کیا گیا تھا کہ ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی جانب سے عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے لیے رائے دہی کو مسترد کرنا غیر آئینی ہے۔اس فیصلے کوعمران خان حکومت کی پاکستان میں اقتدار برقرار رکھنے کی امیدوں اور نئے انتخابات کروانے کے ان کے منصوبوں کے لیے ایک بڑے دھچکےکے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔
پاکستان اسمبلی کا اجلاس ہفتہ کی صبح 10.30 بجے (مقامی وقت) پر طلب کیا گیا تھا۔جس میں رائے دہی ایجنڈے میں چوتھے نمبر پر درج تھی۔عمران خان کی حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف اور شہباز شریف اور شاہ محمود قریشی سمیت اپوزیشن کے درمیان ابتدائی تبادلوں میں اسپیکر اسد قیصر نے سپریم کورٹ کے حکم کو برقرار رکھنے اور پارلیمانی قوانین کے مطابق تحریک عدم اعتماد کے تحت رائے دہی انجام دینے پر زور دیا۔
اس سے قبل اسد قیصر نے اعلان کیا تھا کہ اس کے بجائے بین الاقوامی سازش کے معاملے پر بحث ہونی چاہئے۔اسمبلی مقامی وقت کے مطابق ہفتہ کی دوپہر 12:30 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔لیکن دوبارہ وقت پر شروع ہونے میں ناکام رہی۔اس سوال پر کہ آیا تحریک عدم اعتماد کی رائے دہی سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق کی جائے گی۔بالآخر دوبارہ اسمبلی کا اجلاس منعقد ہوا اور کارروائی جاری ہے۔

