"محبت کی زبان جانور اور چرند پرند بھی باآسانی سمجھ لیتے ہیں"
حِبا اور مینا کی قابل رشک دوستی!
سوشل میڈیا پر دونوں کا ویڈیو وائرل
ہر طرف سے ستائش اور ڈھیروں دعائیں
حیدرآباد: 05۔اپریل(سحرنیوز/سوشل میڈیا ڈیسک)
چار حرفی لفظ”محبت” اور پانچ حرفی لفظ "دوستی” اپنے اندر بہت طاقت رکھتے ہیں۔کسی عاشق اورمعشوق کے درمیان ہونے والی محبت کو ہی محبت نہ مانا جائے کیوں کہ یہ نہ آغاز ہے اور نہ اختتام!محبت کے کئی رنگ اور روپ ہوتے ہیں۔جس سے کسی بھی انسان کی زندگی خوبصورت بنی رہتی ہے۔
کہا جاتا ہے اور یہ سچ بھی ہے کہ”محبت دنیا کی واحد زبان ہے،جسے دنیا کی ہرنسل،ذات پات اور ہرمذہب کے انسانوں کے علاوہ حیوانوں،پالتو جانوروں کے بشمول چرند اور پرند بھی باآسانی سمجھ سکتے ہیں”۔
ماں اور باپ کی اپنے بچوں کے ساتھ کی جانے والی محبت بے لوث اور لافانی مانی جاتی ہے۔جو کہ زندگی کے ساتھ بھی اور زندگی کے بعد بھی قائم رہتی ہے۔
وہیں شوہر اور بیوی کے درمیان پائی جانے والی محبت کبھی تیکھی تو کبھی میٹھی مانی جاتی ہے۔
بچوں کی اپنے ماں باپ کے تئیں محبت کہیں نرم تو کہیں گرم ہوتی ہے!اؤلاد کا سکھ ماں باپ کی ضعیفی میں بہت کام آتا ہےجو ان کی عمر کو چند سال بڑھانے میں معاون ثابت ہوتا ہے!لیکن افسوس کہ موجودہ دؤر میں اس محبت کو بھی کسی کی نظر لگ گئی ہے!
بھائیوں کے درمیان پائی جانے والی محبت گھروں کے درمیان کبھی دیوار نہیں کھڑی کرتی لیکن آج کے زمانے کا کڑوا سچ یہی ہے کہ زیادہ تر بھائی الگ الگ رہنا ہی پسند کتے ہیں۔وہیں آج کے معاشرہ میں چند ایسے خوش قسمت بھائی بھی موجود ہیں جو ایک ساتھ ایک چھت کے نیچے مل جل کر رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔شاید ایسے ہی بھائیوں کے نام نامور شاعر راحت اندوری نے کبھی کہا تھا کہ؎
مِری خواہش ہے کہ آنگن میں نہ دیوار اُٹھے
مِرے بھائی مِرے حصے کی زمیں تُو رکھ لے
دوستوں کے درمیان محبت اور اپنا پن کبھی کبھارخونی رشتوں پربھی بھاری پڑجاتا ہے۔دوستی اگر ملاوٹ اور ذاتی مفاد سے پاک اور بے لوث ہو تو پھر یہ ایک قدرت کا تحفہ ہوتا ہے۔
بھائیوں سے بہنوں کا اور بہنوں سے بھائیوں کا پیار انمول ہوتا ہے۔کیونکہ بہنیں اپنے بھائیوں میں اپنے باپ کے وجود کو تلاش کرتی ہیں تو بھائی اپنی بہنوں میں اپنی ماں کا نقش پالیتے ہیں۔یہ دونوں رشتے بھی ہمیشہ مفاد سے پاک اور مقدس ہوتے ہیں۔
محبت اور دوستی اس دنیا کے دو انمول تحفے ہیں جسے قدرت نے ہمیں عطا کیے ہیں۔اس لیے ضروری ہے کہ ان دونوں رشتوں کی ڈور کو ہمیشہ مضبوطی کے ساتھ سنبھال کر رکھا جائے۔اگر کبھی یہ ڈور ڈھیلی پڑنے لگ جائے تو کوشش کریں کہ ٹوٹنے نہ پائے۔وقت کیسا بھی ہو محبت اور دوستی میں کبھی مفادپرستی،دغابازی اور دھوکہ دہی کی ملاوٹ ہرگز نہ کی جائے۔کیوں کہ ان دونوں کے بغیر کسی بھی انسان کی زندگی اس صحرا کے مانند ہوجاتی ہے جہاں دور دور تک کوئی سایہ نہیں ہوتا!!
سوشل میڈیا پر ان دنوں ایک انتہائی دلنشین ویڈیو وائرل ہوا ہے۔جسے فیس بک،ٹوئٹر،انسٹاگرام پر اب تک لاکھوں لوگ دیکھ چکے ہیں۔کسی کو بھی نہیں معلوم کہ یہ ویڈیو کہاں کا ہے اور اسے کس نے اپنے موبائل فون کے ذریعہ اس ویڈیو کو ریکارڈ کیا ہے؟۔
مگر اس ویڈیو میں ایک معصوم مسکراتی اور بھولی بھالی لڑکی اور اس کے ساتھ موجود ” مَینا Common Myna” ہر سوشل میڈیا صارف کی واہ واہ کے ساتھ ان کی دعائیں سمیٹنے میں مصروف ہیں۔لڑکی کی شکل سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ویڈیو کسی پہاڑی/سیاحتی مقام پر لیا گیا ہے!!
صرف 45 سیکنڈ کے اس مختصر ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے حجاب پہنی ہوئی یہ معصوم لڑکی بار بار اپنے سیدھے سے اپنی ناک دباتے ہوئے اور اپنے سر پر حجاب درست کرتے ہوئے ویڈیو لینے والے شخص کے سوالات کا انتہائی معصومیت اور شرماتے ہوئے اپنا نام "حبا Hiba ” بتاتی ہے۔اس باحیا اور معصوم حبا کے ساتھ ایک” مَینا Common Myna” بھی ہے جن کے درمیان اتنی گہری دوستی اور محبت ہوگئی ہے کہ دونوں ایک دوسرے کو ایک پل کے لیے بھی تنہا چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
ویڈیو لینے والا شخص پوچھتا ہے کہ وہ اس مَینا کو کب سے پال رہی ہیں تو حِبا کا جواب ہوتا ہے کہ ایک سال ہوگیا جب یہ چھوٹا بچہ تھی۔وہ شخص پھر پوچھتا ہے کہ جہاں آپ جاتی ہو یہ آپ کے ساتھ ہی جاتی ہے؟ تو لڑکی کا جواب ہوتا ہے ہاں۔
پھر ویڈیو لینے والا شخص پوچھتا ہے کہ ایک بار اس مَینا کو چھوڑکر بھاگو دیکھتے ہیں۔تو حِبا اس مَینا کو دور اڑاکر بھاگنا شروع کرتی ہے تو مینا Myna بھی پھرتی کے ساتھ اس کے ساتھ اُڑتی ہوئی جاتی ہے اور کچھ دُور حبا کے بھاگنے کے بعد مَینا حِبا کے سر پر بیٹھ جاتی ہے۔
ویڈیو بنانے والا شخص اس لڑکی حِبا سے پوچھتا ہے کہ اس کا کچھ نام رکھا ہے آپ نے؟ تو لڑکی کہتی ہے کہ ہاں اس کا نام "مینا Meena” رکھا ہے۔
پھر وہ شخص پوچھتا ہے اگر آپ اس کو مینا Meena کہہ کر بلاؤ تو آتی ہے؟تو حِبا کا جواب ہوتا ہے ہاں!پھر وہ اپنا ایک ہاتھ اپنے سرکے قریب لے جاکر مینا آجا کہتی ہے تو وہ "مَینا Myna” اس لڑکی کے سر سے اتر کر اس کے ہاتھ پر آجاتی ہے۔سوشل میڈیا پر وائرل اس ویڈیو کو بہت سے میڈیا اداروں نے بھی استعمال کیا ہے۔

